انڈونیشیا زلزلہ : 2000 کے قریب لاشیں برآمد

انڈونیشیا میں مقامی حکام نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے جزیرہ سولاویسی میں آنے والے خوف ناک زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 2000 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس تعداد میں اضافے کی توقع ہے کیوں کہ ہزاروں افراد ابھی تک لا پتا ہیں۔

انڈونیشی فوج کے ترجمان محمد توہیر کے مطابق بالو شہر اور اس کے مضافات سے اب تک 1944 لاشیں مل چکی ہیں۔ یاد رہے کہ 28 ستمبر کو مذکورہ علاقوں میں 7.5 شدّت کا زلزلہ آیا تھا جس کے بعد سونامی کے طوفان نے متاثرہ علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

حکام کو اندیشہ ہے کہ 5 ہزار لا پتا افراد ممکنہ طور پر ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

لاشوں کو نکالنے اور شمار کرنے کا عمل جاری ہے تا ہم اب زندہ مل جانے والوں کے حوالے سے امید باقی نہیں رہی۔

انڈونیشی حکومت بالو شہر کے نزدیک حالیہ قدرتی آفت سے تباہ ہو جانے والے دو قصبوں بیٹوبو اور بالاروا کو اجتماعی قبریں بنا کر انہیں اسی حال میں چھوڑ دینے پر غور کر رہی ہے۔

علاقے میں تقریبا 2000 افراد کو ہنگامی طور پر انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں پینے کے صاف پانی کی بھی قلت ہے۔

انڈونیشی فوج اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے زیادہ وسیع پیمانے پر انسانی امداد پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں حائل لوجسٹک رکاوٹوں کو بتدریج پارکیا جا رہا ہے۔

البتہ دور دراز علاقوں میں نقصان کا حجم ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا۔ ہیلی کاپٹروں نے ابتدائی طور پر صرف غذائی مواد اور سامان پہنچایا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں