شفاف احتساب ملک کی ضرورت

اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ عوام کی خاموش اکثریت کے درمیان نئے حکومتی ڈھانچے کے اوپر جو زبانی کلامی جنگ جاری ہے اور اس سیاسی جنگ پر کچھ تیل جناب آصف علی زرداری نے بھی ڈالنے کی کوشش کی ہے تا کہ اس کو مزید بھڑکایا جا سکے۔

وہ بڑے خوش مزاج انسان ہیں ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت میں ملک ترقی کر رہا تھا، وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت ملک چلانے کے قابل نہیں اس لیے متحدہ اپوزیشن ایک قرارداد پیش کر کے حکومت کی نااہلی کے بارے میں اپنا مقدمہ پیش کریں اور حکومت ہٹانے کے لیے تمام جماعتیں مل جل کر کوششیں کریں۔ انھوں نے کمال مہربانی کرتے ہوئے نواز شریف سے بات چیت پر آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔

جناب زرداری ایک مدت سے نواز شریف سے ناراض ہیں، ان کی ناراضی سیاسی ہے، اس ناراضی کے خاتمے کا اشارہ انھوں نے دے دیا ہے لیکن ساتھ ہی نواز شریف سے یہ گلہ بھی کر دیا ہے کہ میرے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے ذمے دار بھی نواز شریف ہیں۔

جناب زرداری اور نواز شریف کے درمیان مری معاہدہ سے پہلے بھی محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور میاں نواز شریف کے درمیان لندن میں ہونے والے میثاق جمہوریت کو بینظیر کی شہادت کے بعد آصف زرداری نے اس حد تک ضرور نبھایا کہ میاں نواز شریف کی حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کر گئی۔ اگر زرداری صاحب یہ نہ چاہتے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل جاتے تو نواز شریف کی حکومت کا اپنی آئینی مدت مکمل کرنا محال تھا۔

بہر حال یہ گئے وقتوں کی باتیں ہیں، موجودہ حالات یہ ہیں کہ بااثر لوگوں کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے اور ہر کوئی احتساب کے دائرے سے نکلنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہا ہے۔ چہار سو مال و دولت کی داستانیں بکھری پڑی ہیں اور عوام حیرت زدہ ہیں کہ ان کے حکمران کون تھے اور انھوں نے کیسے ملکی خزانے کو لوٹا اور اپنے خزانے کو راتوں رات بھر دیا۔

ملکی حالات سے باخبر محب وطن لوگوں کی صرف ایک ہی دعا اور خواہش ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی یہ جنگ خاموشی کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے ختم ہو جائے کیونکہ ملک کے حالات اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتے کہ ملک میں کسی بھی قسم کی گڑ بڑ اور سیاسی ہنگامہ آرائی ہو۔

ملک کے اندر کوئی ایسی سیاسی شخصیت اور کوئی ایسی جماعت موجود نہیں ہے جس پر قوم کا اعتبار ہو کیونکہ قوم پہلے ہی ان جماعتوں کو حکومت دے کر بھگت چکی ہے، اس لیے کسی ایسے سیاسی گروہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ملک میں گڑ بڑ کی صورتحال پیدا کرے۔ ملکی سیاست میں اس وقت کئی ایسے گروہ بھی سر اٹھا رہے ہیں جن کی اس ملک کے ساتھ وابستگی ہی مشکوک ہے اور جن کی صرف خواہش یہ ہے کہ ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے۔ ہماری سرحدوں کے حالات جس طرح کے ہیں ان سے قوم بھی باخبر ہے اور اس کے لیے کسی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔

ہماری نئی حکومت نے خود ہی پسند کا محاذ منتخب کیا ہے اور قوم کو نیا نظام یعنی نیا پاکستان دینے کا اعلان کیا ہے اور یہ خدا ہی جانتا ہے کہ کتنی اعلانیہ اور کتنی خفیہ طاقتیں ہیں جو ا س قوم کے لیے کوئی نظام حکومت تجویز کر چکی ہیں یا کرنے والی ہیں۔ ملکی اپوزیشن سر گرم ہے، کھلے خطرے کے مقابلے کی کوشش ہر کوئی کر سکتا ہے مگر چھپے خطرے کا مقابلہ آسان نہیں ہوتا۔ موجودہ حکومت کیسی چل رہی ہے یا کیسی چلے گی ہمیں اس سے غرض نہیں ہم تو دودھ کے جلے ہیں چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتے ہیں۔

اشتہار


ڈر ہے تو اس بات کا کہ عوام نے پرانے لیڈروں کو چھوڑ کر نئے لیڈر چن لیے ہیں اور اب ان نئے لیڈروں کے رحم و کرم پر رہتے ہوئے اپنے مستقبل کو ان کے سپرد کر دیا ہے۔ اسی نئی لیڈر شپ کے پیچھے پرانی لیڈر شپ ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہے اور کوئی دن نہیں جاتا جب وہ ان نئے حکمرانوں کو ملعون نہیں کرتے۔

وزیر اعظم عمران خان نے بالآخر اس بات کا ادراک کر لیا ہے کہ ان کی حکومت اور میڈیا کے درمیان موثر رابطہ نہیں ہو رہا اور اس بات کا انھوں نے بر ملا اقرار بھی کیا ہے یہی وہ اچھی عادت ہے جو عمران خان کی مقبولیت کی بنیادی وجہ ہے کہ وہ اپنے غلطیوں کا برملا اعتراف کرتے ہیں اور اس میں کسی قسم کی شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔

صحافیوں کے ایک گروہ سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ ان کو اپوزیشن کی کوئی پرواہ نہیں۔ سیاستدانوں کی ایک بڑی تعداد کرپٹ ہے اور وہ جعلی اپوزیشن کے نام پر اکٹھے ہو کر اپنے آپ کو احتساب سے بچانا چاہ رہے ہیں۔ انھوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ حکومت کسی بھی کرپٹ کے ساتھ کسی قسم کی کوئی مفاہمت نہیں کرے گی۔ ان کی یہ بات درست ہے کہ وقت آ چکا ہے جب ملک کے لٹیروں کا احتساب ہونا چاہیے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ یہ احتساب بلا تفریق ہو، اپنے پرائے سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جائے تو احتساب کی کوئی اہمیت بھی ہوگی، اگر اپنوں کو چھوڑ کر صرف سیاسی مخالفین کا احتساب مقصود ہے تو پھر عرض ہے کہ اس کام کو رہنے ہی دیں۔

غیر جانبدارانہ احتساب ملک کی ضرورت ہے جس سے ملک کے سیاسی حالات بھی پر امن رہیں گے اور احتساب کی جانبداری کے متعلق کوئی فریق انگلی بھی نہیں اٹھا سکے گا۔ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کی ہر سیاسی پارٹی کے لوگ احتساب کے شکنجے میں آتے ہیں اس لیے یہ بات بھی نہایت ضروری ہے کہ جیسا حکومت اور وزیر اعظم دعویٰ کر رہے ہیں کہ احتساب بیورو مکمل با اختیار ہے اور آزادانہ فیصلے کرنے کا مجاز ہے تو اسے پھر آزادانہ فیصلے کرنے دیے جائیں تا کہ احتساب کے عمل میں محمود و ایاز والامعاملہ ہو۔ اپنے پرائے سب کو ایک ہی احتسابی دروازے سے گزارا جائے گا تو اس کو شفاف احتساب کہا جائے گا۔ دیکھتے ہیں حکومتی دعویٰ کہاں تک اور کب تک سچ ثابت ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں