Cabnet

وفاقی کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدوں کی منظوری دیدی

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدوں کی منظوری دیدی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 100 روزہ ایجنڈے پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا اور وزرا نے اپنی وزارتوں کی کارکردگی رپورٹ بھی پیشکی۔ اس کے علاوہ کابینہ کے اجلاس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدوں کی منظوری دیدی گئی ہے۔

کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گا جب کہ سعودی عرب کی طرح یو اے ای کا وفد بھی پاکستان کے دورے پر آرہا ہے اور ترکی نے اسلام آباد میں یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت کے 100 روزہ پلان کی تفصیلات کیلئے ایک ویب سائٹ لانچ کیہے جب کہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنایا جائے گا، کمیٹی بنادی ہے جس کے سربراہ شفقت محمود ہوں گے، کسی ملازم کو فارغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ نے سوا لاکھ کے قریب ملازمین کو مستقل کیا، جس کی بات کرو تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں جب کہ اسحاق ڈار دور میں غیرقانونی طور پر بھرتی ہونے والے افراد کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

اس موقع پر وزیرپٹرولیم و قدرتی وسائل غلام سرور خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گوادر میں آئل ریفائنری کے قیام پر اتفاق ہوا ہے، آرامکو اور پی ایس او کے مابین معاہدہ کیا جائے گا جس پر ایم او یو سائن کیا جائے گا اور صوبائی حکومت کو بھی آن بورڈ لیا جائے گا۔

غلام سرور نے کہا کہ چین کے خدشات والی خبروں میں صداقت نہیں، ہمیں 5 ریفائنریز کی ضرورتہے جب کہ 10 بلاکس کی اوپن آکشن کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے گیس کے نظامسے 30 فیصد لوگ استفادہ کرتے ہیں، گیس قیمتوں پر 3 کے بجائے اب 7 سلیبز بنائی ہیں، 80فیصد صارفین کے لیے صرف 10 سے 20 فیصد اضافہ کیا گیاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں