زخمی، مگر پورے قد سے کھڑی غزہ کی خواتین

’’حماس کارکن‘‘ کی اصطلاح کی کوئی کیسے تعریف کرسکتا ہے؟ حتیٰ کہ اسرائیلی حکومت ، جس نے یہ اصطلاح وضع کی تھی،وہ بھی اس کی واضح تعریف پیش کرنے سے قاصر ہے۔

غزہ سے تعلق رکھنے والے ہزاروں فلسطینیوں بالخصوص خواتین کو دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے میں زندگی بچانے کے لیے علاج کی غرض سے جانےسے روک دیا گیا ہے۔ کیوں؟ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ مبینہ طور پر ’’حماس کے کسی کارکن‘‘ سے تعلق رکھتی ہیں۔

اسرائیل سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے ایک گروپ جیشا کا کہنا ہے کہ تل ابیب اس اصطلاح کی تعریف نہ کرنے پر مُصر ہے۔ چناں چہ غزہ میں بسنے والی بہت سے خواتین کے مصائب طویل تر ہوتے جارہے ہیں۔اس کی مختصر مگر جامع تعریف بیان نہ کرنے کی توضیح یہ کی جاتی ہے کہ اس طرح اسرائیلی فوج کو غزہ کے لاکھوں مکینوں کا ناطقہ بند کرنے کا قانونی جواز مل جاتا ہے اور وہ عدالتوں کے روبرو یہ کہتے ہوئے کامیابی سے اپنا دفاع کرتی ہے کہ وہ تو قانون کی پاسداری کررہی ہے۔

غزہ سے تعلق رکھنے والی سات خواتین نے حال ہی میں ایک اسرائیلی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے اور اس میں انھوں نے یہ استدعا کی ہے کہ انھیں اسرائیل کے مقبوضہ مشرقی القدس اور غربِ اردن میں واقع طبی مراکز میں علاج کے لیے جانے کی اجازت دی جائے۔ایڈووکیسی گروپ بھی ان خواتین کی اسرائیلی فوج کی مبہم قانونی زبان کو چیلنج کرنے میں معاونت کررہے ہیں۔ اسرائیلی فوج اہلِ غزہ کو اجتماعی سزا دینے کے لیے اصطلاحوں کے اس گورکھ دھندے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ اگراس طرح کی اصطلاحوں کی زیادہ جامع وضاحت کردی جاتی ہے تو شدید علیل فلسطینیوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے علاج سے انکار کا اقدام غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار پاتا ہے۔ جیشا کی ایک وکیل مونا حداد کا کہنا ہے کہ ’’اسرائیلی ریاست ( ان سات خواتین) درخواست گزاروں کو موت یا پھر تاحیات مصائب کی سزا دے رہی ہے‘‘۔

غزہ کی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی یہ صرف خواتین ہی نہیں ہیں جو اسرائیل کی گذشتہ گیارہ سال سے جاری کڑی ناکا بندی کے نتیجے میں مسائل ومصائب جھیل رہی ہیں اور انھیں بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے بلکہ غزہ کی تمام آبادی ہی اسرائیل اور امریکا کی اس اسکیم کا خمیازہ بھگت رہی ہے اور اس کا مقصد محض یہ ہے کہ فلسطینی قیادت سے زیادہ سے زیادہ سیاسی رعایتیں حاصل کی جائیں۔

اشتہار


سخت مہینہ
اگست اہلِ غزہ کے لیے خاص طور پر ایک سخت مہینہ رہا ہے۔31 اگست کو فارن پالیسی میگزین نے یہ اطلاع دی تھی کہ امریکی انتظامیہ اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والی فلسطینی مہاجرین کی ایجنسی اُنروا کو کوئی فنڈ نہیں دے گی۔امریکا نے پہلے ہی جنوری سے اس ایجنسی کو مہیا کی جانے والی مالی امداد روکنا شروع کردی تھی۔اب اس تنظیم کا مستقبل خطرے سے دوچار نظر آرہا ہے۔

اس سے ایک ہفتہ قبل امریکا نے فلسطینیوں کو اس سال مہیا کی جانے والی تمام امدادی رقم روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔امریکا کوئی بیس کروڑ ڈالرز سالانہ امداد کی شکل میں فلسطینیوں کو دیتا تھا اور یہ رقم غرب ِاردن میں ترقیاتی منصوبوں اور غزہ میں انسانی امداد مہیا کرنے پر خرچ کی جاتی تھی۔

اس فیصلے سے قبل اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری جنرل برائے سیاسی امور روز میری ڈائی کارلو نے 23 اگست کو یہ اعلان کیا تھا کہ ’’ یو این کا ایمرجنسی ایندھن اب ختم ہوا چاہتا ہے۔اس سے غزہ میں قریباً ڈھائی سو اہم اداروں کو چلایا جارہا تھا‘‘۔ان کے اس بیان سے قبل سب سے افسوس ناک خبر سنے کو ملی تھی ۔12 اگست کو فلسطین کی وزارت صحت نے یہ ا علان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے محاصرے کا شکار غزہ میں اب کینسر کے مریضوں کا علاج نہیں کرسکتی ۔

اس وقت تمام فلسطینی اور بالخصوص اہلِ غزہ گوناگوں مصائب سے دوچار ہیں لیکن خواتین کی حالت زار مغربی میڈیا کے عمومی بیانیے سے کوئی لگا نہیں کھاتی۔ وہ غزہ کی ناکا بندی کو ایک جانب فلسطینی جنگجوؤں اور کارکنوں اور دوسری جانب اسرائیلی فوج کے درمیان تنازع کا شاخسانہ قرار دے رہا ہے۔

جب فلسطینی خواتین مغربی میڈیا کی کوریج میں نظر نہیں آتی ہیں تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ اپنے کنٹرول سے باہر حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہیں ۔پھر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ فلسطینی خواتین ایک ایسے تنازع میں پھنس کر رہ گئی ہیں جس میں ان کا کوئی کردار ہی نہیں ہے۔

اس طرح کی غلط رپورٹنگ اور حقائق کو مسخ کرکے پیش کرنے سے مصائب سے دوچار فلسطینی خواتین کے لیے بالخصوص اور فلسطینی عوام کے لیے بالعموم ہنگامی سیاسی اور انسانی امداد مہیا کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے۔اسرائیلی عدالت میں درخواست دائر کرنے والی سات خواتین تو ان ہزاروں خواتین کی بہت ہی حقیر نمایندہ ہیں جن کا کوئی قانونی وکیل ہے اور نہ ان کی میڈیا میں کوئی کوریج کی جاتی ہے۔

مجھے ایسی بہت سے خواتین سے گفتگو کا اتفاق ہوا ہے۔ان کے مصائب کا ان ایسے ناقابل یقین عزم سے ہی مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔ ان کا یہ حق ہے کہ ان کو درپیش مصائب کو تسلیم کیا جائے اور ان کا فوری ازالہ کیا جائے۔

شیما کی کینسر کے خلاف جنگ
انیس سالہ شیما تیّسیر ابراہیم غزہ کے جنوب میں واقع قصبے رفح سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ بہ مشکل بول سکتی ہیں۔ان کے دماغ کی رسولی ( برین ٹیومر) نے ان کے چلنے پھرنے اور بولنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اس کے باوجود وہ رفح کی القدس اوپن یونیورسٹی سے بنیادی تعلیم میں اپنی ڈگری مکمل کرنا چاہتی ہیں۔

شیما کو غیر معمولی دکھ اور درد کا سامنا ہے ۔اگر دنیا سے الگ تھلگ غربت زدہ غزہ کے معیار سے دیکھا جائے تو بھی ان کی تکلیف غیر معمولی ہے۔وہ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں۔اسرائیلی محاصرے کے نتیجے میں ان کے خاندان کو غربت کا سامنا ہے۔ان کے والد ملازمت سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔ کوئی روزگار نہ ہونے کی وجہ سے ان کے خاندان کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

شیما کی منگنی ہوچکی تھی اور جامعہ سے گریجو ایشن کے بعد ان کی شادی ہونے والی تھی۔لاکھوں اہلِ غزہ کی طرح شیما کے دل میں بھی امید زندہ تھی ۔انھیں یہ توقع تھی کہ ان کا اور ان کے خاندان کا مستقبل تاب ناک ہوگا لیکن 12 مارچ کو ان کا سب کچھ ہی تبدیل ہوکر رہ گیا اور یہ پتا چلا کہ شیما تو دماغی سرطان ( برین کینسر) کی مریضہ بن چکی ہیں۔پھر 4 /اپریل کو مقبوضہ بیت المقدس ( یروشلیم ) کے المقصد اسپتال میں ان کی پہلی سرجری سے قبل ان کے منگیتر نے منگنی ہی توڑ دی۔

اس سرجری کے بعد شیما جزوی طور پر اپاہج ہوچکی ہیں۔اب وہ بہ مشکل بول سکتی ہیں اور انھیں چلنے پھرنے میں بھی شدید دشواری کا سامنا ہے۔ان کے ٹیسٹوں سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ اگر رسولی کو سرجری کے ذریعے فوری طور پر نہیں نکالا جاتا تو وہ مزید بھی پھیل سکتی ہے۔

اب شیما اپنی زندگی کا جنگ لڑرہی ہیں۔وہ بیت حانون چیک پوائنٹ ( اسرائیل اس کو ایریز کراسنگ کا نام دیتا ہے) سے گذر کر غربِ اردن جانے کے لیے اسرائیلی اجازت نامے کی منتظر ہیں تا کہ وہ وہاں جا کر دوبارہ سرجری کراسکیں۔

غزہ کے بہت سے مکین اسرائیل سے کاغذ کے ٹکڑوں اور اجازت ناموں کے انتظار میں جان کی بازی ہار چکے ہیں مگر یہ اجازت نامے انھیں ملنے تھے اور نہ ملے۔تاہم ان نامساعد حالا ت کے باوجود شیما نے امید کا دامن نہیں چھوڑا ۔ان کا خاندان ان کی صحت یابی کے لیے مسلسل دعاگو ہے اور اس کو امید ہے کہ وہ تن درست ہو کر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گی۔
اشتہار



دولت: زخمی ،مگر پورے قد سے کھڑی
غزہ کے دوسری جانب بیت حانون میں تینتیس سالہ دولت فوزی یونس بھی اسی قسم کے تجربے سے گزر رہی ہیں۔دولت نے گیارہ افراد پر مشتمل خاندان کی کفالت اور دیکھ بھال کی ذمے داری سنبھال رکھی ہے۔ان میں ان کےبھتیجے اور شدید علیل باپ بھی شامل ہیں۔ان کے پچپن سالہ والد کے گردوں نے اچانک کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور وہ کسی کام کاج کے قابل نہیں رہے تھے۔اس کے بعد دولت پورے خاندان کا سہارا اور کفیل بن گئیں ۔ وہ ایک ہئیر ڈریسر کے طور پر کام کرتی ہیں مگر ان کے بہن بھائی بے روز گار ہیں اور ان کا روٹی کپڑا بھی ان کے ذمے ہے۔

دولت کی طاقت اور مضبوطی شاید ان کے اپنے ایک ذاتی تجربے کا نتیجہ ہے۔ یہ 3 نومبر 2006ء کا واقعہ ہے۔ایک اسرائیلی فوجی نے ان کی ٹانگ پر گولی مار دی تھی۔ وہ اس وقت فلسطینی خواتین کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر بیت حانون میں واقع تاریخی اُم النصر مسجد پر اسرائیلی فوج کے حملے کے خلاف احتجاج کررہی تھیں۔اس روز اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے دو فلسطینی خواتین شہید ہوگئی تھیں ۔ دولت کو کولھے میں گولی لگی تھی مگر ان کی جان بچ گئی تھی۔

کئی ماہ کے علاج کے بعد ان کا زخم ٹھیک ہوگیا اور انھوں نے تن درست ہونے کے بعد پھر سے اپنی روزمرہ کی مصروفیات اور جدوجہد شروع کردی تھی۔ اب وہ اپنے لوگوں کے ساتھ اسرائیلی چیرہ دستیوں کے خلاف ہر احتجاج میں پیش پیش ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے اپنی آواز بلند کرتی ہیں۔

14 مئی 2018ء کو جب اسرائیل نے سرکاری طور پر اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلیم منتقل کیا تھا تو اسرائیل اور غزہ کے درمیان باڑ کے نزدیک احتجاج کرنے والے ساٹھ فلسطینی مظاہرین شہید اور قریباً تین ہزاراسرائیلی فوجیوں کی گولیاں لگنے سے زخمی ہو گئے تھے۔ ان زخمیوں میں دولت بھی شامل تھیں۔اس مرتبہ گولی ان کی دائیں ران پر لگی تھی اور وہ ان کی خون کی شریان کو چیرتی ہوئی ہڈی میں پیوست ہوگئی تھی۔

اس کے بعد سے ان کی صحت مسلسل گررہی ہے اور وہ کام کرنے کے قابل نہیں رہی ہیں مگر اسرائیل نے ابھی تک انھیں علاج کی غرض سے یروشلیم کے المقصد اسپتال میں منتقل کرنے کے لیے درخواست کی منظوری نہیں دی ہے۔

اس کے باوجود دولت بلند حوصلہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی کمیونٹی کی ایک فعال اور با اختیار رکن کا کردار ادا کرتی رہیں گی۔ اگر انھیں غزہ کی باڑ کے ساتھ بیساکھیوں کے سہارے احتجاج کے لیے جانا پڑا تو وہ ضرور ایسا کریں گی۔

یہ تو صرف دو بلند ہمت عورتوں کی کہانی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ غربِ اردن اور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قبضے اور محاصرے میں رہنے والی ہر با حوصلہ اور بلند عزم فلسطینی خاتون کی کہانی ہے۔وہ ہر جبر کا عزم واستقامت کے ساتھ مقابلہ کررہی ہیں ، خواہ انھیں اس کے لیے بھاری قیمت ہی چکانا پڑرہی ہے۔انھوں نے خود سے پہلے گزرنے والی دلیر اور بہادر فلسطینی خواتین کی نسلوں کی غیر متزلزل جدوجہد کو ہمت واستقامت کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے۔

تحریر: ڈاکٹر رَمزی بارود

اپنا تبصرہ بھیجیں