Orya-Maqbool-Jan

لاجورد سے سونا چاندی اور تیل گیس تک

آگرہ کا تاج محل اور لاہور کے شاہی قلعہ کا شیش محل ‘ اگر کسی نے انتہائی دلچسپی سے دیکھا ہو تو اسے سنگ مر مر کے اندر بے شمار بیل بوٹے نظر آئیں گے۔ یہ بیل بوٹے قیمتی پتھروں سے بنائے گئے ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے وہ اس سنگ مر مر کی دیوار کا حصہ ہیں۔ ایسے جیسے کپڑا بنتے وقت اس میں مسلسل ڈیزائن بنائے جاتے ہیں اور جب کپڑا تیار ہو جاتا ہے تو آپ اس پر ہاتھ پھیریں تو آپ کو اس کی یکساں سطح محسوس ہو گی۔ اسی طرح اگر آپ ان بیل بوٹوں پر ہاتھ پھیریں تو وہ سنگ مر مر کا لاینفق حصہ نظر آئیں گے۔ انہیں کاریگروں نے اس خوبصورتی سے جڑا ہے کہ باریک سی لائن بھی نظر نہیں آتی۔ یہ کاریگر اس بلا کے تھے کہ شیش محل میں نولکھا کے ستونوں میں آپ کو ایک انچ مربع میں 125پھول پتیاں نظر آئیں گی۔ ان جڑائو قیمتی پتھروں میں ایک پتھر لاجورد(lapis lazuli)بھی ہے۔ یہ پتھر اس بد نصیب افغانستان سے آ رہا تھاجس کی اسی معدنی دولت پر پورا مغرب بھوکے بھیڑیوں کی طرح اپنے خوفناک جبڑے کھولے کھڑا ہے۔ صرف لاجورد کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو حیرت کا ایک جہان نظر آتا ہے۔ افغانستان سے یہ پتھر نمرود اور فرعون کے زمانوں سے نکالا جاتا تھا اور ان کے محلات کو آراستہ کیا جاتا تھا۔ دریائے فرات کے کنارے ’’اُر‘‘(ur)کا وہ شہر جہاں حضرت ابراہیم ؑ کو نمرود نے آگ میں پھینکا تھا۔ وہاں سے کھدائی کے دوران تقریباً چھ ہزار ایسے برتن ملے ہیں جن میں بیل بوٹے اسی قیمتی لاجورد پتھر سے بنائے گئے تھے۔ مصر میں فراعین مصر کے مقبروں میں جو زیورات ملے ہیں ان میں بھی اسی لاجورد کا استعمال ہوا ہے۔ دنیا میں لاجورد صرف افغانستان کے بدخشاں صوبے میں سرائے سنگ کے علاقے میں ہے۔ یہ وہی بدخشاں ہے جس کا ذکر اقبال نے بندہ مومن کی شان بیان کرتے ہوئے کیا ہے۔ ؎ ہمسایۂ جبریلِ امیں بندۂ خاکی ہے اس کا نشیمن نہ بخارانہ بدخشاں یہ دونوں شہر پانچ ہزار سالہ تاریخ میں اپنے قیمتی پتھروں کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔ شہنشاہوں کے تاج یہاں کے ہیرے جواہرات سے سجتے تھے لیکن اقبال مرد مومن کا ٹھکانہ ان شہروں کو نہیں بلکہ جبریل امیں کی ہمسائیگی کو قرار دیتا ہے۔ دنیا بھر کو قیمتی پتھروں سے مالا مال کرنے والا سرائے سنگ کا علاقہ‘ بدخشاں کا صوبہ اور افغانستان کا ملک آج بھی غربت و افلاس میں ڈوبا ہوا ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان آئی تو اس نے لالچ و ہوس میں اپنے ایک فوجی لیفٹننٹ جان ووڈ “john wood”کو ان قدیم کانوں کو ڈھونڈنے کے لیے بھیجا جوکوچہ کے علاقے میں تھیں۔ اس نے اپنے سفر نامہ میں لکھا ہے: ”If you do not wish to die, avoid the volly of kocha” ’’اگر تم واقعی مرنا نہیں چاہتے تو کوچہ کی وادی کی طرف مت جانا‘‘ اس دور میں لوگ صرف لاجورد کی تلاش میں یہاں نہیں آتے تھے بلکہ زرفشاں کی کانوں سے تانبہ نکالتے۔
اشتہار



بلخاب‘ صوفی قدیمی اور عیناک کے علاقوں سے لعل و جواہر برآمد کرتے تھے۔ اسی ہوس میں ہندوستان میں بیٹھے ہوئے انگریز نے افغانستان سے تین جنگیں لڑیں اور ذلت آمیز شکست کے بعد اپنی سرحدوں میں دبک کر بیٹھ گیا، قومی ریاستیں بن گئیں۔ دوسری جنگ عظیم نے بڑی بڑی نو آبادیاتی طاقتوں کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ اقوام متحدہ اور اس کی اقوام عالم کی ممبر شپ وجود میں آ گئی اور ایک غریب‘ مفلس‘ نادار لیکن خود مختار افغانستان ان اقوام میں زندگی گزارنے لگا۔ اس ملک کے معدنی وسائل پر سب کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ امریکہ کے ’’جیالوجیکل سروے‘‘ نے 1950ء میں اپنی ٹیمیں یہاں بھیجیں تاکہ اس ملک کے چپے چپے میں چھپے زیر زمین خزانوں کو تلاش کریں۔ ساٹھ کی دہائی میں اس تحقیق میں جرمن اور برطانوی بھی شامل ہو گئے۔ انہوں نے مل کر وہاں ایک محکمہ ’’جیالوجیکل سروے آف افغانستان‘‘ قائم کیا۔ ستر کی دہائی میں سوویت یونین کو یہ احساس ہوا کہ یہاں دراصل اسے کام کرنا چاہیے تو اس نے وسیع پیمانے پر اپنی ٹیموں کے ذریعے پورے افغانستان کا سروے شروع کر دیا۔ سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے تھے۔ سوویت یونین کو یہ خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ افغانستان کی کمزور حکومت کو کسی بھی دن ختم کر کے وہاں امریکہ کی حمایتی سرکار مسلط کی جا سکتی ہے۔ اس نے دسمبر 1979ء میں اپنی افواج افغانستان میں داخل کر دیں۔ حالات بدلنے لگے‘ مجاہدین کے حملوں کی وجہ سے روسیوں کا رہنا مشکل ہو گیا۔ شکست خوردہ روسی جب 1989ء میں وہاں سے نکلا تو اپنے پیچھے سروے کے ہزاروں صفحات‘ ڈرلنگ کے آلات اور لاتعداد سائنسی رپورٹیں چھوڑ گئے۔ اس کے بعد کے افغانستان کی کہانی طویل بھی ہے اور دلگداز بھی۔1989ئسے 1995ء تک ایک بدامن افغانستان اور 1995ء سے 2001ء تک طالبان کا پرامن ملک‘ لیکن عالمی برادری سے کٹا ہوا۔ گیارہ ستمبر2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا بہانہ بنا کر اس ملک پر حملہ کیا گیا۔ آگ و خون کی اس جنگ میں 48ممالک کے بھیڑیے شامل تھے۔2004ء میں قبضہ ذرا مستحکم ہوا تو جس مقصد کے لیے آئے تھے وہ شروع ہو گیا۔ امریکہ نے پورے افغانستان میں معدنی وسائل کو ڈھونڈنے کا دو سالہ پروگرام شروع کیا اور 2007ء میں ایک مفصل رپورٹ تیار کر کے للچائی نظروں سے دیکھنے والی دنیا کے سامنے رکھ دی۔ یہ رپورٹ دنیا بھر کو افغانستان کی دولت لوٹنے پر مائل کرنے کے لیے کافی تھی۔ اس کے مطابق تانبہ(57.8)آئرن اور (2,438mt)سونا (2,698kg)برائٹ (151.mt) باکسائٹ(4.5mt) قیمتی پتھر (4.88mt)، تیل اور مائع گیس (1596mmbbl) اورقدرتی گیس(1.57tcf)یہاں موجود ہے۔ ان تمام خزانوں کو افغانستان نہیں بلکہ ہانگ کانگ میں سرمایہ کاری کے لیے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو بلایا گیا۔ بدخشاں‘ زرفشاں‘ خاصیدہ‘ بلخاب اور نمک سر میں بالترتیب سونا‘ سونا اور تانبہ‘ سونا، تانبہ اور لیتھئم کے خزانوں کے ٹھیکے دیئے گئے تھے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سرمائے کی بہتات اور سستی لیبر کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں ان میں سے اکثر ٹھیکے چین لے گیا۔ ستر سال کی دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ جس کا اصل مقصد ان خزانوں تک رسائی تھی ‘ اس کا آج عالم یہ ہے کہ وہ جو ٹیکنالوجی پر زعم اور برتری لے کر داخل ہوئے تھے‘ ان کی ذلت کا عالم یہ ہے کہ ان کے تیار کردہ افغان فوجی روزانہ 45کی تعداد میں ہلاک ہو رہے ہیں۔ افغانستان کی اس بندر بانٹ میں شامل 48ممالک بھاگ گئے لیکن آخر میں امریکہ‘ بھارت اور ایران رہ گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد ایران کا کردار بھی ڈانواں ڈول ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پڑوس میں بننے والی سی پیک کی سڑکیں اور صنعتی تجارتی مراکز ایک ایسا نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں ایک طرف چین ایک بڑے عالمی تجارتی منظر نامے میں سب سے بڑے کردار کے طور پر ابھرے گا اور دوسری جانب ستر فیصد افغانستان پر قابض طالبان اس کی صنعتوں کی ترویج اور مال کی ترسیل میں ممدو معاون ہو سکتے ہیں۔ افغانستان کے ’’لاجورد سے سونا چاندی اور تیل گیس تک‘‘سب امریکہ اور بھارت کے ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا ہے اور ان افغانیوں کے ہاتھوں سے بھی جو مٹھی بھر ہیں لیکن امریکہ کی مدد سے کابل پر حکومت کر رہے ہیں۔ آخری چوٹ سعودی عرب کی شمولیت ہے‘ جو امریکہ نہیں بلکہ چین کے ایماء پر ہوئی ہے۔ یہ سعودی عرب کا پہلا غیر امریکی فیصلہ ہے۔ ایسے میں سی پیک کی کل لاگت اگر 64ارب ڈالر ہے تو بھارت‘ امریکہ اور ایران کے ساتھ ساتھ دیگر خلیجی ریاستیں اسے ناکام بنانے کے لیے تقریباً120ارب ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔ متبادل سڑکیں‘ بندرگاہیں‘ کان کنی‘ صنعتیں‘ پراپیگنڈہ وغیرہ۔ لیکن اب شکست ان کے ماتھے پر لکھی نظر آ رہی ہے، روز روشن کی طرح عیاں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں