پاکستان کیلئے جاسوسی، بھارتی حساس ادارے کا ملازم گرفتار

پاکستان کو مبینہ طور پر میزائل کی حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں بھارت نے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے ملازم کو حراست میں لے لیا۔

حساس ادارے کے ملازم پر الزام ہے کہ اس نے جوہری صلاحیت کے حامل براہ موس کروز میزائل کی معلومات پاکستان کو فراہم کیں اور انہیں حراست میں لے کر اس حوالے سے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

ہندوستانی میڈیا کے مطابق ملزم کے قبضے سے کچھ مشکوک مواد بھی برآمد ہوا ہے جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شبے کو تقویت ملتی ہے۔

مذکورہ شخص کی شناخت نشانت اگروال کے نام سے ہوئی ہے جسے اترپردیش کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ اور ملٹری انٹیلی جنس نے مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے ریاست مہاراشٹر کے شہر ناگپور سے گرفتار کیا جبکہ اس سلسلے میں پولیس نے بھی ان کی معاونت کی۔

نشانت ناگپور کے قریب براہ موس پروڈکشن سینٹر میں گزشتہ چار سال سے ملازمت کر رہے ہیں اور بھارتی تحقیقاتی اداروں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ انہوں نے براہ موس میزائل کے حوالے سے خفیہ معلومات اور تکنیکی ڈیٹا پاکستان کو فراہم کیا۔

آخری اطلاعات تک پولیس نے اس کام میں ان کی معاونت کرنے والوں کی گرفتار کے لیے چھاپے مارنے شروع کردیے تھے۔

براہ موس میڈیم رینج کا سپر سونک کروز میزائل ہے جسے زمین، جہاز، سب میرین یا بحری بیڑے سے داغا جا سکتا ہے۔

بھارت کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کا تیز ترین کروز میزائل ہے جسے بھارت نے روس کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت میں کسی اہم ادارے کے ملازم کو پاکستان کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہو۔

رواں سال بھارت کی مقامی عدالت نے سابق خاتون سفارتکار مادھوری گپتا کو اہم معلومات پاکستانی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کو فراہم کرنے کے الزام میں مجرم قرار دیا تھا۔

مادھوری پر الزام تھا کہ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں بطور سفارتکار تعیناتی کے دوران وہ مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ ایجنسی کے اہلکار کے عشق میں مبتلا ہوگئی تھیں اور انہیں ’اہم معلومات‘ فراہم کی تھیں۔

اس سے قبل رواں سال میں بھی پاکستان کو مبینہ طور پر خفیہ معلومات پہنچانے کے الزام میں بھارتی فضائیہ کے افسر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں