Mike-Pompeo-Shah-Mehmood-Qureshi-Pakistan-USA

امریکی ادارہ کی صوبہ سندھ کے داخلی امور میں مداخلت کا انکشاف

اسلام آباد: صوبہ سندھ کے داخلی امور میں امریکی کانگریس کے اراکین پر مشتمل ایک خود ساختہ ادارے کانگریشنل سندھی کاکس کی مداخلت کا انکشاف ہوا ہے ۔ مذکورہ ادارے نے پاکستان میں آبی وسائل کی تقسیم کو سندھ کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیوکی حالیہ ملاقات میں دو طرفہ باہمی تعلقات میں رخنہ ڈالنے کوشش کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ کانگریشنل سندھی کاکس بنیادی طور پر امریکی کانگریس کے اراکین پر مشتمل ایک ادارے کے طور پر جانا جاتا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ یہ ادارہ پاکستان اور امریکہ میں بسنے والے سندھیوں کے حقوق کے تحفظ کا علمبردار ہے ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ ادارے کانگریشنل سندھی کاکس کی سربراہی اور رکنیت میں ایک بھی سندھی فرد شامل نہیں جبکہ اس ادارے کی سربراہی امریکی ریاست کیلیفورنیا سے منتخب کانگریس کے رکن براڈ شرمین جبکہ اس ادارے کے بنیادی اراکین میں نیو یارک سے رکن کانگریس کارولین مالونے ، ایریزونا سے رکنِ کانگریس کرسٹن سائنما، کیلفوفرنیا سے رکنِ کانگریس ایڈم شف، ورجینیا سے باربرا کومسٹاک، نیو یارک سے رکنِ کانگریس لوئس سلاٹر اور کیلیفورنیا سے ڈینا روہراباشر شامل ہیں۔ امریکی ادارے کانگریشنل سندھی کاکس کی جانب سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو کو یکم اکتوبر 2018ء کو ایک خط لکھا گیا جس میں آبی وسائل کی تقسیم میں سندھ کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک اور وہاں انسانی حقوق کی پامالی کو بنیاد بنا کر امریکی وزیر خارجہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ٹھیک ایک روز بعد پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں اس معاملے کو خصوصی طور پر اٹھائیں۔ پاکستان کے اندورونی معاملات میں مداخلت کے مذکورہ ادارے کی جانب سے لکھے گئے اس خط کی ایک کاپی روزنامہ 92 نیوز کے پاس محفوظ ہے جو کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم آبی امور کے مختلف اداروں میں سندھی قوم پرست جماعتوں کے حامی افسران کی جانب سے تقسیم کرائی گئی ہے ۔ مذکورہ ادارے نے پاکستان اور امریکہ کے مابین دو طرفہ باہمی تعلقات کے فروغ کیلئے ہونے والی وزراء خارجہ کی اس ملاقات میں رخنہ ڈالنے کیلئے اس خط کا جو متن تیار کیا ہے اس میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ سندھ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جانب سے سندھی افراد کی جبری گمشدگی اور صوبہ سندھ میں آبی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور دریائے سندھ پر تجویز کردہ اور بنائے جانے والے ڈیموں کی وجہ سے صوبہ سندھ کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہاں قحط جیسی صورتحال پیدا ہونے کے خدشات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے ۔ امریکی کانگریس کے اراکین کی جانب سے یہ خط عین اس وقت لکھاگیا جب پاک امریکہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے حوالے سے دونوں ممالک کی سفارتی تعلقات پر کوششیں جاری ہیں۔ مذکورہ ادارہ اس سے قبل بھی صوبہ سندھ میں مذہبی عدم آزادی، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے پاکستان کے حالیہ دورے اور دیگر ملکی داخلی و ریاستی امور کو بنیاد بنا کر عالمی سطح پر پراپیگنڈاکرتا رہا ہے تاہم حیران کُن بات یہ ہے اس ادارے میں پاکستان سے سندھی برادری کا کوئی بھی رکن شامل نہیں ہے ۔ یاد رہے پاکستان میں کام کرنے والی جن غیر ملکی ترقیاتی تنظیموں کو ریاست مخالف سرگرمیوں کی بنیاد پر آئندہ 60 دنوں میں پاکستان سے واپس جانے کے احکامات جاری کیے گئے ان میں میں سے زیادہ تر غیر سرکاری تنظیموں کا تعلق بھی امریکہ سے ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں