قوم آبی ذخائر کی تعمیر میں کوتاہی کرنے والوں سے جواب مانگتی ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جب پتا تھا پانی پینے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو کسی نے کیوں کچھ نہیں کیا؟ قوم آبی ذخائر کی تعمیر میں کوتاہی کرنے والوں سے جواب مانگتی ہے۔

ملک میں پانی بحران کے حل سے متعلق سپریم کورٹ کے بین الاقوامی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق دیتا ہے اور ہر شہری کو اپنے بنیادی حقوق کا علم ہونا چاہیے، اگر عوام کو اپنے بنیادی حقوق کا علم ہوجائے تو پھر کسی انفورسمنٹ ایجنسی کی ضرورت نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج دنیا بھر کے ماہرین متفق ہیں کہ پاکستان کو پانی کی کمی کا سامنا ہے، جب پتا تھا پانی پینے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو کسی نے کیوں کچھ نہیں کیا؟ قوم کے ساتھ یہ ظلم کیوں کیا گیا؟ قوم آبی ذخائر کی تعمیر میں کوتاہی کرنے والے سے جواب مانگتی ہے۔

میاں ثاقب نثار نے کہا کہ پانی کے تحفظ کے لیے ہمیں ہر حد تک جانا ہوگا، پانی کسی سائنسی فارمولے سے نہیں بنایا جاسکتا اس کے لیے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے، اگر اب بھی پانی کے لیے اقدامات نہ کیے تو زندگی بہت مشکل ہوجائے گی، ہماری نئی نسل پانی سے محروم ہوجائے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے اور ڈیم فنڈز پر کسی کو کوئی کک بیکس نہیں لینے دوں گا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ڈیم بنانا پوری قوم کی ذمہ داری ہے، پانی انتہائی قیمتی چیز بن گئی ہے اور کئی دہائیوں تک ہم نے اس اہم ترین چیز کو نظر انداز کیا، واپڈا اہم ادارہ ہے مگر ڈیم بنانا صرف اس کا کام نہیں، واپڈا کو ٹھیکے دینے کا اختیار دے کر رشوت کا جواز پیدا کرنا نہیں چاہتے۔

سمپوزیم کا اعلامیہ جاری

آبی وسائل سے متعلق سمپوزیم کا اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں قلت آب کا مسئلہ شدید ترہو رہا ہے، پاکستان 2025ء تک خشک سالی کا شکار ہوسکتا ہے، پانی کا ضیاع روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، دریاؤں کے مقامات کو محفوظ کیا جائے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آبی ذخائر کے لیے اقتصادی معاملات ترجیح ہونے چاہئیں، ریگولیٹری نظام کے تحت آبی تحفظ یقینی بنایا جائے، واپڈا کی ادارہ جاتی استعداد کار بڑھائی جائے، فعال اور مضبوط سندھ طاس اتھارٹی کا قیام یقینی بنایا جائے، پانی سے متعلق اداروں کو اختیارات دیے جائیں، زراعت پر ٹیکس لگایا جائے، پانی کی تقسیم میں جدید طریقے استعمال کیے جائیں ساتھ ہی چھوٹے ڈیم تعمیر کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں