منی لانڈرنگ کا جن بوتل میں کیسے بند کیا جائے؟

منی لانڈرنگ اور غیر قانونی طریقے سے رقوم کی ترسیل کے سلسلے کو روکنے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں لیکن بین الاقوامی اداروں کے مطابق پاکستان کو مزید بہت کچھ کرنا ہے تاکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کیا جا سکے اور پاکستان گرے لسٹ سے نکل سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ کے جن کو بوتل میں بند کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ پاکستان میں منی لانڈرنگ کے خلاف کوئی موثر قانون نہیں ہے جس کی وجہ سے ملکی معیشت کو بےتحاشا نقصان پہنچ رہا ہے۔

ایف ایے ٹی ایف کا وفد ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہے۔ اس موقعے پر پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں جہاں کچھ گرفتاریاں بھی کی گئیں اور بےنامی بینک اکاونٹس کی نشاندہیاں بھی کی گئی ہیں۔

منی لانڈرنگ کیسے کی جاتی ہے؟

ماہرین کے مطابق فارن کرسنی غیر قانونی طریقوں سے باہر بھیجنے کو منی لانڈرنگ کہا جاتا ہے یا ہنڈی اور حوالے سے رقم بھیجنے سے منی لانڈرنگ کو تقویت ملتی ہے۔

اکثر لوگ بنکوں یا قانونی طریقوں سے ہٹ کو کسی منی ایکسچینج یا نجی کاروبار کرنے والے افراد کے ذریعے غیر ممالک سے رقم پاکستان بھیجتے ہیں۔ اس طریقےکو ہنڈی یا حوالہ کہا جاتا ہے۔

اس طریقے میں ہوتا یوں ہے کہ کسی غیر ملک میں رہنے والا شخص جب رقم پاکستان بھیجنے کے لیے کسی شخص کو دیتا ہے تو وہ شخص فارن کرنسی اپنے پاس رکھ کر پاکستان میں اپنے ایجنٹ سے کہتا ہے کہ اتنی رقم اس شحص کے رشتہ دار کو دے دی جائے۔ پاکستان میں بیٹھا شخص مذکورہ رقم اس شخص کے رشتہ دار کو دے دیتا ہے۔ اس طریقے میں اکثر لوگ بلیک منی یا غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی گئی رقم استعمال کر لیتے ہیں۔

یہ رقم کن ذرائع سے پاکستان پہنچتی ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے ایک تو وہ پاکستانی ہیں جو غیر ممالک میں ملازمت یا کاروبار کرتے ہیں اور اپنے رشتہ داروں کو رقم بھیجتے ہیں۔ اس کے علاوہ منشیات کا کاروبار کرنے والے افراد، انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد اور وہ کاروباری لوگ جو ٹیکس اور ڈیوٹی بچانے کے لیے دبئی اور دیگر ممالک کے ذریعے دوسرے ملک کو رقم بھیجتے ہیں اور مال پاکستان منگواتے ہیں، وہ اس میں ملوث ہوتے ہیں۔

اسی طرح بعض کمپنیاں اہم وفود یا شخصیات کو باہر ممالک بھیجتی ہیں اور ان کے ہاتھ بڑی رقم باہر بھیج دی جاتی ہے جس سے ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

پشاور کے قدیم صرافہ بازار میں لگ بھگ 300 ایسے افراد موجود ہیں جو بظاہر تو منی ایکسچینج یا زر مبادلہ کا کام کرتے ہیں، لیکن یہاں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کاروبار کی آڑ میں کچھ تاجر ہنڈی یا حوالے کا کام بھی کرتے ہیں۔

صرافہ بازار کے تاجروں کی تنظیم کے جنرل سیکریٹری شکیل احمد خان نے بتایا کہ اس بازار میں لوگ سو سال سے کاروبار کر رہے ہیں۔ یہاں سے زیادہ تر تجارت افغانستان کے ساتھ ہوتی ہے اور افغانستان کے ساتھ تجارت حوالہ یا ہنڈی میں نہیں آتی۔ اگر کسی اور ملک کے ساتھ کوئی ہنڈی یا حوالے کا کاروبار کرتا ہے تو اسے گرفتار کیا جائے۔

پشاور کے صرافہ بازار میں پکڑ دھکڑ کیوں؟

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے چند روز پہلے اس بازار میں چھاپہ مارا اور 40 کے لگ بھگ تاجروں کو حراست میں لیا گیا تھا جنھیں بعد میں تین ایم پی او یعنی نقضِ امن کے جرم میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

گرفتاری کے بعد رہا ہونے والے تاجر افتخار احمد نے بتایا کہ وہ 40 سال سے یہاں کاروبار کر رہے ہیں اور ان کے پاس اس کاروبار کا لائسنس ہے، اس کے باوجود انھیں گرفتار کیا گیا اور ان سے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم بھی لے لی گئی۔

انھوں نے کہا کہ یہ رقم سٹیٹ بینک کے مطابق ان کے پاس تھی”، انھوں نے غلط کام نہیں کیا اور پھر ان پر تین ایم پی او یعنی نقض امن کا مقدمہ درج کیا گیا، تاہم انھیں عدالت نے رہا کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ ان کی بےعزتی ہوئی ہے۔ وہ باعزت شہری ہیں اور ٹیکس دیتے ہیں۔ اگر کوئی غیر قانونی کام کرتا ہے تو اسے گرفتار کیا جائے وہ اس کے خلاف نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سب کچھ معلوم ہے۔

پشاور میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے کراچی سے ملنے والی اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے مال روڈ پر ایک مکان سے بے نامی اکاؤنٹس کے شواہد حاصل کیے ہیں جن سے ڈیڑھ ارب روپے کی ٹرانزیکشن صرف تین ماہ میں کی گئی ہے اور ان اکاونٹس سے رقم مختلف بینکوں کو بھیجی گئی۔ زیادہ تر رقوم سوات بھیجی گئی ہیں۔

منی لانڈرنگ سے نمٹا کیسے جائے؟

ماہرین کا کہنا ہے منی لانڈرنگ اور حوالہ یا ہنڈی پر قابو پانے کے لیے متعلقہ اداروں کے پاس مکمل اختیارات نہیں ہیں کیونکہ کسی کے خلاف کارروائی اس وقت تک نہیں کی جا سکتی جب تک سٹیٹ بینک تحریری شکایت درج نہ کرے۔

اسی طرح انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں بھی سقم پائے جاتے ہیں جس سے ملزمان فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ممالک سے بینکوں کے زریعے رقوم کی ترسیل میں بیشتر لوگوں کو مشکلات پیش آتی ہیں اس لیے لوگ غیر قانونی مگر آسان طریقہ ہنڈی یا حوالہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر قانون طریقہ کار کو سہل بنا دیا جائے تو ہنڈی یا حوالے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر یہ کہا جاتا ہے کہ غیر قانونی رقوم کی غیر قانونی ترسیل سے دہشت گردی کے لیے فنڈنگ ہوتی ہے اس لیے پاکستان پر یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ ان ترسیلات کو روکا جائے۔

ان ترسیلات کو روکنے کے لیے منی لانڈرنگ ایکٹ میں فوری ترمیم کی اشد ضرورت ہے جس سے قانون کے ہاتھ مضبوط ہوں، اور جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ شکنی ہو۔

ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ وائٹ کالر کرائم پکڑنے کے لیے ملک میں مناسب وسائل موجود نہیں ہیں، اور اگر ایسے ملزم پکڑے بھی جاتے ہیں تو ان پر چلائے گئے مقدمات کمزور ہوتے ہیں اور وہ آسانی سے بچ نکلتے ہیں۔ اس کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اگر پاکستان نے ہنگامی بنیادوں پر منی لانڈرنگ سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات نہ کیے تو اس کی بین الاقوامی مالیاتی ساکھ کے علاوہ ملکی معیشت بھی سنگین خطرات کی زد میں آ سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں