منی لانڈرنگ کیس میں اومنی گروپ کے مالک انور مجید کا ایک اور بیٹا گرفتار

کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ کیس میں اومنی گروپ کے مالک انور مجید کے ایک اور بیٹے نمر مجید کو گرفتار کرلیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل لارجر بینچ نے اومنی گروپ کی شوگر ملز میں چینی کے ذخائر غائب ہونے کے معاملے کی سماعت کی۔ عدالت نے اومنی گروپ کے چیف ایگزیکٹو اور دیگر حکام کو طلب کرلیا۔

انور مجید کا بیٹا نمر مجید عدالت کے روبرو پیش ہوا۔ سماعت کے بعد ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو احاطہ عدالت سے حراست میں لے لیا۔ نمر مجید منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت پر تھا۔

دوران سماعت اومنی گروپ کی شوگر ملز میں منجمد چینی کا اسٹاک غائب ہونے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قوم کے اثاثوں کے 14 ارب روپے میں سے 11 ارب روپے کی چینی غائب کردی گئی ہے، ایف آئی اے اور پولیس کہاں تھی؟۔

ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے کہا کہ 9 شوگر ملیں اومنی گروپ کی چھتری کے نیچے چل رہی ہیں جن میں نوڈیرو شوگر مل، باندھی، کھوسکی شوگر، انصاری شوگر، ٹنڈو الہ یار شوگر مل، باوانی، نیو دادو ، لارڈ شوگر مل اور چمڑ شوگر مل شامل ہیں، جب کہ چینی غائب کرنے پر اومنی گروپ کے خلاف 9 مقدمات درج کرلیے گئے ہیں، ان شوگر ملوں کے چیف ایگزیکٹو اومنی گروپ کے مالکان ہی ہیں، اومنی گروپ کے کچھ دفاتر کراچی اور کچھ اندرون سندھ میں ہیں۔

اومنی گروپ کے وکیل نے انور مجید کو جیل میں اے یا بی (بہتر) کلاس کی سہولت دینے کی درخواست کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ چوری سامنے آچکی ہے اور اب بھی جیل میں بیٹر کلاس مانگ رہے ہیں؟۔ عدالت نے بیٹر کلاس سے متعلق اومنی گروپ کے وکیل کی درخواست کی سماعت ملتوی کردی۔

چیف جسٹس نے جیل میں اومنی گروپ کے افراد کے موبائل فون استعمال کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام لوگوں سے موبائل فون چھین لئے جائیں، یہ لوگ جیل سے احکامات دے رہے ہیں۔ عدالت نے ایف آئی اے سے اومنی گروپ کا مکمل ریکارڈ 30 اکتوبر کو طلب کرلیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں