امریکہ میں سمندری طوفان ’مائیکل‘ سے تباہی

امریکی کی شمالی مغربی ریاست فلوریڈا ایک بار پھر سمندری طوفان کی زد میں ہے۔

ریاست میں اب تک کی تاریخ کے شدید ترین سمندری طوفان سے ساحلی علاقے اور گھر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بہت سے گھر تباہ اور درخت جڑوں سے اکھڑ گئے ہیں۔

بدھ کی شام فلوریڈا کے علاقے پین ہینڈل میں آنے والے ’مائیکل‘ نامی سمندری طوفان کو تیسرے درجے کا طوفان قرار دیا گیا جس میں 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہواؤں سے تباہی ہوئی۔ حکام کے مطابق درخت گرنے سے ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔ مائیکل طوفان اتنا شدید تھا کہ ساحل سے ٹکرانے کے بعد بھی اس کی شدت میں کمی نہیں آئی۔


فلوریڈا میں تین لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا گیا تھا لیکن حکام کے مطابق بیشتر افراد نے اس تنبیہ کو نظرانداز کیا۔ طوفان سے متاثرہ ریاستوں فلوریڈا، الاباما اور جورجیا میں پانچ لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہیں۔

فلوریڈا کے گونر رک سکاٹ نے ’ناقابل تصور تباہی‘ کے بارے میں خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ گذشتہ 100 برسوں میں یہ شدید ترین طوفان ہو سکتا ہے۔ مائیکل طوفان نے وسطی امریکہ ریاستوں کو بھی متاثر کیا اور مبینہ طور پر وسطی امریکی ممالک میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے چھ ہنڈورس، چار نکاراگوا اور تین کی ہلاکت السلواڈور میں ہوئی۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق مائیکل امریکہ میں اب تک آنے والا تیسرا شدید ترین سمندری طوفان ہے۔ اس سے قبل سنہ 1969 میں کیمل نامی طوفان ریاست میسی سپی میں اور لیبر ڈے طوفان سنہ 1935 میں فلوریڈا میں ہی آیا تھا۔

فلوریڈا، الاباما، جورجیا اور شمالی کیرولینا میں ہنگامی حالات نافذ ہیں جبکہ سکول اور سرکاری دفاتر بند ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں