ہر تھانے دار کو معلوم ہوتا کہ اس کی حدود میں کون منشیات فروخت کر رہا ہے

سپریم کورٹ نے تعلیمی ادروں میں منشیات کی روک تھام کے لیے وفاق اور چاروں صوبوں کو نوٹس جاری کردیا۔

ساتھ ہی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ ہر تھانے دار کو پتہ ہوتا ہے کہ کون اس کے تھانے کی حدود میں منشیات بیچ رہا ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے اسکولوں میں منشیات کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل اسلام آباد اور پنجاب نے رپورٹس جمع کرائیں جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بھی عدالت میں رپورٹ پیش کی۔

عدالت میں پنجاب پولیس کے نمائندے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور کی جانب سے بتایا گیا کہ کل 5 ہزار رپورٹس درج کی ہیں جن میں 29 تعلیمی اداروں کے خلاف ہیں جبکہ 408 پرچے اس مہینے درج کیے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ان 29 تعلیمی اداروں کے نام بتائیں، جس پر سی سی پی او نے کہا کہ وہ فہرست میں نہیں ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے انٹرنیٹ سے رپورٹ ڈاؤن لوڈ کرکے پیش کردی۔

سماعت کے دوران پنجاب پولیس نے نمائندے نے کہا کہ ہم نے آگہی کے لیے واکس کی ہیں، 12 لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ 4 الکوحل کی فیکٹریاں بند کی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ منشیات سے بہت سے بچے متاثر ہورہے ہیں، آپ نے تعلیمی اداروں کے نام بھی نہیں بتائے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہر تھانے دار کو پتہ ہوتا ہے کہ کون اس کے تھانے کی حدود میں منشیات بیچ رہا ہے۔

اس پر سی سی پی او نے کہا کہ یہ صرف 11 دنوں کی رپورٹ ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پر مہینے رپورٹ پیش کی جائے اور عدالت کو مزید ڈیٹا فراہم کیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے حکومت نے کوئی مرکز قائم نہیں کیا جبکہ لاہور شادباغ میں جو بحالی سینٹر تھا اس کی حالت بہت بری تھی۔

بعد ازاں عدالت نے تعلیمی ادروں میں منشیات کی روک تھام کے لیے وفاق اور چاروں صوبوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 3 ہفتوں تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ 16 ستمبر کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کا نوٹس لیا تھا اور سی سی پی او اور اینٹی نارکوٹکس سمیت دیگر حکام سے جواب طلب کرلیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں طلبا کو منشیات با آسانی دستیاب ہیں، اور اس کے فروغ سے ہم اپنا مستقبل تباہ کر رہےہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’پاکستان کے روشن مستقل کے لیے منشیات مافیا کو قابو کرنا ہو گا‘۔

یہ بھی یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہدایات جاری کرتے ہوئے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں منشیات کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں