وزیراعظم کی روپے کی گرتی قیمت پر قوم سے تسلی رکھنے کی اپیل

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے روپے کی گرتی قیمت پر قوم سے تسلی رکھنے کی اپیل کردی۔

عمران خان نے کہا کہ قوموں کی زندگی میں بُرے وقت آتے ہیں، اس سے گھبرانا نہیں چاہیے، حوصلہ رکھیں، چھوٹا سا عرصہ ہے، میں اس مشکل وقت سے نکالوں گا، ہمیں قرضہ اس لیے چاہیے کہ قرضے کی قسطیں ادا کرسکیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز روپے کی قدر غیر مستحکم ہونے سے اوپن مارکیٹ میں ایک ہی روز میں 9 روپے 75 پیسے اضافے کے ساتھ ڈالر 134.50 روپے کا ہوگیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے روپے کی قدر گرنے پر قوم کو سے تسلی رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ڈرنے اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، عوام حوصلہ رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک موجودہ مشکل صورتحال سے سرخرو ہو کر نکلے گا اور اچھا وقت آئے گا، جب قوم بدعنوان قیادت کو برداشت کرتی ہے تو اس کی قیمت تو ادا کرنا پڑتی ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں ڈرنے کی ضرورت نہیں، پاکستان وسائل سے مالا مال اور اللہ کا تحفہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 10 سالوں میں ملک کا قرضہ 30 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اور 8 ارب ڈالرز کی درآمدات اور برآمدات کا عدم توازن ہے جب کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18 ارب ڈالرز ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی اصلاحات کے اثرات 6 ماہ بعد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے، منی لانڈرنگ کے خاتمہ کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں، اس میں وقت لگے گا اور اس کے اثرات آہستہ آہستہ ظاہر ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ہر سال پاکستان سے 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر کی مد میں 20 ارب ڈالر پاکستان آتے ہیں، منی لانڈرنگ اور بے قاعدہ طریقہ سے ترسیلات زر کو روک دیا جائے تو ہمیں قرضہ نہیں لینا پڑے گا۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری برآمدات 25 ارب ڈالر سے 20 ارب ڈالر پر آ گئیں، ہم جو مراعات دے رہے ہیں، اس سے 30 ارب ڈالر تک انہیں بڑھایا جا سکتا ہے، اس سے پاکستان میں بند فیکٹریاں کھل سکیں گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ ملک قدرتی وسائل اور نعمتوں سے مالا مال ہے، ملک میں مینجمنٹ نہیں تھی، منی لانڈرنگ ہوتی رہی، ادارے تباہ کر دیئے گئے۔

انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ قوم حوصلہ رکھے وہ پاکستان کو مشکل وقت سے نکالیں گے، پاکستان صلاحیتوں سے مالا مال ہے، صرف بلوچستان میں 460 ارب ڈالر کی معدنیات ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستان کا اثاثہ ہیں ان کیلئے بھی ایک پروگرام لے کر آرہے ہیں۔

واضح رہے کہ روپے کی قدر میں کمی پر اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے ہوئی ہے، روپےکی قدر گرنے کی وجہ مبادلے کی مارکیٹ میں طلب و رسد کا فرق بھی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، تیل کے مہنگا ہونے سے زرمبادلہ ذخائر دباؤ کا شکار ہیں۔

مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق روپے کی شرح مبادلہ میں کمی بیرونی کھاتوں میں عدم توازن دور کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں