پاناما پیپرز کیس میں مزید ناموں کے خلاف کارروائی کا اعلان

اسلام آباد: وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ پاناما پیپرز کیس میں سامنے آنے والے مزید ناموں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ ملکی معیشت کی صورتحال اس وقت کیا ہے، پبلک سیکٹر کا خسارہ 10 کھرب روپے سے تجاوز کرگیا ہے۔

وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی کا کہنا تھا کہ پاکستان پر قرضے کا بوجھ ڈال کر ملکی معیشت کو تباہ کیا گیا اور ملک پر 30 ہزار ارب روپے کا قرضہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کالے دھن کو دیکھنے کی ضرورت ہے اور باآسانی ملک سے پیسہ باہر چلا جاتا ہے، جبکہ ملک میں 10 ارب ڈالر کی سالانہ منی لانڈرنگ کی جارہی تھی۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ گرے لسٹ سے بلیک لسٹ کی طرف جارہے تھے کسی نے اس بارے میں نہیں سوچا۔

نیب کی کارکردگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پچھلے 12 سال سے نیب کی صورتحال کیا تھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن حال ہی میں نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔

جھوٹی خبروں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے حوالے سے پیمرا کو کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

جعلی اکاؤنٹس کیس کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب یہ معاملہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے پاس ہے، جس میں خفیہ ایجنسیوں اور ایف آئی کے اہلکار شامل ہیں اور تحقیقات کے بعد امید ہے کہ یہ کیس واپس نیب کے حوالے کیے جائیں گے اور وہی انہیں فائل کرے گا۔

جعلی اکاؤنٹس کے تانے بانے بیرون ملک سے مل رہے ہیں اور یہ جتنے بھی اکاؤنٹس ہیں ان کو بیرونِ ملک ٹریس کیا جائے گا۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اب سامنے آرہا ہے کہ کس طرح لوگوں کے بے نامی اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے آتے ہیں‘۔ انہوں نے اس کی مثال لاڑکانہ کے ایک رضائی فروش سے دی جس کے اکاؤنٹ میں 80 کروڑ روپے منتقل کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ فالودے والے کے اکاؤنٹ سے 2 ارب سے زائد رقم نکل آئی، اس کے نام گولڈ کی کمپنی بنائی گئی، رکشے والے کے اکاؤنٹ سے کروڑوں روپے نکل آئے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کی نئی تحقیقات، وزیراعظم کی نیب پر تنقید

ان کا مزید کہنا تھا کہ غریبوں کو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان کے اکاؤنٹس میں پیسہ کون منتقل کررہا ہے۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ ’میں بدعنوانی کے کیسز کھلوانے کے لیے برطانیہ جارہا ہوں، جہاں برطانیہ کی ایجنسی سے ملاقاتیں ہوں گی اور ان کیسز میں اسحٰق ڈار کا معاملہ بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملتان میٹرو منصوبے میں 30 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی، لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین اور متحدہ عرب امارت کے ساتھ بھی معلومات کے تبادلے کے لیے معاہدے کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں