پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کا سعودی پیکیج

ریاض: وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی فرمانرواشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہدشہزادہ محمدبن سلمان کے ساتھ کامیاب مذاکرات ‘ سعودی عرب نے پاکستان کے لئے 6ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کردیا.

منگل کووزیر خزانہ اسد عمراوران کے سعودی ہم منصب احمد الجدان نے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے جس کے تحت سعودی عرب ایک سال کے لئے ادائیگیوں کے توازن کے لئے 3 ارب ڈالر فراہم کرے گا‘ یہ رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع کرائی جائے گی‘اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سعودی عرب تیل کی درآمد کے لئے تین ارب ڈالر تک کی ایک سال کیلئے موخر ادائیگی(ادھار) کی سہولت فراہم کرے گا اور یہ انتظام تین سال کے لئے ہوگا جس کے بعد اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا‘ وزیراعظم آفس سے جاری سرکاری اعلامیہ کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان میں آئل ریفائنری منصوبے میں سرمایہ کاری پر بھی رضامندی ظاہرکی ہے جبکہ بلوچستان میں معدنیات کی تلاش کے لیے بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے‘ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستانی کارکنوں کیلئے ویزا فیس میں کمی کیلئے وزیراعظم کی تجویز سے اتفاق کیا ‘علاوہ ازیں عمران خان سے سعودی وزیرخزانہ ‘ وزیرتجارت اوروز یرتو انا ئی اسمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی ملاقاتیں کی ہیں ‘اس موقع پر وزیراعظم کا کہناتھاکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور کاروباری برادری کی سہولت کے لئے ”ون ونڈو“ آپریشن کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ دریں اثناء ریاض میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ بڑامسئلہ ہے‘مالیاتی اورکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ورثے میں ملا‘ آنے والے 3 سے 6 ماہ پاکستان کے لیے سخت ہیں ‘قر ضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضوں کی ضرورت ہے‘ پاکستان کے مسائل کو دوست ممالک کے تعاون سے حل کریں گے‘ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور مالی معاونت کے ساتھ ہم تین سے چھ ماہ میں صورتحال کو بہتر بنا لیں گے‘کرپشن اور غربت پر قابو پانے کا طریقہ چین سے سیکھیں گے‘ بھارت نے امن کی پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا ‘ بھارتی الیکشن کے بعد دوبارہ رابطہ کریں گے‘ہم پاکستان میں مثالی مسلم ریاست کی تشکیل کےلئے کوشاںہیں‘سی پیک پاکستان کےلئے عظیم موقع ہے‘ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ طالبان کے ساتھ افغان حکومت اور امریکہ کی جاری امن بات چیت کی کامیابی سے صورتحال میںمزید بہتری آئے گی، پرامن افغانستان ہی سب کے مفاد میں ہے‘کرپشن ہی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں فرق ہے‘ ‘سمندر پار پاکستانیوں کو قانونی ذرائع سے ترسیلات زر بھجوانے کے لئے راغب کیا جارہا ہے‘ بدعنوان لوگوں کے بڑی پوزیشن پر ہونے کے باعث ادارے تباہ ہوئے‘ افغانستان سے دہشتگردی کا خطرہ موجود ہے‘نئے پاکستان کا مطلب پاکستان کو اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست بنانا ہے، ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے، مالیاتی خسارہ، منی لانڈرنگ اور کرپشن جیسے مسائل پر قابو پانے کے لئے حکمت عملی کے تحت کام کررہے ہیں، بدعنوانی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ اشرافیہ بدعنوانی میں ملوث ہوتی ہے، کرپشن ادارے تباہ کرتی ہے، یہ انسانی ترقی کے منصوبوں سے رقم کا رخ موڑ دیتی ہے اور کسی بھی ملک کو مزید غربت کی جانب دھکیلتی ہے۔ ان کا کہناتھاکہ ملک میں قدرتی وسائل کے باوجود سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجوہات میں ملک میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ گذشتہ 10سالوں کی خراب طرز حکمرانی شامل ہے۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کے دو روزہ سرکاری دورہ کے دوسرے مرحلے میں منگل کو ریاض پہنچ گئے۔ ایئرپورٹ پر گورنرریاض شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز نے وزیراعظم اور ان کے وفد کا استقبال کیا‘اس سے پہلے وزیر اعظم نے وفد کے ہمراہ مدینہ منورہ میں گزشتہ شب روضہ رسولؐ پر حاضری دی، نماز عشاء اور نوافل ادا کئے اور ملکی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کیلئے خصوصی دعائیں بھی کیں۔وزیر اعظم نے منگل کو سعودی فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملا قا ت کی‘ اس موقع پر تجارت‘ سرمایہ کاری اوراقتصادی تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں