Orya-Maqbool-Jan

اب سرد نہیں گرم جنگ

سرد جنگ کا مفہوم پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے کہ گزشتہ ستر سال سے یہ جنگ ان کی سرزمین پر لڑی جا رہی ہے۔ گولہ و بارود سے ان کے شہر تباہ ہو رہے ہیں اور قتل و غارت سے ان کے ہرے بھرے میدان لہو رنگ ہو چکے ہیں۔ کیا خوبصورت استعارہ یا آج کے دور کے مطابق بیانیہ ایجاد کیا گیا تھا ’’سرد جنگ (Cold War)‘‘۔ جنگ بھی کبھی سرد ہوئی ہے۔ البتہ یہ واقعی ان قوموں کے لیے سرد ہی تھی جو دور بیٹھ کر اس کا تماشہ دیکھتی تھیں یا پھر جن کے اسلحے کی فیکٹریاں اور جنگی سازوسامان کے کارخانے رات دن مال کما رہے تھے اور آج بھی کمائے چلے جا رہے ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز سے یورپ کو قوم پرستانہ نفرت اور تعصب نے جنگ کی ہولناکیوں کا شکار کر دیا۔ 28جولائی 1914ء کو فرانس، برطانیہ، روس، اٹلی اور جاپان کے ممالک نے جرمنی، آسٹریاوہنگری، بلغاریہ اور خلافت عثمانیہ کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ 1917ء میں روس میں بالشویک کمیونسٹ انقلاب آیا، زار روس کی حکومت ختم ہو گئی تو روس نکل گیا لیکن دو دراز بسنے والا امریکہ اس میں شامل ہو گیا۔ تقریباً سات کروڑ فوجی دستے اس میں شامل ہوئے جن میں چھ کروڑ یورپ کے ممالک سے تعلق رکھتے تھے اور ایک کروڑ ہندوستان جیسی کالونیوں سے بھرتی کر کے لائے گئے تھے۔ اس جنگ کی تباہ کاریوں میں براہِ راست مرنے والوں کی تعداد تقریباً دو کروڑ بتائی جاتی ہے لیکن چونکہ پورا خطہ صحت کی سہولیات سے دور ہو گیا تھا، اس لیے جب جنگ کے آخری سال انفلوئنزا کی وبا پھیلی تو دیکھتے ہی دیکھتے دس کروڑ لوگ لقمۂ اجل بن گئے اور شہروں دیہاتوں میں دوا دینے والا تو دور کی بات ہے لاشیں دفن کرنے والا بھی میسر نہ آتا تھا۔ موت کی وادیوں میں بسر کرنے کے بعد پیرس کے محلاتی مضافات میں 1919ء میں امن کانفرنس ہوئی۔ یہ علاقہ ’’ورسائی‘‘ کہلاتا ہے جہاں فرانس کے بادشاہوں نے سونے چاندی سے آراستہ محل بنائے تھے اور اسی چھوٹے سے شہر سے انقلابِ فرانس کا آغاز بھی ہوا تھا۔ 28جون 1919ء کو معاہدہ ہوا اور اس کی کوکھ سے امن کی فاختہ برآمد ہوئی، جس کا نام لیگ آف نیشنز رکھا گیا۔ ’’ممالک کی عالمی تنظیم‘‘ امن کی اس فاختہ کے قیام کے صرف بیس سال بعد مغربی دنیا ایک بار پھر قوم پرستانہ تعصب کے نام پر 1939ء میں الجھ پڑی۔ اس دفعہ اس جنگ میں تقریباً تیس کے قریب ممالک شامل تھے۔ چار اتحادی قوتوں کے لیڈر اس جنگ کے دوران مقبول ہوئے۔ امریکہ کا فرینکلن روز ویلٹ، برطانیہ کا چرچل، روس کا سٹالن اور چین کا چیانگ کائی شیک۔ جب کہ دوسری جانب جرمنی کا ہٹلر، جاپان کا ہیروہیٹو اور اٹلی کا مسولینی آج بھی معتوب تصور ہوتے ہیں۔ دونوں جانب سے لڑنے والے قوم پرستانہ متعصب جذبات سے آلودہ تھے اور اپنی قوم کی نسلی برتری کے ترانے گاتے تھے جبکہ دوسری اہم حقیقت یہ ہے کہ ان کی اکثریت جمہوری طور پر منتخب رہنمائوں کی تھی۔ سوائے روس اور چین کو چھوڑ کے، سب کے سب عوام کے ووٹ لے کر برسراقتدار آئے تھے۔ اس جنگ کو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا خونی معرکہ کہا جاتا ہے۔ جس کی زد میں آنے والے براہِ راست نو کروڑ لوگ لقمۂ اجل بنے، جبکہ اس جنگ کے نتیجے میں پھیلنے والی بیماریوں اور قحط سے بھی اتنے ہی افراد داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔

اشتہار


اتحادی افواج نے جنگ جیت لی۔ امن کی فاختہ لیگ آف نیشنزکو ذبح کر کے ایک نئی فاختہ ’’اقوام متحدہ‘‘ کا جنم ہوا اور اس کی سکیورٹی کونسل میں پانچ عالمی طاقتوں کو ویٹو کا اختیار دے کر انہیں دنیائے امن کے سیاہ سفید کا مالک بنا دیا گیا۔ یہ تھیں امریکہ، روس، فرانس، برطانیہ اور چین۔ اس کے بعد اس دنیا میں امن اور جنگ کا مستقبل ان کے ہاتھوں میں دے دیا گیا۔ چونکہ یہ جنگ امریکہ کی فوجی مدد سے جیتی گئی تھی اور امریکہ کی مالی امداد سے ہی یورپ کے ممالک میں بحالی کا کام شروع ہوا تھا، اس لیے بظاہر امریکہ دنیا کا بلا شرکتِ غیرے حکمران بن کر ابھرا۔ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے ذریعے امریکی ڈالر کی بالادستی پوری دنیا پر مسلط کر دی گئی۔ ایک خفیہ معاہدے کے تحت دنیا میں موجود تمام نوآبادیاتی قوتوں کو اپنے زیر تسلط علاقے آزاد کرنا تھے، سو بھارت اور پاکستان جیسے کئی خطوں سے برطانیہ اور فرانس نے اپنا بوریا بستر گول کر لیا۔ اس لیے کہ اب امریکہ یہاں معاشی و عسکری طور پر اپنے پنجے گاڑنا چاہتا تھا۔ طاقت اور جنگ کا بھی اپنا نشہ ہوتا ہے۔ انہی پانچ عالمی طاقتوں میں روس کو یہ خمار چڑھا کہ وہ دنیا بھر کے ممالک میں بسنے والے مزدوروں اور کسانوں کا پرچم اٹھا کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی معاشی سلطنت کو تباہ و برباد کر دے۔ یوں دنیا بھر میں بظاہر نظریات کی ایک جنگ شروع ہو گئی۔ اس نظریات کی جنگ میں ایک فیصلہ کیا گیا کہ اب یہ جنگ صرف اور صرف پسماندہ، غیر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں لڑی جائے گی۔ اسے عرف عام میں سرد جنگ کا نام دیا جاتا ہے جو 1947ء سے شروع ہو کر سوویت یونین کے زوال یعنی 1991ء تک 44سال لڑی گئی۔ یورپ اور امریکہ کے علاوہ ہر خطہ میدان جنگ تھا۔ یہ بظاہر ملکوں کے درمیان جنگ بھی تھی اور ملکوں کی آبادی کی آپس میں سول وار بھی۔ ان جنگوں میں 1964ء سے شروع ہونے والی گیارہ سالہ ویت نام جنگ، کوریا کی چار سالہ جنگ، ایران عراق جنگ، عراق امریکہ جنگ قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن ہر ملک میں آزادی، حریت یا پھر کمیونسٹ انقلاب کو دبانے یا قائم کرنے کے نام پر جو خون کی ہولی کھیلی گئی اس سے جنوبی امریکہ سے لے کر فلپائن تک کوئی پسماندہ ملک محفوظ نہ رہ سکا۔ یہ سارے ملک وار تھیٹر بن گئے اور اسلحہ ساز ملک انہیں اسلحہ بیچ کر امیر ترین ہوتے چلے گئے۔ 1991ء میں سوویت یونین کی تباہی کے بعد امریکہ ایک دفعہ پھر عالمی طاقت بن گیا، مگر اب اس طاقت نے لڑنے کے لیے ایک نیا عفریت گھڑ لیا جسے اسلامی شدت پسندی اور دہشت گردی کہتے ہیں۔ لیکن اس جنگ میں امریکہ کا سامنے کرنے والے صرف اور صرف غریب مسلمان ممالک تھے، عراق، افغانستان، شام، لیبیا، وغیرہ۔ لیکن اس 27سالہ دور میں 18سالہ دہشت گردی کی جنگ کے بعد اب امریکہ اور یورپ کی سترہ کے قریب خفیہ ایجنسیوں نے اپنی رپورٹوں میں یہ خطرہ ظاہر کیا ہے کہ روس اور چین کے گٹھ جوڑ اور ان کے معاشی طور پر طاقتور ہو جانے کی وجہ سے دنیا ایک بار پھر ایک لمبی سرد جنگ کا شکار ہونے جا رہی ہے۔ یعنی امریکہ اور یورپ ایک طرف اور روس اور چین دوسری طرف، دنیا کے پسماندہ ممالک کی سرزمین پر اپنے مفادات کی جنگ لڑنے جا رہے ہیں۔یعنی آگ و خون اور اسلحہ و بارود کی کشمکش میں اب بھی زمین غریب ممالک کی ہی استعمال ہو گی۔ اس کا آغاز شام میں امریکہ اور روس کشمکش میں ہو چکا ہے۔ دیرالزور کے علاقے سے لے کر حلب اور ادلب تک دونوں ایک دوسرے کے اتحادیوں کو قتل کر رہے ہیں، لیکن یہ خود اپنے ملکوں میں محفوظ ہیں۔ شاید اب نہ وہ وقت ہے اور نہ کوئی اس جنگ کو اپنی سرحدوں تک آنے سے روک سکے گا۔ تیسری عالمی جنگ (ملحمۃ الکبریٰ) یعنی سب سے بڑی عالمی جنگ کا آغاز ہے۔ جس کا پتہ یہ حدیث اور اس سے منسلک درجنوں حدیثیں دیتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک فرات سے سونے کا پہاڑ نہ نکلے، لوگ اس پر جنگ کریں گے اور ہر سو میں سے ننانوے مارے جائیں گے، ہر بچنے والا، یہی سمجھے گا کہ شاید میں ہی اکیلا بچا ہوں(مسلم)‘‘ امریکہ اور روس نے جب دیرالزور کو تقسیم کیا تو سرحد فرات کا دریا بنا دی گئی۔ سونے کا پہاڑ جو پیٹرو ڈالر کی صورت ہے جو سونے کا متبادل ہے وہ ظاہر ہو چکا اور یورپ میں اتنا اسلحہ جمع ہو چکا ہے، جو جنگ عظیم دوم سے تین گنا زیادہ ہے۔ اب سرد جنگ ممکن نہیں رہ گئی۔ صرف ایک اشارے کی دیر ہے دنیا پوری گرما گرم ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں