Papa, what have you done?

آن لائن برطانوی اخبار پڑھتے ہوئے ایک خبر پر نظر جا ٹھہری‘ لکھا تھا: مافیا کے ایک پرانے قاتل نے ایک ٹی وی چینل پر ہرجانے کا مقدمہ کیا ہے اور ایک ملین یورو ہرجانہ مانگا گیا ہے۔ اس پٹیشن میں اس مافیا کے قاتل کارکن کا کہنا ہے کہ اس کی زندگی پر ایک ٹی وی ڈرامہ بنایا گیا تھا ‘جس میں انکشاف کیا گیا کہ اس نے مافیا کے کہنے پر بیس افراد کو قتل کیا۔

اس کی چودہ برس کی بیٹی نے وہ ڈرامہ یا فلم دیکھی اور دیکھنے کے بعد وہ اس کے پائوں سے لپٹ کر روتی رہی اور پوچھتی رہی: پاپا یہ آپ نے کیا کر دیا۔ اس کے بعد اس کی بیٹی نے خود کو کمرے میں بند کر لیا اور چھ ماہ تک اپنے باپ سے کوئی بات نہ کی۔ وہ کمرے سے صرف سکول جانے کے لیے نکلتی اور واپس آ کرکمرے میں بند ہو جاتی۔ اب اس کا کہنا ہے کہ اس نے وہ بیس قتل نہیں کیے تھے۔

ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ برے لوگوں کی اولادیں بھی ان جیسی ہوتی ہیں ‘ انہیں اگر حرام کھلایا جائے گا تو وہ حرام اولاد کی شکل میں سامنے آئیں گے۔ لیکن ایک مافیا کے کرائے کے قاتل کے گھر میں ایک ایسی بچی پیدا ہوئی جس نے ایک ٹی وی سیریز دیکھی تو وہ پھٹ پڑی۔

تو کیا ہر انسان کی اپنی اپنی اخلاقیات ہوتی ہیں؟ باپ برا ہو تو ضروری نہیں اولاد بھی بری ہو؟

باپ کرائے کا قاتل بن گیا‘لیکن بچی یہ مان ہی نہیں سکتی تھی کہ اس کا باپ مافیا کا ہٹ مین ہے۔ ہو سکتا ہے جب باپ نے یہ کام شروع کیا ہو تو اس کے پاس یہی جواز ہو کہ لوگوں کو قتل کرنا بھی تو ایک طرح کی نوکری ہے‘ ایک جاب ہے جو اسے سرانجام دینا ہے اور اس کے بدلے میں یا معاوضے کے طور پر اسے پیسے ملیں گے‘ جس سے وہ گھر چلائے گا اور اپنے بچوں کو لکھا پڑھا کر معاشرے کا اچھا انسان بنائے گا ۔

اب بچی کی جانب سے اپنے باپ سے پوچھے گئے اس سوال پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ کیا والدین جب اپنا گھر چلانے‘ بچوں کو کھلانے پلانے اور بڑا کرنے کے نام پر ہر طرح کا غلط کام کررہے ہوتے ہیں تو انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ کل کلاں جب یہی بچے بڑے ہوں گے تو وہ ان کی ستائش کریں گے یا ان کی مذمت؟

ہوسکتا ہے اکثر والدین گھر پر یہ ظاہر کرتے ہوں کہ وہ دنیا کی بہترین جاب کرتے ہیں اور بچوں کو بھی اس عمر میں اپنے والدین کے پیشے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی‘ نہ اس بات سے کہ وہ پیسے کہاں سے لا رہا ہے۔ ان کے خیال میں ان کا باپ‘ جو ہر بچے کا پہلا ہیرو ہوتا ہے‘ غلط کام کر ہی نہیں سکتا۔

یوں فطری طور پر بچے اپنے باپ پر اعتبار کرتے ہیں۔ تو اس بچی کو باپ کے ماضی بارے پتہ نہ تھا مگرجب اس نے ٹی وی پر سیریز دیکھی تو اسے احساس ہوا کہ وہ جس انسان کو اپنا باپ سمجھتی رہی وہ لوگوں کو مافیا کے لیے قتل کرتا تھا اور اس کے اسے پیسے ملتے تھے۔

یقینا ایک حساس بچی کو خیال آیا ہوگا کہ اس کے دوست‘ کلاس فیلوز بھی یہ سیریز دیکھنے کے بعد سب کچھ جان جائیں گے۔ شاید معاشرے کا دبائو تھا جس نے اس بچی کو باپ کے خلاف ردعمل پر مجبور کیا‘ کیونکہ بچے تو یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ ان کا باپ کبھی غلط کام کر ہی نہیں سکتا ۔

یا پھر اس بچی کے اندر شعور کا یہ لیول تھا کہ وہ باپ کے پائوں پکڑ کر روئی اور پوچھا :پاپا یہ آپ نے کیا کر دیا۔ شاید بچی کو بھی محسوس ہوا کہ اس کا باپ جو اس سے پیار محبت کرتا رہا‘ اس کے تقاضے پورے کرتا رہا اور اسے تحفظ کا احساس دیتا رہا‘ جس پر وہ فخر کرتی تھی‘ وہ سارا اعتماد ایک دھوکا تھا ۔

مجھے یہ سب پڑھتے ہوئے جان ٹرولٹا کی ایک خوبصورت فلم The General’s Daughter کا ایک ڈائیلاگ یاد آیا جس میں ایک کردار کہتا ہے:l once asked Moore what’s worse than rape. Now l know. Betrayal.۔شاید مافیا کے اس قاتل کی بیٹی کو بھی یہی لگا ہوگا کہ اس کے بچپن سے اب تک اس کے اعتماد کو دھوکا دیا گیا ‘ کہ اس کا باپ کبھی غلط کام نہیں کرسکتا۔ اب اچانک اسے پتہ چلا کہ نہیں ایسا نہیں تھا ۔

یہ سب پڑھتے اور سوچتے ہوئے کچھ حیران ہوا کہ کیا ہمارے بچے بھی اس طرح کا ردعمل دے سکتے ہیں ‘یا دیتے ہیں؟ چار سال قبل نیویارک میں مشتاق بھائی نے اپنے گھر پر ایک واقعہ سنایا تھا‘ جس کا اثر مجھ پر سے شاید کبھی ختم نہ ہو۔

بتانے لگے: پاکستان سے ایک پولیس افسر کا بیٹا امریکہ پڑھنے آیا ۔ جب وہ امریکی ماحول سے کچھ آشنا ہوا تو اسے اندازہ ہوا کہ کالج کی فیس اتنی زیادہ ہے اور اس کے والد کی تنخواہ تو مناسب سی ہے‘ تو پھر اس کا باپ کہاں سے لاکھوں روپے ادا کررہا ہے؟ اسے ہر ماہ اچھا خاصا خرچہ بھی بھیجتا ہے۔

اشتہار


ایک دن اس پر یہ راز آشکار ہوا کہ اس کا باپ حلال کی انکم سے اسے اتنے پیسے ہر ماہ نہیں بھیج سکتا‘ نہ ہی کالج کی فیس دے سکتا ہے۔ کئی دن تک وہ خود سے لڑتا رہا ۔ کچھ دن بعد اس نے خود ہی مافیا کے اس قاتل کی بیٹی کی طرح سوال کا جواب تلاش کر لیا کہ یقینا اس کا باپ مظلوم لوگوں پر ظلم و ستم ‘ تشدد‘ بھتہ خوری کرکے‘ تھانے بیچ کر اور ظالم و کرپٹ لوگوں کا ساتھی بن کر پیسے کما کر اسے بھیج رہا تھا۔

اسے بھی اسی طرح جھٹکا لگا جیسے اس بچی کو لگا تھا‘ کہ اس کا باپ یہ کام بھی کرسکتا ہے۔ اس نے اس ماہ کا خرچہ باپ کو واپس بھیجا اور کہا کہ وہ یہاں ریستوان میں برتن صاف کر لے گا‘ جھاڑو دے کر پیسے کما کر پڑھے گا ‘لیکن اپنے باپ کی حرام کی کمائی سے نہ وہ پڑھے گا اور نہ ہی کھائے پئے گا۔

جب بلاول بھٹو زرداری کو سنتا ہوں تو یہی سوال ذہن میں آتا ہے :چلیں ہم تو نالائق ہیں لیکن وہ تو آکسفورڈ سے پڑھ کر آیا ہے ۔ اس نے کبھی اپنے باپ سے نہیں پوچھا کہ اس کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟ اب جب بلاول نے الیکشن لڑا تو گوشواروں میں اپنے اندورن اور بیرونِ ملک اثاثے ظاہر کئے‘ جو زرداری نے اسے ٹرانسفر کئے تھے۔ کیا ایک سوال بھی نہیں پوچھا گیا کہ دنیا بھر میں اتنی جائیداد کیسے بن گئی اور یہ سب کچھ کہاں سے ہمارے پاس آیا؟

اسی طرح مریم نواز نے بھی کبھی اپنے باپ سے نہیں پوچھا ہوگا‘ جیسے اس مافیا چیف کی بیٹی نے باپ کے پائوں پکڑ کر روتے ہوئے پوچھا تھا۔ کوئی ایک سوال بھی نہیں کیا ہوگا کہ یہ سب کچھ ہمارے پاس کہاں سے آیا؟ ہم نے کیسے دنیا کے پانچ براعظموں میں جائیدادیں بنا لیں؟

ٹھیک ہے ہمارے دادا کی ایک فیکٹری تھی‘ لیکن وہ سات بھائی تھے‘ تو کیا باقی کے چھ بھائی غریب رہ گئے اور وہ دنیا بھر میں اس ایک فیکٹری سے جائیداد نہ بنا سکے اور ہم نے بنا لیں؟ اگر ہم نے کاروبار سے یہ اربوں ڈالرز بنائے ہیں تو اس ملک کی معیشت تو ڈوب رہی تھی تو پھر ہماری ملیں کیسے ترقی کررہی تھیں؟

اسی طرح شہباز شریف صاحب کے بچوں نے بھی کبھی نہیں پوچھا ہوگا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ ہمارا دادا پیدائشی غریب تھا اور اس نے محنت سے سب کچھ بنایا تو پھر ہمارے 44 کارخانے کیسے لگ گئے؟ اسی طرح عمران خان صاحب کے بچے بھی ان سے یہ سوال نہیں کرتے ہوں گے کہ آپ کی زندگی کے بارے اتنا کچھ سامنے آتا ہے جس کی وضاحت آپ نے کبھی نہیں کی‘ یہ سب کیا ہے؟

مان لیتے ہیں آپ مالی کرپٹ نہیں ہیں‘ لیکن اخلاقیات کی بنیاد پر بہت سارے سوالات کے جوابات تو بنتے ہیں۔ کیا لیڈروں کی مالی کرپشن ہی سب کچھ ہوتی ہے‘ اخلاقی طور پر وہ بے شک دیوالیہ ہوں؟

کسی سیاستدان‘ سول ملٹری بیوروکریٹ ‘ یا ہم جیسوں کے بچے کوئی سوال اپنے والدین سے نہیں کرتے کہ یہ سب دولت کہاں سے آئی؟

مافیا کے اس کرائے کے قاتل کی بیٹی کی جذباتی اور نفسیاتی اندرونی توڑ پھوڑ سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب آپ کے پہلے ہیرو کا امیج ٹوٹتا ہے تو کیا تباہی آتی ہے۔ ہم سب کے امیج بھی اپنے بچوں کی آنکھوں میں کبھی نہ کبھی ضرور ٹوٹتے ہیں‘ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم میں سے کتنوں کے بچوں میں یہ جرأت ہوتی ہے کہ وہ باپ کے پائوں پکڑ کر آنسو بہاتے ہوئے یہ کہہ کر خود کو کمرے میں بند کر لیں: Papa, what have you done ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں