Mike-Pompeo

مائیک پومپیو شاہ سلمان سے ملاقات کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے

واشنگٹن : امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات کرنے کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے۔

امریکی ترجمان ہیتھرنوریٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خصوصی درخواست پر مائیک پومپیو سعودی عرب کے دورے کے بعد ترکی جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر نے واشنگٹن پوسٹ کے صحافی کی گمشدگی پر آزادانہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی ٹی وی سی این این نے دعویٰ کیا کہ سعودی حکام جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے ایک بیان تیار کررہے ہیں جس میں اس بات کا اعتراف کیا جاسکتا ہے سعودی قونصل خانے میں تفتیش کے دوران صحافی کا قتل ہوگیا۔

امریکی ٹی وی کی رپورٹ میں 2 نامعلوم ذرائع کا ذکر کیا گیا اور اس کے ساتھ اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا کہ چونکہ ابھی تک اس بارے میں بیان جاری نہیں ہوا اسلیے ہوسکتا ہے کہ سعودی عرب اپنا فیصلہ تبدیل کرلے۔

واضح رہے کہ دعوے کے مطابق مذکورہ بیان میں سعودی حکام مبینہ طور پر یہ اعتراف کرسکتے ہیں کہ تحقیقات کے غلط سمت میں جانے کے باعث صحافی کی موت واقع ہوگئی۔

دوسری جانب امریکی صدر نے امکان ظاہر کیا ہے کہ مذکورہ واقعے میں نامعلوم قاتل ملوث ہوسکتے ہیں۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی سعودی شاہ سلمان سے ملاقات ہوئی جنہوں نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

اس موقع پر شاہ سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ ہم اس حوالے سے تمام معلومات حاصل کرنے کے لیے ترکی کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں جس پر امریکی صدر نے کہا کہ وہ فوری طور پر سعودی فرمانروا سے ملاقات کرنے کے لیے امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو کو روانہ کررہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ سعودی حکام نے اتنی سختی سے تردید کی ہے کہ ان کے پاس شاہ سلمان کی بات پر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

امریکی ٹی وی سی بی ایس کے پروگرام 60 منٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی کی گمشدگی ایک انتہائی اندوہناک اور گھناؤنا معاملہ ہے ہم اس کی گہرائی میں جائیں گے اور ملوث افراد کو سخت سزا دیں گے۔

دوسری جانب ترکی اور سعودی عرب کا قریبی دوست ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان نے صحافی کی گمشدگی پر دونوں ممالک کی مشترکہ تحقیقات کا خیر مقدم کیا۔

اس بارے میں بیان دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں ادراک ہے کہ تحقیقاتی جاری ہیں اس لیے بہتر ہوگا کہ نتائج آنے تک انتظار کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں