نیتن یاھو پہلے دورے پر اومان پہنچ گئے، سلطان قابوس سے ملاقات

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے غیر متوقع طور پر خلیجی ریاست سلطنت اومان کا سرکاری دورہ کیا اور اومان کے فرمانروا سلطان قابوس بن سعید سے ملاقات کی۔ یہ ان کا اپنی نوعیت کا پہلا دورہ ہے جس میں انہوں نے اومانی قیادت سے ملاقات کی ہے۔

نیتن یاھو نے جمعہ کے روز اومان کے حکمران سلطان قابوس بن سعید سے مسقط میں اپنے شاہی محل میں ملاقات کی۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اپنے دورہ مسقط کی تصاویر “ٹویٹر” پر شیئر کی ہیں۔ ان تصاویر میں وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ اومانی فرمانروا اور دیگر حکام کے ساتھ دیکھے جاسکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اومان کے فرمانروا کی طرف سے انہیں مسقط کے دورے کی باضابطہ دعوت دی گئی تھی، وہ ان کی دعوت پر آئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان طویل مواصلاتی رابطوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ نیتن یاھو اومان پہنچے ہیں۔

دونوں رہ نمائوں کی طرف سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں مشرق وسطیٰ میں امن وامان، خطے میں استحکام اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

خیال رہے کہ اسرائیل اور اومان کے درمیان سفارتی تعلقات قائم نہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے باضابطہ دعوت پر اومان کا دورہ کیا ہے۔ تاہم اس سے قبل 1996ء میں آنجہانی شمعون پیریز نے قام مقام وزیراعظم کی حیثیت سے اومان کا مختصر دورہ کیا تھا۔

گذشتہ روز نیتن یاھو کے دورہ اومان کے موقع پران کی اہلیہ کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی مائیر بن شبات، وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل یوفال روٹیم، شاہی دیوان کے سربراہ یوآو ہھوفیٹز اور وزیراعظم کے ملٹری سیکٹری بریگیڈیئر آوی بلوٹ بھی ان کے ہمراہ تھے۔

اسرائیل کے سابق وزیراعظم اسحاق رابین نے 1994ء میں عمان کا دورہ کیا تھا۔ سنہ 1995ء کو اس وقت کے اومانی وزیر خارجہ یوسف بن علوی نے القدس کا دورہ کیا۔جنوری 1996ء میں دونوں‌ملکوں کے ہاں تجارتی نمائندہ دفتر قائم کرنے کا معاہدہ طے پایا مگر اکتوبر 2000ء کو فلسطین میں شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ کے بعد دونوں ملکوں میں تعلقات کےقیام کی مساعی جمود کا شکار ہوگئی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں