خاشقجی کا بھیانک قتل امریکا کے لیے ناقابل برداشت ہے، پینٹاگون چیف

پینٹاگون کے چیف جم میٹس نے عرب رہنماؤں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ استنبول میں سعودی عرب قونصل خانے کے اندر سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر ‘ہم سب کو تشویش ہونی چاہیے’۔

بحرین کے دارالحکومت منامہ میں عرب فورم کے ایک اجلاس میں جم میٹس نے کہا کہ ‘امریکا ایک صحافی خاشقجی کو اس قدر بے رحمی اور مجرمانہ طریقے سے خاموش کرنے کو برداشت نہیں کرتا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کسی ملک کی عالمی اقدار کی پیروی میں ناکامی سے خطے کا استحکام مجروح ہوتا ہے جبکہ ایک ایسے وقت میں جب خطے کو اس کی اشد ضرورت ہے’۔

میٹس کا کہنا تھا کہ ‘ہم سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کے بیان کے مطابق امریکا کا تحفظ کرتے ہوئے اور قتل کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کے دونوں اقدامات پر قائم رہیں گے’۔

فورم میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے سیکریٹری آف اسٹیٹ پہلے ہی ویزوں کو منسوخ کر چکے ہیں اور اضافی اقدامات بھی کریں گے’۔

سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے دو روز قبل ترکی کے دورے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس حوالے سے ہونے والی تفتیش پر تازہ صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔

ترک میڈیا کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس افسران کو خاشقجی کے قتل کے حوالے سے قونصل خانے والے حاصل کیا گیا ویڈیو اور آڈیو ریکارڈ دکھایا گیا۔

خیال رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سخت ناقد تصور کیے جانے والے جمال خاشقجی کے قتل سے عالمی طور پر سعودی عرب کے خلاف ردعمل دیا گیا تھا اور ریاض سے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے جبکہ امریکا خطے میں ایران کو محدود کرنے کے لیے سعودی عرب کا اتحادی ہے۔

دوسری جانب محمد بن سلمان نے قتل کے حوالے سے تمام الزامات کو مسترد اور کسی طرح سے ملوث ہونے کے امکان کو بھی رد کردیا ہے اور سعودی قیادت نے اس کی تمام تر ذمہ داری کئی عہدیدار پر منتقل کردیا ہے۔

امریکی صدر پہلے ہی اس واقعے کو بدترین قرار دے چکے ہیں اور سعودی عرب کے کردار پر بھی شبہات کا اظہار کیا تھا۔

رواں ہفتے ہی امریکا نے کئی سعودی باشندوں کے پاسپورٹ منسوخ کردیے جس کے بعد برطانیہ نے بھی اس پر عمل کیا تھا۔ یاد رہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر چلے گئے تھے جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے تھے، بعد ازاں ترک پولیس نے ان کے قتل کا انکشاف کیا تھا۔

سعودی عرب نے ابتدا میں اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا تاہم بعد میں اس قونصل خانے کے اندران کی ہلاکت کا اعتراف کیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کی نمائندہ خاص نے بھی سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جنہوں نے یہ منصوبہ بندی کی تھی ’وہ ریاست کی نمائندگی کرنے والے اعلیٰ سطح کے افراد ہیں‘۔۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے ہمیں یہ پتا چلا کہ ان کا قتل سعودی قونصل خانے میں کیا گیا، جس کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ موقع واردات پر موجود افراد ریاست کے اعلیٰ عہدیدار تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں