شکریہ سعودی عرب لیکن…

عرب دنیا کے اس عظیم عالم کو علامہ محمد اقبالؒ سے بڑی محبت تھی۔ شام کی دمشق یونیورسٹی کے اُستاد پروفیسر محمد سعید رمضان البوتی کے لئے اقبالؒ ایک ایسے مرشد کامل کی حیثیت رکھتے تھے جس کی نوائے شاعرانہ میں بادشاہوں اور آمروں کے خلاف بغاوت کا پیغام تھا۔ البوتی کے ساتھ اقبالؒ کا پہلا تعارف قاہرہ کی الازھر یونیورسٹی میں ہوا جہاں کے اُساتذہ میں شاعر مشرق کے اُردو اور فارسی کلام کا عربی ترجمہ بہت مقبول تھا۔ علامہ اقبالؒ کی شاعری کا عربی ترجمہ مصر کے ڈاکٹر عبدالوہاب عزام نے شروع کیا۔ پھر یہ سلسلہ مولانا ابوالحسن ندوی نے آگے بڑھایا اور الازہر یونیورسٹی کے ایک نابینا اُستاد الصاوی شعلان نے ’’شکوہ‘‘ اور ’’جواب شکوہ‘‘ کا اتنا خوبصورت ترجمہ کیا کہ مشہور عرب گلوکارہ اُمّ کلثوم کی آواز میں یہ ترجمہ پوری عرب دنیا میں پھیل گیا۔ البوتی نے 1973ء میں ایک مقالہ تحریر کیا جس کا عنوان تھا… ’’اقبال کے ساتھ ایک رت جگا‘‘ اس مقالے میں البوتی تمام رات اقبالؒ کے ساتھ ایک تصوراتی سفر کرتے ہیں جس میں وہ حجاز و یمن سے ہوتے ہوئے مسجد قرطبہ پہنچتے ہیں اور وقتِ سحر اقبالؒ فلسطینی عرب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں؎

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ

میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے!

تری دوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں

فرنگ کی رگِ جاں پنجۂِ یہود میں ہے!

سنا ہے میں نے غلامی سے اُمتوں کی نجات

خودی کی پرورش و لذت نمود میں ہے!

البوتی کے نزدیک علامہ اقبالؒ کا تصور خودی اور سلطانی جمہور کا نعرہ فرقہ پرستی کے مارے مسلمانوں کے لئے پیغام انقلاب تھا۔ وہ عرب نوجوانوں میں اقبال کا مرد مومن تلاش کرتے رہے اور اُسے بادشاہوں کے خلاف بغاوت کا سبق دیتے رہے۔ 2013ء میں یہ عاشق اقبالؒ دمشق کی ایک مسجد میں تقریر کر رہا تھا کہ ایک خود کش حملہ آور آیا اور اُس نے دھماکے سے اس عاشق اقبالؒ کی آواز کو خاموش کر دیا لیکن یہ آواز دوسرے انسانوں میں زندہ ہو گئی اور انہی میں سے ایک جمال خاشقجی بھی تھا۔

اشتہار


سعودی صحافی جمال خا شقجی بھی البوتی کی طرح آزادی اظہار اور سلطانی جمہور کا حامی تھا۔ بادشاہت کا مخالف تھا اور جب سعودی عرب میں اُس پر پابندیاں لگائی گئیں تو اُس نے جلا وطنی اختیار کر لی۔ وہ امریکا چلا گیا اور اُس نے واشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھنے شروع کر دیئے۔ وہ سعودی عرب کا باغی نہیں تھا بلکہ سعودی حکمرانوں سے وہ حقوق مانگ رہا تھا جو اقوام متحدہ کے رکن تمام ممالک نے اپنے شہریوں کو دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ سعودی حکومت میں شامل کچھ طاقتور لوگوں کو جمال کی یہ گستاخیاں ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں۔ اُنہوں نے جمال کو ریاست کا دشمن اور واجب القتل قرار دے دیا اور پھر ریاست کے ان محافظوں نے جمال خا شقجی کے ساتھ وہ خونی کھیل کیا جس نے پوری دنیا میں سعودی عرب کی عزت کو تار تار کر دیا۔ بادشاہ پر تنقید کرنے والے صحافی کے قتل کے بعد بادشاہ نظریں جھکائے وضاحتیں پیش کر رہا ہے۔ اگر کوئی سیکھنا چاہے تو ایک صحافی کے اس قتل میں یہ سبق موجود ہے کہ آپ ایک صحافی کو قتل کر سکتے ہیں لیکن اُس سچ کو قتل نہیں کر سکتے جسے چھپانا آپ ریاست کے مفاد کا تقاضا قرار دیتے ہیں۔ صحافی کے قتل سے ریاست کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوتا ہے۔ 23؍ اکتوبر کو سعودی حکومت نے ریاض میں ایک بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد کر رکھا تھا۔ جس وقت پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے عین اُسی وقت ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اپنی پارلیمنٹ میں جمال خا شقجی کے قتل کی ذمہ داری سعودی عرب پر ڈال رہے تھے اور سعودی حکومت یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئی کہ جمال کو استنبول کے سعودی سفارتخانے میں قتل کیا گیا۔

اس قتل کے باعث عالمی میڈیا میں اتنا شور پڑا کہ کئی بڑے سرمایہ کاروں نے سعودی عرب میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کا ارادہ منسوخ کر دیا۔ سعودی حکومت نے جمال خا شقجی کے قاتلوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کر کے اپنے دوست ممالک کو مشکلات سے بچا لیا ہے۔ سب سے زیادہ مشکل تو پاکستان کو تھی۔ ایک طرف سعودی عرب اور دوسری طرف ترکی تھا۔ دونوں ممالک پاکستان کے دوست ہیں۔ ہمیں سعودی عرب کی سلامتی عزیز ہے اور ترک عوام کی پاکستان سے محبت بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے لیکن اس سچ سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایک طرف ترک حکومت جمال خا شقجی کے قتل کی مذمت کر رہی ہے اور دوسری طرف صحافیوں کی تمام عالمی تنظیمیں ترکی کو صحافیوں کے لئے سب سے بڑی جیل قرار دیتی ہیں۔ امریکا کے صدر ٹرمپ نے بھی جمال خا شقجی کے قتل کی مذمت کی لیکن یہ ٹرمپ امریکا میں آزادی صحافت کا سب سے بڑا دشمن سمجھا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں جمہوریت نہیں بادشاہت ہے اور بادشاہ کےمصاحبین اپنے ناقدوں کے ساتھ وہی کرتے ہیں جو جمال خاشقجی کے ساتھ ہوا لیکن امریکا، ترکی، بھارت، ایران، بنگلہ دیش اور پاکستان میں تو جمہوریت ہے۔ ان ممالک میں صحافیوں کی آواز کیوں دبائی جاتی ہے؟ سرمایہ دارانہ جمہوریتوں میں صحافیوں کو کیوں قتل کیا جاتا ہے؟ جمال خاشقجی کے قتل نے پوری دنیا کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ آزادی اظہار کے تحفظ کے لئے دنیا بھر کے اخبارات اور ٹی وی چینلز متحد ہو رہے ہیں۔ ٹرمپ اور اردوان یاد رکھیں کہ ایک صحافی کے قتل پر سامنے آنے والے ردعمل نے سعودی عرب کے طاقتور بادشاہ کا سر جھکا دیا ہے تو کل کو آپ کا غرور اور تمکنت بھی خاک میں مل سکتی ہے۔ صدر اردوان سے گزارش ہے کہ ترکی میں گرفتار سینکڑوں صحافیوں کو فی الفور رہا کریں۔ صحافیوں کو جیل میں ڈالنے، اخبار اور ٹی وی چینل بند کرا دینے یا صحافیوں کو نوکریوں سے نکلوا دینے سے ریاست مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہو جاتی ہے۔ مجھے ایک خیر خواہ نے کہا کہ جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی حکمرانوں کو ہدف تنقید بنانا پاکستان کے قومی مفاد میں نہیں ہے کیونکہ سعودی حکمرانوں نے اس مشکل وقت میں پاکستان کو تین سال کے لئے اُدھار تیل دینے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ اس خاکسار نے اپنے خیر خواہ سے کہا کہ میں ایک پاکستانی کی حیثیت سے سعودی حکومت کا بہت شکر گزار ہوں لیکن یہ بھی جانتا ہوں کہ میرے ملک کو یہ امداد مفت میں نہیں مل رہی اور اس امداد کے عوض ہم سے جو خدمت لی جا رہی ہے وہ پاکستان کی مشکلات میں کمی نہیں بلکہ اضافے کا باعث بھی بن سکتی ہے لیکن ہمارے وزیراعظم عمران خان نے یہ خطرہ اس لئے مول لیا کہ سعودی عرب نے کبھی دوست بن کر ہماری پیٹھ میں خنجر نہیں گھونپا۔ وہاں کے طرز حکومت اور اندرونی حالات پر تحفظات اپنی جگہ لیکن ہم تو اقبالؒ کے متوالے ہیں۔ ہمارا وزیراعظم عمران خان بھی اقبالؒ کو اپنا مرشد قرار دیتا ہے لہٰذا ہمارے دوستانہ تعلقات میں وہ وسعت نظر آنی چاہئے جو البوتی کو اقبالؒ کی فکر میں نظر آتی تھی۔ سعودی عرب کے کامیاب دورے پر وزیراعظم صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں لیکن یاد رہے کہ ہمیں دو مسلم ممالک کے مابین تنازعے میں فریق نہیں مصالحت کار بننا ہے، ہمیں سعودی عرب کے ساتھ ساتھ یمن، ترکی، ایران اور افغانستان کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں