عمران کے ایک ٹوئٹ سے بھارت تلملا اٹھا

وزیر اعظم عمران خان کے کشمیریوں سے اظہار ہمدردی اور ان پربھارتی فورسز کے ظلم و ستم کے خلاف کئے گئے ٹوئٹ پر بھارت تلملا اٹھا۔

گزشتہ روزسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے لکھا تھاکہ ’بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں کے قتل عام کا نیا سلسلہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ وقت آگیا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق بات چیت کے ذریعے تنازعہ کشمیر کے حل کی جانب پیش رفت کا احساس کرے۔‘

وزیر اعظم کے اس ٹوئٹ پر جاری مذمتی الفاظ بھارت ہضم نہ کر پایا، بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ’ پاکستان کے وزیراعظم کا ٹوئٹ پیغام افسوسناک ہے‘۔

انہوں نے پاکستان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ’ پاکستان کو اپنی سر زمین پر بھارت مخالف دہشت گردسرگرمیوں کی حمایت کو روکنا چاہئے۔پاکستانی قیادت کو بھارت کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے کے بجائے اپنے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’بھارت اور اس کے دوسرے پڑوسیوں کے خلاف دہشت گردی کی حمایت اور اس کی تعریف کرنے کی بجائے پاکستان اپنے عوام میں دلچسپی لے۔ کشمیر کے بارے میں مذاکرات پر پاکستان کا موقف ‘دھوکہ دہی ہے۔‘

بھارت نے گزشتہ ماہ وزرا خارجہ کی ملاقات رضامندی کے صرف 24گھنٹے بعد ہی منسوخ کردی تھی جس کی وجہ مقبوضہ کشمیر میں دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور کشمیری حریت پسند برہان وانی کی شہادت پر ڈاک ٹکٹ کا اجراء بتائی گئی تھی۔

اس وقت بھی وزیراعظم عمران خان نےمذاکرات کی دعوت ٹھکرانے پر بھارتی قیادت کو بصیرت سے عاری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’بھارت کا منفی اور تکبر پر مبنی رویہ قابل افسوس ہے۔‘

واضح رہے بھارتی فوجیوں کی جانب سےضلع کولگام کے علاقے لارو میں 9نوجوانوں کو شہید کیا گیاتھا جبکہ2نوجوان سرحد کے قریب جعلی مقابلے میں شہید کیے گئے جبکہ 50سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں