Pakistan-Saudi-Arabia

پاکستان میں سعودی عرب کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری آنے والی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے سعودی عرب کو گوادر میں تیل ریفائنری لگانے کی منظور دے دی۔

انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا وفد بھی پاکستان آرہا ہے جو یہاں بڑی سرمایہ کاری کرنے کا خواہاں ہے، تاہم اس وفد کو سرمایہ کاری بورڈ دیکھے گا۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ سابق وفاقی وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار کی جانب سے جن اعلیٰ افسران کو تعینات کیا گیا تھا انہیں ان کے عہدوں سے برطرف کردیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں اُن تمام اعلیٰ افسران اور اداروں کے سربراہوں کو برطرف کردیا گیا ہے جنہیں اسحٰق ڈار نے تعینات کیا تھا۔

برطرف ملازمین میں نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے چیئرمین سعید احمد، فرسٹ وومن بینک کی صدر طاہرہ رضا، زرعی ترقیاتی بینک کے صدر اور سی ای او سید طلعت محمود، ایس ایم ای بینک کے صدر احسان الحق خان کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔

جن ریگولیٹرز کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے ان میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک شمس الحسن، مسابقتی کمیشن پاکستان کی چیئرپرسن ایم ایس وادیا خلیل، مسابقتی کمیشن پاکستان کے رکن ڈاکٹر محمد سلیم اور شہزاد اکبر کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے غیر قانونی طریقے سے سرکاری افسران کو تعینات کرنے کا اختیار سابق وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار کو دیا تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے کہا تھا کہ وزیرِاعظم ہاؤس کو ایک جامعہ بنائیں گے، تاہم اس معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے کابینہ کی ایک کمیٹی بنادی گئی ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم ہاؤس کی 98 گاڑیوں میں سے 71 گاڑیاں فروخت کے لیے پیش کی گئیں جن میں سے 62 گاڑیاں فروخت ہوگئیں جن سے حکومت کو 18 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی، اسی طرح 8 بھینسوں کو فروخت کرکے ان سے 23 لاکھ روہے وصول ہوئے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد وزیرِاعظم ہاؤس کے اخراجات کو کم سے کم کرنا ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ صرف ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کا بجٹ ایک ارب روپے سے زائد ہے، جبکہ سرکاری ملازمین میں کتنے افراد ایسے بھی ہیں جو کبھی دفتر نہیں آئے لیکن اب وہ بھی پینشن کے حق دار ہوگئے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وفاق، خیبرپختوا اور پنجاب کی ملکیت میں آنے والے 2 ہزار 4 سو 67 کی نشاندہی کی گئی ہے جن کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے وزیرِدفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی جائزہ لے گی۔

اس موقع پر وفاقی وزیرِ پیٹرولیم غلام محمد سرور کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ وزیرِ اعظم عمران خان نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور وہاں وزیرِ اعظم کا تاریخی استقبال کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کے دورے سے متعلق یہ باتیں پھیلائی جارہی تھیں کہ وہاں ہم ہاتھ پھیلانے گئے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ پاکستان نے سعودی عرب کو سرمایہ کاری کی دعوت دی جس میں وہ دلچسپی لیتے ہوئے نظر آئے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سعودی وفد نے گوادر کا دورہ کیا جس کے بعد انہوں نے دلچسپی کا اظہار کیا کہ وہ یہاں تیل کی ریفائنری لگائیں گے۔

وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا کہ تیل ریفائنری سے متعلق معاہدہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے مابین (جی ٹو جی) ہوگا، جس میں پاکستان کی جانب سے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور سعودی عرب کی جانب سعوی عربین آئل کمپنی (ارامکو) معاہدے کو حتمی شکل دے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے کے لیے سعودی وزیرِ توانائی اسلام آباد آئیں گے تب اس ریفائنری کی ساخت اور اس کی لاگت کو بھی حتمی شکل دی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ جب اس معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی تو اس میں بلوچستان حکومت کو بھی شامل کیا جائے گا۔

تاہم ابھی تک صرف اس کے ایم او یو پر ہی اتفاق ہوا ہے جس کی وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں