Orya-Maqbool-Jan

ریاست مدینہ اور سودی بینکاری کا خاتمہ

آج سے ٹھیک دس سال قبل 2008ء کے انتخابات کے آغاز میں تحریک انصاف نے اپنے ایجنڈے کو عوام تک پہنچانے کے لیے لاہور کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں صحافیوں اور کالم نگاروں کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا۔ تحریک انصاف کی بائیس سالہ زندگی کی یہ واحد نشست ہے جس میں مجھے مدعو کیا گیا ہو۔ البتہ میل ملاقاتوں اور ظہرانے اور عشائیے بھی ہیں لیکن شاید ان کی تعداد بھی بہت قلیل ہے، صحافیوں اور کالم نگاروں کے سامنے اس نشست میں اسد عمر ایک ’’عظیم ماہر اقتصادیات‘‘ کی حیثیت سے جلوہ گر تھے اور معاشی منصوبے پیش کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ یہ وہ سال تھا جب گزشتہ دو صدیوں میں سودی بینکاری معیشت اپنے بدترین زوال کے عالم میں تھی۔ دنیا کے تمام بینکوں نے اپنے وجود کوقائم رکھنے کے لیے سود لینا اور دینا مکمل طور پر ترک کردیا تھا اور صرف اپنے ملازمین کی تنخواہیں اور انتظامی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ایک فیصد سروس چارجز لیتے تھے۔ پاکستان کے سرمایہ کاروں سے زیادہ کون اس المیے کو جانتا تھا، اس لیے کہ ان پاکستانیوں کا تقریباً چھ ارب ڈالر سرمایہ دبئی میں ڈوب گیا تھا۔ دبئی پر 80 ارب ڈالر کا قرضہ چڑھ چکا تھا اور ریاست نے جو سرمایہ کاری کر رکھی تھی وہ اس لیے ڈوب گئی تھی کہ پراپرٹی کی قیمتیں پچاس فیصد گر گئی تھیں۔ ریاستی سرمایہ کاری 22 ارب ڈالر کی تھی اور دبئی حکومت نے اعلان کردیا تھا کہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اگلے چھ ماہ کی اقساط تک نہیں دے سکتے۔ ریاستی کمپنی ’’دبئی ورلڈ “Dubai World” پر 59 ارب ڈالر کا قرضہ تھا جس کے سود کی قسط اگست 2008ء میں 3.5 ارب ڈالر تھی اور کمپنی نے اس کی ادائیگی سے معذوری ظاہر کردی تھی۔ معاشی بدحالی اور بحران کا عالم یہ تھا کہ لوگ دبئی سے بھاگتے ہوئے اپنی گاڑیوں میں چابیاں تک چھوڑ گئے تھے۔ دوسری جانب پوری دنیا اپنی تاریخ کی سب سے بڑی کساد بازاری کا شکار تھی۔ یورپی یونین کے ملک یونان، پرتگال، آئرلینڈ، سپین اور قبرص نے اعلان کردیا تھا کہ وہ اس قابل نہیں کہ قرضوں کی قسط بھی ادا کرسکیں۔ یہ معاشی بحران امریکہ کی سودی معیشت کے ایک حصے ’’پراپرٹی میں رہن (Mortage) کے کاروبار‘‘ کی تباہی سے شروع ہوا۔ بلبلوں کی طرح عالمی معیشت پر چھایا سودی بینکاری کا یہ پہلا بلبلہ پھوٹا تو سرمایہ کاری کا بڑا بینک لیہ مین برادرز “Lehman Brothers” ایسا ڈوبا کہ دنیا بھر کے بینکاری نظام کو لے ڈوبا۔ یہ سب ایک کاروباری صورت حال تھی۔ سود پر چلنے والے کاروبار کے ڈوبنے کا منظر تھا۔ آئس لینڈ کے تینوں بینک جن کی سرمایہ کاری کا حجم ان کی معیشت کے برابر تھا مکمل طور پر ڈوب گئے۔ اس بینکاری کے پرائیویٹ اور خالصتاً کاروباری نظام کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے حکومتیں میدان میں کود پڑیں۔ وہ جمہوری حکومتیں جو ان بینکاروں کی پیدا کردہ ’’مصنوعی کاغذی دولت‘‘ کی بنیاد پر الیکشن مہم چلاتی ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ نے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ بینک بچانے “Banks Rescu Package” پر لگا دیا اور کسی پارلیمنٹ یا کانگریس میں کوئی ممبر یہ آواز بلند نہ کرسکا کہ لوگوں کے ٹیکس کا پیسہ اس سودی معیشت کے تحفظ کے لیے کیوں لگا رہے ہو؟ یہ تھے وہ عالمی حالات جب اسد عمر اپنا معاشی ’’تصور تبدیلی‘‘ پیش کر رہے تھے۔ جہاں انہوں نے اور بہت سے اہداف پیش کئے، وہاں ایک نقطہ خاص طور پر پیش کیا کہ ہم بینکاری میں سود کی شرح کم کردیں گے تاکہ صنعتیں بہتر طور پر کام کرسکیں۔

اشتہار


ایسے میں اس بھرے مجمعے میں ان سے میں نے یہ سوال کیا کہ دنیا پوری اس وقت سودی بینکاری سے نفرت کے عروج پر ہے، یورپ کے شہروں میں لوگوں کے ہاتھوں میں یہ پوسٹر ہیں کہ “Let us Bank the Mulslim way” آئو اسلام کی طرز پر بینکاری کریں۔ لوگوں نے کاغذ کے نوٹوں پر سامان بیچنے سے انکار کردیا ہے اور اس شاندار موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ سود کے بغیر معیشت کا آغاز کیوں نہیں کرتے جس کا جواب وہی تھا جو بہلاوے کے لیے ہر معیشت دان جو سودی کاروبار کا وکیل ہوتا ہے اپنے سوالوں کے جواب میں دیتا ہے۔ اسد عمر نے بھی وہی کہا کہ جب معیشت مضبوط ہو جاتی ہے تو شرح سود کم ہو جاتی ہے۔ یہ ہے وہ واحد جواز جس کی بنیاد پر پوری دنیا کو ان ظالم سودی بینکاروں نے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ آج اسد عمر صاحب اپنے ’’تصور تبدیلی‘‘ کے نفاذ کے تخت پر جلوہ افروز ہیں اور مجھے معلوم ہے کہ انہوں نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے عمران خان کو شیشے میں اتار لیا ہوگا۔ دینی حمیت اور ’’ایاک نعبدو ایاک نستعین‘‘ کا تصور یقینا آپ میں ایمان کی قوت پیدا کرتا ہے اور آپ اللہ پر کامل یقین کرلیتے ہیں لیکن آپ کا امتحان اسی وقت شروع ہوتا ہے جب آپ کی سیاسی اور معاشی زندگی کے اہداف مغرب کی معیشت کے سانچے میں ڈھلے ہوں تو آپ اپنے ایمان کی قوت اور اللہ پر توکل کو اپنی ذات تک محدود کرلیتے ہیں۔ آپ وہ جنگ لڑنے سے ہچکچانے لگتے ہیں جو اللہ نے قرآن میں آپ پر فرض کی ہے یہاں میں صرف یاددہانی کے لیے سورہ بقرہ کی آیات کا ترجمہ لکھ رہا ہوں تاکہ ’’ریاست مدینہ‘‘ کے تصور کا بنیادی ہدف سامنے رہے۔‘‘ اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے اور اگر تم اللہ کے فرمان پر یقین رکھتے ہو تو چھوڑ دو جو کچھ سود میں باقی رہ گیا ہے اور اگر تم یہ چھوڑنے پر تیار نہیں ہوئے تو پھر اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار ہو جائو اور اگر تم توبہ کرتے ہو تو تمہارے واسطے اصل مال تمہارا ہے۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ کوئی تم پر ظلم کرے۔ (البقرہ 278-279)۔ ریاست مدینہ کے معمار سید العرب والعجم رسول اللہ ﷺ نے جب خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا کہ ’’سنو! جاہلیت کا سود بھی ختم کردیا گیا اور ہمارے سود میں سب سے پہلا سود جسے میں ختم کر رہا ہوں وہ عباس ابن عبدالمطلب کا سود ہے۔ اب یہ سارے کا سارا سود ختم ہے۔‘‘ (مسلم، ابی دائود، ابن ماجہ)۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس اعلان کے بعد عباسؓ ابن عبدالمطلب اور ان کی اولاد نے اصل زر بھی لینے سے انکار کردیا تھا کہ اتنا عرصہ سود کھایا ہے تو کہیں مقروض سے زیادتی نہ ہو جائے۔ مجھے معلوم ہے کہ اسد عمر اور اس قبیل کے معیشت دان کی معاملات کو دیکھنے کی عینک اس شیشے سے تیار ہوئی ہے جو جدید علم معاشیات کی ریت سے بنتا ہے جس کے ایک ایک ذرے پر سودی بینکاری، کاغذی مصنوعی دولت، تصور افراط زر اور ایسے ہی لاینحل سوال درج ہیں جن کا تصور آدمی کو اس نظام کا قیدی بنا دیتا ہے۔ ریاست مدینہ جسے پاکستان کہتے ہیں۔ یہ دو لوگوں کی مساعی اور اس قوم کی رہنمائی کا نتیجہ اور اللہ کے خاص فضل و کرم سے وجود میں آئی۔ یہ دونوں شخصیات عمران خان اور اسد عمر سے زیادہ مغرب کے نظام سے آشنا تھیں اور دونوں اس مغربی سودی نظام کے شدید ناقد تھے۔ علامہ اقبال کی کتاب ’’علم الاقتصاد‘‘ 1905 میں آئی تھی جس میں آج 2018ء تک کے سوالوں کے جواب موجود ہیں اور جو اس سودی بینکاری کو زہر قرار دیتی ہے۔ اقبال کی ریاست مدینہ کا خواب سودکے بغیر مکمل ہوتا ہے اور جدید معاشی نظام کا متبادل ہے۔ ایں بنوک ایں فکر چالاک یہود نور حق از سینۂ آدم ربود تہہ و بالا نہ گردد ایں نظام دانش و تہذیب و دیں سودائے خام یہ بینکاری نظام جو یہودیوں کی عیار سوچ کا نتیجہ ہے۔ یہ انسان کے سینے سے اللہ کا نور نکال لیتے ہیں۔ جب تک یہ یہودی نظام تہہ بالا نہ ہو جائے، دانش، تہذیب اور دین کی باتیں بے کار ہیں۔ اس نظام کو تہہ بالا کرنے کی خشت اول اور بنیاد قائداعظم نے یکم جولائی 1948ء کو سٹیٹ بینک کا افتتاح کرتے ہوئے اپنی تقریر میں رکھی تھی۔ (جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں