ٹرمپ کا دھمکی آمیز بیان، سعودی اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کو لاپتہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی کے بعد سعودی اسٹاک مارکیٹ 6 اعشاریہ 8 فیصد سے بھی تنزلی کا شکار ہوگئی۔

خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں تداول ایکسیچینج میں اتوار کو کاروبار میں شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔

قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں لاپتہ صحافی جمال خاشقجی کے حوالے سے کہا کہ تھا کہ ‘ہم اس معاملے کی تہہ تک جارہے ہیں اور اس کی سخت ترین سزا ہوگی’۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر صحافی کا قتل سچ ثابت ہوا تو یہ انتہائی ہولناک اور قابل نفرت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سزا کے دیگر طریقے موجود ہیں جن میں فوجی معاہدے کو معطل کرنا بھی شامل ہے، اور یہی روس اور چین چاہتے ہیں۔

دوسری جانب ترک حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر کو استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے کے دورے میں سعودی ایجنٹ نے قتل کردیا ہے۔

سعودی عرب نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ الزامات بے ‘بنیاد’ ہیں لیکن جمال خاشقجی کی قونصل خانے سے واپسی کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والے ممتاز سعودی صحافی جمال خاشقجی استنبول میں سعودی سفارتخانے میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے جس پر ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

ترک پولیس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انہیں منصوبے کے تحت سعوی عرب کے قونصل خانے کے اندر قتل کردیا گیا ہے۔

ترکی کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ‘پولیس کا اپنی ابتدائی تفتیش کے نتائج میں ماننا ہے کہ ایک خاص ٹیم کو استنبول بھیج کر صحافی کو قتل کیا گیا اور وہ اسی دن واپس بھی چلے گئے’۔

جمال خاشقجی کے قتل کی خبر پر ان کی ترک منگیتر خدیجہ کا کہنا تھا کہ انہیں ‘یقین نہیں آرہا ہے کہ انہیں قتل کردیا گیا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ جمال شادی کے لیے درکار سرکاری کاغذات حاصل کرنے قونصل خانے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں