Orya-Maqbool-Jan

یوٹوپیا

پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ کسی بھی معاملے میں سیاست دان عرق ریزی اور محنت کو توہین شان سمجھتے ہیں جو علم رکھتے ہیں ان کا مبلغ علم یونیورسٹیوں کی تعلیم کے دوران پڑھائے جانے والے سیاسیات و معاشیات کے نصابی اصولوں پر مبنی ہوتا ہے یا پھر اسی حوالے سے مغرب و مشرق میں جو مضامین چھپتے ہیں انہیں پڑھ کر اپنے ذہن میں ایک خیالی معاشرے کی ایک تصویر بنا لیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ برسراقتدار آ کر ویسا ہی معاشرہ قائم کر دیں۔ ان کے خوابوں میں بسی اس جنت ارضی کو جدید و قدیم اصطلاحات میں یوٹوپیا “Utopia”کہتے ہیں۔ اس لفظ کو 1516ئمیں مشہور مصنف سرتھامس مور نے یونانی روایت سے تخلیق کیا۔ ان کی اس کتاب میں ایک ایسے تصوراتی جزیرے کا ذکر ہے جس میں انسانی ضروریات کی مکمل تسکین ہوتی ہے۔ تھامس مور کا یہ جزیرہ تخلیاتی تھا لیکن اس کا محل وقوع بحراوقیانوس میں جنوبی امریکہ کے ساحلوں کے آس پاس تھا۔ یونانی زبان میں ’’یوٹوپیا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسی سرزمین جس کا وجود ہی نہ ہو۔ تھامس مور کی کتاب کے بعد سیاسیات، معاشیات اور معاشرتی علوم میں یہ لفظ ایک علامت بن گیا اور ہر وہ شخص جو زمینی حقائق سے بے خبر ہو کر تبدیلی کے خواب دیکھنا تھا۔ اسے کے خوابوں کو ’’یوٹوپیا‘‘ اور اسے ’’یوٹوپین‘‘ سیاست دان یا معیشت دان کہا جانے لگا۔ عملی طور پر اس کی مثال رابرٹ اوین”Robert own”تھا۔ اس کے خیالات کو آج تک “Utopean Socialism”تخیلاتی سوشلزم کہا جاتا ہے۔ چودہ مئی 1771ء کو پیدا ہونے والا یہ شخص اپنے زمانے میں کپڑے کے لاتعداد کارخانوں کا مالک تھا۔ اس کا کاروبار اسکاٹ لینڈ سے مانچسٹر اور لندن تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب مزدوروں کے حالات دگرگوں تھے اور برطانیہ میں چائلڈ لیبر اپنے عروج پر تھی۔ رابرٹ اوین نے پہلے اپنے کارخانوں میں اصلاحات نافذ کیں، مزدوروں کو بہتر اجرتیں دیں، صحت اور رہائش کی سہولتیں میسر کیں۔ اس کے بعد اس نے اپنی دولت سے 2500گھرانوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا شہر نیو لنارک “New Lanark”کے نام سے آباد کیا جس کے رہنے والوں کو اس نے تمام سہولیات مہیا کیں۔ اس کا اندازہ تھا کہ یہ خیالی شہر جسے اس نے حقیقت کا روپ دے دیا ہے بہت ترقی کرے گا۔ لیکن ان تمام تصورات، خیالات اور خوابوں کا ایک ایسا انجام ہوا جس کا خیال بھی اس کے ذہن میں نہیں آیا تھا۔ یہ شہر نکموں، نکھٹوئوں اور کام کاج کے بغیر اناج برباد کرنے والوں کا مسکن بن گیا۔ وہ امریکہ چلا گیا، جہاں ایک بار پھر اس نے 1824ء میں انڈیانا میں ایک مختصر سی آبادی تخلیق کی جس کا نام “New Aarmony”یعنی ’’نیا حسنِ سلوک‘‘ رکھا۔ اس شہر میں نہ صرف خوراک، کپڑے اور مکان میسر تھے، بلکہ صحت، تعلیم اور بچوں کی دیکھ بھال کا بھی انتظام تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس کے بسنے والے بے غرضی سے اس خیالی دنیا کو آباد رکھیں گے مگر اس کا حشر بھی ویسا ہی ہوا بلکہ یہاں تو لوگ نشے میں دھت، عیش و عشرت کے ماحول میں مست ہوتے گئے۔ پاکستانی سیاست میں رابرٹ اوین کی طرح اپنی جائیداد بیچ کر خوابوں کی بستی تخلیق کرنے والا تو کوئی نہیں لیکن ایسی بستی کے خواب دیکھنے والے وقفے وقفے کے ساتھ ابھرے لیکن اکثر کامیاب نہیں ہو پائے۔ 2018ء کے انتخابات میں پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ اس طرح خواب دیکھنے والوں کی اکثریت حکومت میں آ گئی ہے اور اس سے بڑھ کر جو المیہ ہوا ہے وہ یہ کہ لوگوں نے ان کے خوابوں پر یقین بھی کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ مخالفین کا ایک بہت بڑا گروہ میڈیا سے لے کر عام نشست و برخاست تک یہ تاثر دے رہا ہے کہ یہ خواب تو پورے ہونے والے ہی نہیں ہیں۔ خواب خواہ شداد کی جنت ہو یا ساحر الموط کی برگ حشیش سے تخلیق کردہ بہشت، پورے ہو جاتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ آپ کو اپنے خواب کی تکمیل کے سازوسامان اور میٹریل کا علم ہو۔ آپ مکمل طور پر ایک زمینی حقائق سے جڑے ہوئے عملی (Practical)انسان ہوں۔ آپ کا علم صرف نصابی نہ ہو اور آپ کو زندگی کی چکی کے چلنے کا تجربہ ہو۔ تبدیلی کی خواہش اور خواب کے علمبردار گزشتہ دو ماہ سے اپنے نصابی علم اور افسانوی دنیا کے ساتھ پاکستان میں موجود سترسالہ بیورو کریسی کے اینٹ گارے سے ایک نیا شیش محل بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کا معاملہ یہ ہے کہ اس نظام کی ہر اینٹ اپنی جگہ سختی سے جڑی ہوئی ہے۔ آپ اس عمارت پر نیا رنگ و روغن تو کر سکتے ہیں، اسے شیش محل نہیں بنا سکتے۔ گزشتہ ساٹھ دنوں سے میں معیشت کے میدان میں عقل کے سرپٹ گھوڑے دوڑانے والوں کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ایک دن یہ تھک ہار کر ہلکان ہو جائیں گے اور بیوروکریسی اپنی پرانی روش کی کامیابی پر شادیانے بجائے گی۔ ایسا کیوں ہو گا…پاکستان میں بجٹ بنانا دوسرے ملکوں کی طرح ایک تخلیقی کام نہیں بلکہ ایک جامد و ساکت روٹین ہے جو تقریباً دسمبر کے مہینے سے شروع ہو جاتی ہے۔ محکمۂ مالیات کے مراسلوں کے ساتھ کچھ فارم منسلک ہوتے ہیں جو محکموں کے اعلیٰ افسروں سے ہوتے ہوئے سب سے نچلی سطح تک پہنچتے ہیں۔ وہاں پر دفتر میں بیٹھا ایک بوڑھا تجربہ کار کلرک یا سپرنٹنڈنٹ اس میں اگلے سال کی ضروریات درج کرتا ہے۔

اشتہار


کچھ نئے منصوبے جو اس کی عقل کے مطابق ضروری ہوتے ہیں ان کے تخمینے لگاتا ہے اور بھیج دیتا ہے۔ محکمہ اپنی سطح پر ان کو اکٹھا کرتا ہے۔ وہاں پر موجود سیکشن آفیسر اپنی عقل کے مطابق کانٹ چھانٹ کرتا ہے۔ سیاست دان اور اعلیٰ آفیسر کی مرضی سے اس میں تبدیلی کرتا ہے۔ اس کے بعد اسی طرح کے سیکشن آفیسر، ڈپٹی سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری فنانس کے محکمے میں ہوتے ہیں جو ہر محکمے سے میٹنگ کرتے ہیں جنہیں “Schadule of New expenditure SNE” کی میٹنگ کہتے ہیں۔ کانٹ چھانٹ ہوتی ہے۔ ایسے ہی ایک میٹنگ پلاننگ میں ہوتی ہے اور وہاں بھی سکیموں میں سیکشن آفیسر کا وژن اور تجربہ کامیاب ہوتا ہے۔ اس میں آپ ذرا اختیار ملاحظہ فرمائیں کہ اگر ایک وائس چانسلر چاہتا ہے کہ اسے فزکس کا پروفیسر چاہیے لیکن فنانس والے یونیورسٹی کا آڈیٹوریم بنانا چاہتے ہیںتو فنڈز آڈیٹوریم کے لیے جاری ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان کے مرکزی اور چاروں صوبوں کے بجٹوں کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو آپ کو یوں لگے گا جیسے 1947ء سے مکھی پر مکھی ماری جا رہی ہو۔ بجٹ میں مخصوص رقوم اور ہوتی ہیں اور اخراجات کہیں اور ہوتے ہیں۔ یہ اختیار بھی بڑے کمال کا ہے۔ سیاسی سطح پر صرف ٹیکس لگانے اور ریونیو بڑھانے کے فیصلے ہوتے ہیں۔ وہ بھی اگر نہ بڑھائے جائیں تو نوٹ چھاپنے اور قرض لینے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ لیکن کوئی اللہ کا بندہ اس ساری محنت اور کوشش کا از سرنو جائزہ نہیں لیتا جو ایک عام کلرک یا سپرنٹنڈنٹ کی عقل سے بالا نہیں ہوتی۔ تازہ ترین بجٹ بھی ویسی ہی ایک دستاویز ہے جو ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے، اس میں اسدعمر کی تقریر کا تڑکا ہے۔ خیر ابھی تو مہلت ہی نہیں تھی، لیکن اگر اگلے بجٹ کی تیاری جو دسمبر میں شروع ہو گی، وہ بھی ویسی ہی رہی، کوئی طریق کار میں تبدیلی نہ ہوئی۔ گھسے پٹے فارم اور تھکے تھکے سیکشن افیسران کی صلاحیتوں پر ہی بھروسہ کیا گیا تو پھر لوگ آئندہ صدی میں اس یوٹوپیائی سیاست کی مثالیں دیا کریں گے اور ملک واپس اندھیروں میں لوٹ جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں