تھرکول پاور منصوبے کی تحقیقات نیب کے سپرد

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تھرکول پاور منصوبے کی تحقیقات قومی احتساب بیورو (نیب ) کے سپرد کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل کو منصوبے کے فرانزک آڈٹ کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے تھرکول پاور منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران معروف سائنسدان اور تھر میں زیر زمین گیس نکالنے کے منصوبے کے چیئرمین ڈاکٹر ثمر مبارک مند، رکن اسمبلی رمیش کمار، نیب پراسیکیوٹر اور دیگر حکام پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ اس منصوبے سے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے، دیکھا جائے کہ اس منصوبے میں کوئی کرپشن تو نہیں ہوئی۔

اس پر نیب پراسیکیوٹر اصغر حیدر نے رپورٹ پیش کی جس پر عدالتی معاون نے بتایا کہ منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ واضح نہیں ہے، 30 سال تک 10 ہزار میگاواٹ بجلی کا کہا گیا تھا۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ بلین (ارب) کیا ہوتا ہے، اربوں روپے درخت کے پتوں کی طرح اڑا دیے گئے، اب اکھٹے کر رہے ہیں تو پتہ چل رہا ہے ارب کیا ہوتا ہے، 3 ارب 80 کروڑ روپے تو اس منصوبے پر لگ چکے ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے یہ پیسے دینے ہیں؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب ثمر مبارک نے دعوے کیے تو کہا گیا کہ مفت بجلی ملے گی، 4 ارب روپے کا نقصان کردیا گیا، اس پر ثمر مبارک نے کہا کہ آسٹریلیا کی ایک کمپنی بھی زیر زمین گیسیفکیشن کر رہی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیسے ناکام منصوبے کے آغاز پر بہت شورکیا گیا؟ کہا گیا کہ بجلی انتہائی سستی ہوجائے گی۔

اس پر رمیشن کمار نے کہا کہ منصوبہ 2 سال سے بند ہے، ملازمین کو تنخواہیں بھی نہیں دی گئی، جس پر جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ ایک ماہر کے مطابق یہ منصوبہ قابل عمل نہیں۔

دوران سماعت تھرکول گیسیفکیشن سے بجلی بنانے کا معاملہ بھی زیر غور آیا، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس میں 2 طریقے ہیں، ایک کوئلہ نکال کر بجلی پیدا کی جاتی ہے، دوسرا وہ جو بندرگاہوں پر پلانٹ لگائے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دیکھنا ہے کہ کہیں ان منصوبوں میں خردبرد تو نہیں ہوئی۔

اس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ پشاور کے انجنیئر نے کہا ہے کہ زیر زمین گیسیفکیشن سے بجلی بنانا ممکن نہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت کو بڑا شور مچایا گیا تھا۔

دوران سماعت عدالتی معاون سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جن لوگوں نے ڈاکٹر ثمر مبارک کے منصوبے کی منظوری دی تھی، انہیں بھی دیکھنا چاہیے تھا۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بعد میں کوئی ذمہ داری نہیں لیتا، پاکستان اور سندھ کا نقصان ہوگیا۔

عدالت میں سماعت کے دوران عدالتی معاونین سلمان اکرم راجا اور شہزاد علی نے تجاویز جمع کروائیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وفاق اور سندھ حکومت کی کیا پوزیشن ہے۔

جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ اس منصوبے کا سارا پیسہ وفاقی حکومت نے دیا جبکہ زمین سندھ حکومت کی ہے۔

ڈاکٹر ثمر مبارک نے کہا کہ اس منصوبے میں کوئی ماحولیاتی آلودگی نہیں اور وکیل اس منصوبے کے بارے میں نہیں بتا سکتے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مجھے پتا تھا کہ آپ یہی کہیں گے۔

بعد ازاں عدالت نے معاملے کی تحقیقات نیب کے سپرد کرتے ہوئے کہا کہ آڈیٹر جنرل 15 دن میں فرانزک آڈٹ کی رپورٹ دیں، ساتھ ہی عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ منصوبے سے متعلق اشیا قبضے میں لینے کا حکم دے دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں