خاشقجی کے قتل سے سعودی ولی عہد بے خبر نہیں ہوسکتے، ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے مقتول صحافی جمال خاشقجی کے معاملے کو غلط رنگ دینے کی بدترین مثال قائم کردی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استنبول کے سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کا قتل سعودی عرب کی جانب سے ’معاملے کو من پسند طریقے‘ سے پیش کرنے کی بدترین مثال ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ صحافی کے قتل اور تحقیقات کو چھپانے کے لیے ناقص منصوبہ بندی کی گئی اور ایسا کرنے والوں نے بڑی مصیبت کو دعوت دی ہے، ایسی کمزور کہانی بنانے والے کو ایک بڑی مشکل کا سامنا کرنا ہوگا۔

دوسری جانب امریکی جریدے وال اسٹریٹ کو انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا میرے خیال میں سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو صحافی کے قتل سے متعلق منصوبہ بندی اور دیگر باتوں کا علم نہیں ہوگا اور مجھے شاہ سلمان کی باتوں پر پورا یقین ہے۔

ولی عہد محمد بن سلمان کے صحافی کے قتل کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ شاہ سلمان کی نسبت سلطنت کے سارے معاملات ولی عہد محمد بن سلمان دیکھ رہے ہیں اس لیے اگر کوئی قتل کے معاملے کو بھی دیکھ رہا ہوگا تو وہ محمد بن سلمان ہی ہوں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہاسپیل اور امریکی انٹیلی جنس حکام ترکی اور سعودیہ کا دورہ مکمل کر کے امریکا پہنچ رہے ہیں، اُن کے پاس صحافی کے قتل سے متعلق کافی معلومات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں