Orya-Maqbool-Jan

ریاست مدینہ: سودی بینکاری کا متبادل

دوسری جنگ عظیم کے بعد جنم لینے والے عالمی مالیاتی نظام کے سے منسلک ممالک میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر ہم اس سودی مالیاتی نظام اور جعلی کاغذی کرنسی سے باہر نکلنا چاہیں تو ہمارے پاس متبادل کیا ہے اور کیا ہم یہ طاقت، قوت، حوصلہ اور عزم رکھتے ہیں کہ ہم اس سودی معیشت کو خیرآباد کہہ کر آنے والی سختیوں کو برداشت کرسکیں۔ اگر ہم برداشت کرنے کا ارادہ کریں تو پھر ہمارا نظام معیشت کیا ہو گا اور کاروبار سلطنت کیسے چلے گا۔ سودی معیشت کا متبادل کیا ہوسکتا ہے اور کیا وہ واقعی نافذ العمل ہے یا نہیں۔ جہاں تک اس عالمی مالیاتی نظام سے علیحدہ ہو کر کاروبار ریاست چلانے کی بات ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ نہ صرف یہ نافذالعمل ہے بلکہ 1991ء تک آدھی کے قریب دنیا اس سودی معیشت اور جدید بینکاری نظام کے بغیر 75 سال تک بحسن و خوبی اپنی ریاستیں چلاتی رہی۔ 1917ء میں جب بالشویک کمیونسٹ انقلاب آیا تو یہ مکمل طور پر اس سرمایہ دارانہ نظام سے ایک بغاوت تھی۔ روس ایک طاقت تو تھا لیکن اسے دیسی عالمی نوآبادیاتی طاقت کی حیثیت حاصل نہ تھی جیسی برطانیہ، فرانس حتیٰ کہ جرمنی کو حاصل تھی۔ تیل کے ذخائر بھی بہت کم دریافت ہوئے تھے کہ روسی معیشت اسی کی بنیاد پر مضبوط کہلا سکتی۔ لیکن لینن اور ٹراٹسکی کے انقلابی ساتھیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں ریاست چلانے کے لیے صرف اورصرف ایک سنٹرل بینک کی ضرورت ہے جو ملک میں کرنسی بنائے اور اس کا تحفظ کرے۔ اس کے علاوہ ہم سودی معیشت کی اس ’’مردہ محنت‘‘ (Dead Labour) کے چونکہ قائل نہیں، اس لیے ہمیں ایسی ’’مردہ محنت‘‘ کے اداروں یعنی سودی بینکوں کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اپنی پوری معیشت کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ انہیں زندگی گزارنے کے لیے کسی قسم کی بیرونی تجارت یا مدد کی ضرورت نہ ہو۔ آپ حیران ہوں گے کہ پوری دنیا کے معاشی نظام سے کٹ کر سوویت یونین کی ترقی کا عالم کیا تھا۔ 1890ء میں روس میں سالانہ جی این پی 21,180 ملین ڈالر کے برابر تھی، جبکہ برطانیہ جو عالمی طاقت تھی اس کی جی این پی 29,441 ملین ڈالر تھی۔ لیکن سوویت یونین کے قیام کے 21 سال بعد یعنی 1938ء میں سوویت یونین کی سالانہ جی این پی 75,964 ملین ڈالر تھی اور برطانیہ کی صرف 56,103 ملین ڈالر تھی جبکہ برطانیہ اس وقت تک بھی عالمی نوآبادیاتی طاقت تھا جبکہ سوویت یونین کی کوئی کالونی نہ تھی۔ خودانحصاری کی یہ پالیسی ہی تھی کہ سوویت یونین کی برآمدات اور درآمدات کبھی بھی جی این پی کی چارفیصد سے زیادہ نہ تھیں۔ 1985ء میں جب سوویت یونین کو مغربی ممالک سے تجارت کرنا پڑی تو وہ اپنی مصنوعات اور سونا عالمی منڈی میں بیچ کر آئی ایم ایف کی ہارڈ کرنسی خریدتا اور پھر اس کے ذریعے ادائیگیاں کرتا کیونکہ سوویت یونین کا ’’روبل‘‘ ایک قابل تبدیل (Convertable) کرنسی نہیں تھی۔ یہ نظام 75 سال تک چلا، زندہ رہا بلکہ دنیا بھر کے مزدوروں، کسانوں اور پسماندہ طبقے کی امیدوں اور آرزوئوں کا مرکز رہا اور آج بھی لاتعداد لوگوں کے خوابوں میں بستا ہے۔ آخری تین دہائیوں میں تو مشرقی یورپ اور چین اور مشرق بعید کے ممالک کا ایک گروہ بن گیا تھا جو سودی بینکاری کے نظام اور آئی ایم ایف کے شکنجے کے بغیر آپس میں کاروبار کرتے تھے۔ پوری اسلامی دنیا اپنے لیے ویسا ہی متبادل غیر سودی معاشی نظام تخلیق کرسکتی ہے اور اسے اپنی ستاون ریاستوں کو چلانے کے لیے کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اشتہار



سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس پوری اسلامی دنیا کو راضی کون کرے گا۔ سوویت یونین میں جب انقلاب آ رہا تھا تو کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ہم دنیا سے کٹ کر کیسے زندہ رہیں گے۔ ایک نظریہ تھا جسے نافذ کرنا تھا اور اسے کسی دوسرے کی پرواہ کیے بغیر نافذ کردیا گیا۔ یہی معاملہ ہمارا ہے اگر کوئی ایک ملک یہ فیصلہ کرلے کہ ہم نے سودی عالمی معاشی نظام سے علیحدہ ہو کر اسلامی اصولوں پر اپنا نظام مرتب کرنا ہے تو جیسے آج کے اسلامی بینکاری نظام کو جوکہ جدید بینکاری کی بگڑی ہوئی شکل ہے، اس پر لاتعداد ملکوں نے عملدرآمد شروع کردیا ہے تو ویسے ہی اگر پاکستان ایک نئے اسلامی عالمی مالیاتی نظام کی بنیاد کا آغاز کرے گا تو دنیا بھر کے اسلامی ممالک اپنی عوام کی وجہ سے اس میں شامل ہو جائیں گے۔ یوں جیسے آدھی دنیا پر کمیونزم کا اپنا مالیاتی نظام رائج تھا، ویسے ہی مسلمانوں کا بھی ایک غیر سودی مالیاتی نظام ترتیب پا سکتا ہے۔ یہ تو عالمی مالیاتی نظام سے وابستگی اور علیحدگی کا مسئلہ تھا۔ اس کے لیے پوری قوم اور اس کی قیادت کے اندر بہت بڑی قوت ارادی، عزم و حوصلہ اور جرأت درکار ہے۔ یہ مسئلہ ویسے بھی عالمی سطح پر قوت و اختیار کا ہے لیکن اپنے ملک میں ہم کیسے سودی بینکاری سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں اور اس کے لیے کون سا متبادل ہو سکتا ہے اور عمران خان اپنی ریاست کو کیسے سودی بینکاری سے دور کر کے اسے ایک آئیڈیل ریاست مدینہ بنا سکتا ہے، اس سلسلہ میں اسلامی تاریخ نے بہت سے ماڈل پیش کئے اور آج بھی ان پر عملدرآمد ہورہا ہے۔ 1۔ امام ابوحنیفہ کا غیر سودی معاشی ماڈل: عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ شروع کی اسلامی ریاست میں چونکہ وسائل بے شمار تھے، معاشرہ سادہ تھا، اس لیے کاروبار سلطنت کے لیے زکوٰۃ و عشر ہی کافی تھا۔ عام روزمرہ کاروبار کے لیے سونے اور چاندی کے سکے چلتے تھے، اس لیے نہ کسی عالمی مالیاتی نظام کی ضرورت تھی اور نہ ہی کسی بینکاری سسٹم کی حاجت۔ لوگ اسلام سے پہلے سود پر قرض دیتے تھے لیکن اسلام نے اس پر پابندی لگا دی تھی اس لیے راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔ یہ معاملہ اتنا آسان نہیں تھا۔ مسلمانوں کے ابتدائی دور میں جو خوشحالی آئی وہ زکوٰۃ و عشر کے علاوہ فتوحات کے بعد غیر مسلموں پر ’’جزیہ‘‘ جیسے ٹیکس کے لگانے سے آئی جس سے ایک ریاست مالا مال ہو گئی لیکن دین کی اشاعت اور تبلیغ کی وسعت سے لوگ دھڑا دھڑ اسلام قبول کرنے لگے تو جزیہ کی رقم میں کمی ہونا شروع ہو گئی۔ یہاں اسلامی تاریخ کا وہ المناک باب شروع ہوتا ہے کہ سرمائے اور ٹیکس کے لالچ میں عبدالملک بن مروان نے مذہب کی تبدیلی یعنی مسلمان ہونے پر پابندی لگادی۔ اس زمانے میں بھی لوگوں کے پاس بچتیں ہوتی تھیں جنہیں وہ کاروبار پر نہیں لگا پاتے تھے تو انہیں کسی امانت دار کے پاس امانت کے طور پر رکھوا دیتے تھے۔ ایسے شخص کو بستی، کوچے اور قریے میں امین کہا جاتا تھا۔ کونہ میں امام ابو حنیفہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے پاس لوگ بہت بڑی تعداد میں امانتیں رکھواتے تھے۔ جب ابوحنیفہ کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ ایسی پابندی کے بعد دین کی اشاعت رک جائے گی تو وہ ایک متبادل معاشی نظام لے کر سامنے آئے۔ جیسے آج حکومتوں کو بڑے بڑے پراجیکٹ کرنے کے قرضے کی ضرورت ہوتی ہے جسے جدید بینک پورا کرتے ہیں، اسی طرح امام ابو حنیفہ نے بھی ایک غیر سودی بینک کا ماڈل امت کے سامنے پیش کیا اور اپنی زندگی میں اسے اپنے شاگردوں کے ذریعے قائم کر کے دکھایا۔ امام ابو حنیفہ کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ آپ نے ان تمام لوگوں کو بلایا جن کی امانتیں ان کے پاس تھیں اور کہا کہ تم مجھے امانت نہیں قرض حسنہ دو۔ اس کے دو فائدے ہیں، ایک یہ کہ قدرتی آفات کی صورت میں امانت ضائع ہو جائے تو واپسی نہیں ہوتی جبکہ قرض کی رقم واجب الادا رہتی ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ رسول اکرم ؐ نے فرمایا کہ صدقے کا اجر دس گنا ہے تو قرض حسنہ دینے کا اجر اٹھارہ گنا ہے۔ یوں امام ابو حنیفہ نے اپنے کپڑے کے کاروبار کو وسعت دی، انہوں نے وہاں ’’خز‘‘ یعنی کپڑے کا بڑا کارخانہ لگایا، ایک بڑی دکان قائم کی، اسی سرمائے سے بغداد، نیشاپور اور مرو میں مال بھیجتے اور منگواتے۔ اس کاروبار کے منافع سے وہ کئی کام کرتے جسے آج کے دور میں پبلک فنانسنگ کہہ سکتے ہیں۔ ضرورت مندوں کو قرض دیتے، سرکاری ضروریات مثلاً صحت اور تعلیم کے لیے وقت قائم کرتے اور اگر کوئی ان کو امانت کی بجائے کاروبار میں شراکت کرنا چاہتا تو وہ حصے دار بنا کر منافع دیتے رہتے۔ یہاں تک کہ آپ نے اس منافع سے زید بن علی کو جہاد کے لیے سرمایہ بھی فراہم کیا۔ یہ پورا نظام آج کی بینکاری کا بہترین متبادل ہے جو امام ابو حنیفہ نے 710 عیسوی میں قائم کیا۔ آج صرف ایک اہم سرکاری ضرورت ’’ڈیم کی تعمیر‘‘ کے لیے اس ماڈل پر عمل کیا جائے تو چندے اور بھیک کی ضرورت اور نہ ہی بیرونی امداد کی۔ لوگوں کو اس ڈیم میں شراکت دار بنائو اور پھر ریاست ان کو اس کی آمدن سے منافع دینے کی ذمہ دار ہوگی۔
اشتہار



امام ابو حنیفہؒ کا وہ معاشی ماڈل جو انہوں نے کوفہ اور دیگر شہروں میں نافذ کر کے دکھایا‘ آج کے جدید دور کے اس سب سے بڑے سوال کا جواب ہے کہ بڑے بڑے منصوبوں کی تکمیل کے لیے سودی قرضے درکار ہوتے ہیں۔ جن کے لیے بینکوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ امام صاحب نے لوگوں کو شراکت دار بنایا‘ ان کی رقم کو قرض تصور کیا اور اس رقم سے جو بھی کاروبار ہوا‘ اس کے منافع میں شراکت داروں کی مرضی سے خرچ کیا۔ آج ہم بھاشا ڈیم کے لیے جو لوگوں سے خیرات مانگ رہے ہیں اور لوگ ایک جذبے کے ساتھ اسے دے بھی رہے ہیں۔ لیکن ایسے لوگ بھی کم ہوتے ہیں اور ایسا سرمایہ بھی کم ہوتا ہے جو ضروریات سے زیادہ ہو اور اسے خیرات کر دیا جائے۔ لیکن ملک کی اکثریت کے پاس آڑے وقت کے لیے بچت ضرور موجود ہوتی ہے۔ ان میں بھی اکثریت ایسی ہوتی ہے جنہوں نے سود کے خوف سے سونے یا زمین کی صورت جمع کر رکھی ہوتی ہے۔ یہ لوگ روپیہ ڈوب جانے کے خطرے سے کسی کاروبار میں بھی نہیں لگاتے۔ اگر حکومت ہر ایسے بڑے پراجیکٹ کے لیے علیحدہ علیحدہ وقف قائم کرے جس کی ذمہ دار حکومت ہو۔ اور لوگوں کو کہا جائے کہ وہ اپنی بچت اس میں لگائیں۔ ساتھ میں حکومت کا حصہ بھی شامل ہو تو پھر اس ڈیم کی تکمیل کے بعد جو آمدن آئے۔ اس میں سے ہر حصے دار کو اس کے حصے کے مطابق منافع دیا جائے‘ حکومتی منافع کو واپس اسی پراجیکٹ میں لگا دیا جائے تاکہ جلد از جلد یہ اپنی لاگت پوری کر سکے۔ ایسا کرنا سودی بینکاری کے اس تصور کے باکل مختلف ہو گا جس میں بنک ایک ساہوکار کی طرح عام آدمی سے اس شرط پر سرمایہ لیتا ہے کہ وہ اسے دس فیصد سود دیتا ہے اور پھر اس آدمی کی مرضی کے بغیر اس سرمائے کو پندرہ فیصد سود پر کسی دوسرے کو قرض دیتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ یہ سرمایہ شراب کی فیکٹری لگانے‘ جوئے کا کسینو کھولنے۔ یا ڈانس کی تعلیم کی اکیڈمی کے لیے سود پر قرض دے دے۔ اس طرح اول تو سود حرام اور دوسرا اس سارے منافع سے جو رقم ملے گی وہ کھاتے داروں میں تقسیم ہو گی۔ ایک پرہیز گار کے گھر میں جہاں سود آئے گا۔ وہاں وہ شراب کی فیکٹری میں اجتماعی طور پر حصے دار بھی ہو گا اور منافع بھی کمائے گا۔ ہر کاروبار‘ ہر سرکاری بڑے منصوبے کی علیحدہ علیحدہ کمپنیاں یا وقف بنانا امام ابو حنیفہؒ کا ماڈل ہے تاکہ اول سود سے بچا جائے اور دوسرا جو سرمایہ قر ض دیتا ہے اسے پتہ ہو کہ اس سے کہیں حرام کاروبار تو نہیں ہو رہا۔ کسی بھی حکومت کے لیے اس ماڈل کو نافذ العمل کرنا انتہائی آسان ہے۔ ہر بڑا کاروبار تین مختلف مقامات پر اپنی کمپنی کی رجسٹریشن کرواتا ہے۔ اور ہر حکومتی پراجیکٹ کی بھی ایک کمپنی بنتی ہے۔ اگر اس میں بنک سے قرضے کی بجائے اس ماڈل پر عملدرآمد کرنے کو کہا جائے تو اس نئی ’’ریاست مدینہ‘‘ سے اسی فیصد سے زیادہ سود ختم ہو جاتا ہے۔ چونکہ اس امت کو گزشتہ چودہ سو سال میں کبھی بھی ایسی منظم ’’سودی قوت‘‘ یعنی بینکاری نظام کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس لیے اس امت کے فقہا اور مجتہدین نے سود کے حرام ہونے پر تودفترکے دفترلکھے لیکن کسی متبادل معاشی ماڈل پر گفتگو نہ کی۔ سودی مالیاتی نظام کی عمارت کی بنیاد آج سے 324سال قبل 1694ء میں بنک آف انگلینڈ کے چارٹر سے رکھی گئی تھی۔ تقریباً پہلے سو سال تک یہ سست روی سے معاشروں میں سرایت کرتی گئی۔ پھر سود کے لالچ نے ان اداروں کو اعتماد بخشا اور پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں ان بینکاروں نے جو سرمایہ کاری کی اس سے انہیں جو منافع حاصل ہوا وہ تاریخی تھا۔ کروڑوں انسانوں کی قتل گاہ پر ان کی سودی منافع کی عمارت تعمیر ہوئی۔

اشتہار


پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر‘ ہمارے دوست جناب مجاہد کامران نے اپنی ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل کتاب The international Bankers(عالمی بینکار: جنگ عظیم اول دوئم اورآگے)world war I,II and beyondمیں جو سودی منافع خوری اور انسانی قتل و غارت کے شواہد اکٹھے کئے ہیں وہ دل دہلا دینے والے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد امت مسلمہ کے علماء و فقہا کو اس بات کا احساس ہوا کہ سود ایک منظم نظام بن چکا ہے اور ہمیں بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک غیر سودی متبادل معاشی نظام ترتیب دینا ہو گا ورنہ ہم مسلسل سودی نظام میں زندہ رہنے پر مجبور ہوں گے۔ آپ حیران ہوں گے کہ جہاں اقبال کے افکار کے مطابق قائد اعظم نے سٹیٹ بنک کا افتتاح کرتے ہوئے ایک غیر سودی معیشت کے قیام کے لیے ہدایات دی تھیں۔ وہیں پاکستان کی بیشتر حکومتوں نے بھی 1988ء تک خود کو اس ذمہ داری سے غافل نہ رکھا۔1964ء سے 1966ء تک اسلامی نظریاتی کونسل نے دو سال کی محنت سے تمام بینکی نظاموں کا جائزہ لیا اور سودی معیشت کو حرام قرار دیا۔ یہ ایوب خان کی آمریت کا دور تھا۔ اس کے بعد یحییٰ خان کی آمریت آئی اور یہ کام جاری رہا۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے 3دسمبر 1969ء کو اپنی رپورٹوں کا اعادہ کیا آمریت گئی‘ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوریت آئی۔ سودی نظام کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے گئے۔ بس آئین میں ایک لائن لکھ کر فارغ ہو گئے۔ ضیاء الحق نے دوبارہ کام شروع کروایا اور 25جون 1980ء کو سودی بینکاری کا ایک متبادل تجویز کیا گیا۔ یہ متبادل نظام شیخ محمود احمد کی کتاب ’’سود کی متبادل اساس‘‘ میں موجود ہے۔ اس میں ایک نہیں دس متبادل طریق کار تجویز کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کتاب Man and moneyمیں اس متبادل پر تفصیلی بحث موجود ہے۔ شیخ محمود احمد صاحب کے ان متبادلوں کا ذکر سپریم کورٹ کے 1999ء کے اس فیصلے میں بھی موجود ہے جو سود کی حرمت پر دیا گیا تھا۔ شیخ صاحب تو بارگاہ الٰہی میں اپنے اجر و ثواب کے ساتھ جا پہنچے لیکن پھر کسی حکومت نے اس طرف توجہ نہ دی۔ لیکن انفرادی سطح پر لوگوں نے بہت کام کیا یہ کام پوری دنیا میں ہوا ہے۔ جدہ میں مقیم ڈاکٹر عمر چھابرا کا بہت بڑا کام ہے۔ ان کی سودی معیشت کے خلاف وہ تقریر Islam and Economic developmentاور پاکستان کی معیشت کے بارے میں تقریرWhat is wrong with pakistanپڑھنے کے قابل ہیں۔ گزشتہ دنوں پشاور کے عبید اللہ صاحب نے اپنے پی ایچ ڈی کے تھیسز میں ان تمام معاشروں کا ذکر کیا ہے جہاں آج بھی غیر سودی معیشت پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔ اس میں خاص طور پر کینیا کا ’’بنگلہ پیسہ ماڈل‘‘ جو آج بھی نافذ العمل ہے خواہ ایک کمیونٹی تک محدود ہے لیکن اس کمیونٹی کی خوشحالی قابل رشک ہے ،کا ذکر ہے۔ اس وقت متبادل کی بحث نہیں کہ متبادل لاتعداد موجود ہیں صرف اور صرف اس فیصلے کی ضرورت ہے کہ عمران خان کی ریاست مدینہ سود سے پاک ہو گی یا نہیں۔ اگر ہو گی تو پھر آج ہی سے اسے ان تمام لوگوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہو گا جو اس کے متبادل پر کام کر رہے ہیں تاکہ وہ ایک ماہ کے اندر اس ٹیم کو ڈیزائن کر سکیں۔ ایسے افراد کی ایک فہرست‘ میں بھی پیش کر سکتا ہوں۔ آج سے ایک ماہ قبل میں نے عمران خاں صاحب کو اس بارے میں ایک میسج کیا تھا جس کے جواب میں 24ستمبر 2018ء کو سوا آٹھ بجے رات ان کا جواب آیا تھا”will call later tonight”میں آج بھی اس later tonightکے انتظار میں ہوں کہ اس 63سال کی عمر میں جو اب تک کام کر سکا اور جن احباب کو جانتا ہوں ان کے نام حوالے کر کے اپنے لیے توشۂ آخرت بنا لوں کہ شاید وقت بہت کم ہے۔ ہمیں کوئی دکھا دو اک کرن ہی ٹمٹماتی سی کہ جب ہو گی فروزاں بزم عالم ہم نہیں ہوں گے.
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں