کرتار پور بارڈر کے کھلنے کا انحصار انڈیا پر ہے: پاکستان

پاکستان نے کہا ہے کہ کرتارپور بارڈر کے کھلنے کا انحصار انڈیا کے ردِ عمل پر ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان نے مذاکرات شروع کرنے کی درخواست نہیں کی تھی بلکہ اِس سلسلے میں انڈیا کی جانب سے رابطہ کیا گیا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ بقائے باہمی اور پرامن طریقے سے رہنے کی صرف کوشش ہی کر سکتا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مہینے انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خان سے رابطہ کر کے بامعنی اور مثبت بات چیت کا عندیہ دیا تھا۔ جس کے کچھ دنوں کے بعد وزیراعظم عمران خان نے دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کے درمیان ملاقات کی تجویز پیش کی تھی۔

انڈیا نے اِس تجویز سے اتفاق کیا تھا لیکن چند ہی روز کے بعد اِس سے انکار کر دیا تھا۔ انڈیا نے انکار کی وجہ بتاتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ کشمیر میں ایک انڈین فوجی کی ہلاکت میں پاکستان ملوث ہے۔

وزیراعظم عمران خان سمیت پاکستانی حکام نے انڈیا کی جانب سے انکار پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اِسے مایوس کن قرار دیا تھا۔

کرتارپور کہاں ہے؟

کرتار پور میں واقع دربار صاحب گرودوارہ کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند کلومیٹر کا ہی ہے اور نارووال ضلع کی حدود میں واقع اس گرودوارے تک پہنچنے میں لاہور سے 130 کلومیٹر اور تقریباً تین گھنٹے ہی لگتے ہیں۔ یہ گرودوارہ تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے۔ یہاں سے انڈیا کے ڈیرہ صاحب ریلوے سٹیشن کا فاصلہ تقریباً چار کلومیٹر ہے۔ راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے۔ گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقام ہے۔ پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہے۔

کرتارپور سکھوں کے لیے اہم کیوں ہے؟

کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ یہیں گرودوارے میں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔

کرتارپور پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان اب تک کیا ہوا؟

کرتار پور- ڈیرہ بابا نانک راہداری کے حوالے سے پہلی بار 1998 میں انڈیا اور پاکستان میں مشاورت کی گئی تھی۔ گزشتہ مہینے پاکستان نے کہا تھا کہ پاکستان اس سلسلے میں جلد ہی انڈیا سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور بارڈر کھول دے گا جس کے بعد یاتری ویزے کے بغیر گرودوارہ دربار صاحب کے درشن کر سکیں گے۔ پہلے یہ بات سابق انڈین کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے حوالے سے سامنے آئی جنھوں نے بتایا کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان سے سکھوں کے لیے کرتار پور بارڈر کھولنے کی بات کی ہے۔ پاکستان کے وزیراطلاعات فواد چوہدری نے بھی اس کے بعد کہا تھا کہ سکھ یاتریوں کے لیے سرحد کھولنے کے حوالے سے ایک نظام وضع کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں