افغانستان میں مکمل امن تک امریکی افواج کی واپسی نہیں چاہتے، پاکستان

اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں مکمل امن تک امریکی اوراتحادی افواج کی واپسی نہیں چاہتا۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل نے ہفتہ واربریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان کسی سے خوفزدہ نہیں ہے، پاکستان کا موقف دیرینہ ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، امریکا اورافغانستان اس موقف کوسمجھ رہے ہیں، افغانستان میں مفاہمت کی تمام کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، پاکستان افغانستان میں مکمل امن تک امریکی اوراتحادی افواج کی واپسی نہیں چاہتا، اتحادی فوج کے افغانستان سے انخلا سے سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہوں گے، چاہتے ہیں کہ معاملات ٹھیک ہونے تک اتحادی افواج موجود رہیں، پہلے بھی معاملات ٹھیک ہونے سے پہلے فوجوں کے انخلا سے پاکستان کومسائل بھگتنے پڑے۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹرمنان وانی سمیت 7 کشمیریوں کو شہید کیا گیا، آزاد کشمیرقانون سازاسمبلی نے منان وانی کی شہادت کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کی، بھارتی فورسزنے مقبوضہ کشمیرمیں احتجاج پرپابندی لگائی، حالیہ بھارتی مظالم انسانی حقوق کے چیمپئنزکی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔

دفترخارجہ نے کہا کہ چہلم امام حسین کے موقع پرویزوں سے متعلق ایران اورعراق سے رابطے میں ہیں، امید ہے ویزوں کا مسئلہ حل ہوجائے گا تاہم یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ویزوں کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو گیا ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی اوروزیر خارجہ نے کانفرنس میں علاقائی روابط اورسی پیک پرروشنی ڈالی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں