supreme court Pakistan

ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ وزیر اعلی پنجاب کے دفتر کے حکم پر ہوا

وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی بیٹی کے ساتھ پولیس اہلکاروں کے مبینہ ناروا سلوک پر ڈسٹرکٹ پولیس افسر پاکپتن کے تبادلے کی تحقیقات سے متعلق ایک رپورٹ بدھ کو سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ وزیر اعلی پنجاب کے دفتر کے حکم پر کیا گیا ہے۔

انکوائری رپورٹ پیش ہونے کے بعد وزیر اعظم کی اہلیہ کے سابق شوہر خاور مانیکا عدالت میں رو پڑے اور کہا کہ کیا وہ اپنی بیٹی کے ساتھ پولیس کے ناروا سلوک کی شکایت کیا اپنی بیٹی کی والدہ (بشری بی بی) یا وزیر اعظم عمران خان سے کرتے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خاور مانیکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور کیا اُنھیں داد رسی کے لیے احسن جمیل گجر ہی ملا تھا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان بارہا کہہ چکے ہیں کہ پنجاب پولیس کو سیاسی اثرو رسوخ سے پاک کرنا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ڈی پی او کے تبادلے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

اس رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار، احسن جمیل گجر اور پنجاب پولیس کے سابق سربراہ کلیم امام کو نوٹس جاری کردیا ہے اور حکم دیا ہے کہ وہ تین روز میں اس کا جواب دیں۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب کو آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف یاد کرلینا چاہیے۔ آئین کا یہ آرٹیکل کسی بھی رکن پارلیمان کی نااہلی سے متعلق ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا وزیرِ اعلیٰ پنجاب اس بات پر نا اہل ہو سکتے ہیں؟

انکوائری رپورٹ کیا کہتی ہے؟

قومی انسداد دہشت گردی کے محکمے کے افسر مہر خالد داد لک نے ڈی پی او کے تبادلے سے متعلق انکوائری رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کے سابق سربراہ کلیم امام نے ’سب اچھا‘ کی رپورٹ دے کر محض ایک ربڑ سٹمپ کا کام کیا ہے۔ کلیم امام ان دنوں سندھ پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خاور مانیکا کی بیٹی کے ساتھ پولیس اہلکاروں کے ناروا سلوک پر سابق آئی جی نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی رپورٹ 30 اگست کو آ گئی جبکہ انکوائری رپورٹ آنے سے پہلے ہی ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا تبادلہ 28 اگست کو کر دیا گیا۔ کلیم امام نے اس انکوائری رپورٹ کا بھی انتظار نہیں کیا جو اُنھوں نے خود اپنے حکم پر قائم کی تھی۔

مہر خالد داد کی رپورٹ کے مطابق ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ پنجاب کے وزیر اعلی کے دفتر سے جاری ہوا اور وزیر اعلی کو اس بات کا علم بھی ہے۔

وزیر اعلی پنجاب کے قریبی دوست احسن جمیل گجر جن کی اہلیہ خاتون اول بشری بی بی کی دوست ہیں، کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُنھوں نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو وزیر اعلی ہاؤس میں بلا کر اُنھیں خاور مانیکا کے ڈیرے پر جا کر معاملے کو سلجھانے کے بارے میں کہا تھا۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈی پی او پاکپتن کے اس موقف کو بھی تقویت ملتی ہے جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ احسن جمیل گجر کی طرف سے اُنھیں خاور مانیکا کے ڈیرے پر جاکر معافی مانگنے کے بارے میں کہا گیا تھا لیکن اُنھوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ احسن جمیل گجر نے پولیس حکام کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ بھی اختیار کیا۔

وزیر اعلی پنجاب، ان کے دوست احسن جمیل گجر اور آئی جی پولیس کلیم امام نے اس واقعہ سے متعلق سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی بھی مانگ رکھی ہے تاہم ابھی تک عدالت عظمی نے اُن کی معافی قبول نہیں کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں