آخری بار آئی ایم ایف میں جارہے ہیں: اسد عمر

کراچی: وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا ہےکہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا اور میڈیا میں معیشت پر بہت طوفان نظر آرہا ہے مگر ایسا نہیں اور کوئی ایسی خطرے کی گھنٹی نہیں بج رہی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کراچی میں بروکرز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے بھر پور اقدامات ہوں گے، اسٹاک مارکیٹ میں بہترین گروتھ ہے، بہترین نتائج کے لیے محنت جاری رکھنی چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کاروبار کرنا بہت مہنگا کردیا ہے، ادراک ہے، کاروباری اور سرمایہ کاری کے ماحول کو مجموعی طور پر بہتر بنانا ہے، کیپیٹل مارکیٹ کی بہتری کے لیے بھی کام کریں گے، مارکیٹ ریگولیٹ ہونی چاہے اوور ریگولیٹ نہیں، کاروبار میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ میڈیا میں معیشت پر بہت طوفان نظر آرہا ہے، ایسا نہیں ہے کوئی ایسی خطرے کی گھنٹی نہیں بج رہی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ڈھائی ارب ڈالر سےبڑھ کر 18 ارب ڈالر ہوگیا ہے لیکن خسارہ کم ہونا شروع ہوگیا ہے اور ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوگا۔

اسد عمر نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا، 7 سے 8 ماہ میں ڈالر کی قدر میں 26 ،27فیصد کمی ہوگی، معاملات کنٹرول میں آرہے ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ قرضہ لینا گناہ نہیں اس پر سیاست بہت ہوتی ہے، 15 ارب روپے اس سال قرضے واپس کرنے پر استعمال کریں گےْ

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہئیں، مجھے 21 کروڑ پاکستانیوں کو بچانا ہے، امپورٹرز نے اتنا پیسا کمایا جس کی کوئی حد نہیں ہے، امپورٹرز نے روپےکی قدر کم ہونے سے انونٹری پر اربوں روپےکمائے۔

ان کا کہنا تھاکہ اس سال 12 ارب ڈالر کا فنانسنگ گیپ ہے، مارکیٹ میں سرمایہ کاری ٹیکسیشن کی وجہ سےکم ہے تو اسے ٹھیک ہوناچاہیے۔

اسد عمر کہاکہ 100 دن پلان میں پانچ سالوں کی منصوبہ بندی کرنی ہے، خیبرپختونخوا کی منصوبہ بندی دوسرے صوبوں سے بہتر ہوگی جب کہ 50 لاکھ گھر نجی کمپنیاں بنائیں گی، سیاحت اور تعمیرات کے شعبوں میں کام سے ملازمتیں پیدا ہوں گی، نوکریاں حکومت نہیں دے گی بلکہ پیدا کرے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان نے مالی امداد کے لیے آئی ایم ایف سے باضابطہ درخواست کردی ہے اور اس ضمن عالمی مالیاتی ادارے کا وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا ہم وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں صحافیوں کے وفد سے ملاقات کی تھی جس میں ان کا کہنا تھاکہ کہ پاکستان دوست ممالک سے رابطے کررہا ہے، شاید آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں