مجھ پر ہر جانب سے حملے ہورہے ہیں، سارا جھگڑا 18 ویں ترمیم کا ہے

لاہور: سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مجھ ہر جانب سے حملہ ہو رہا ہے، سارا جگھڑا 18 ویں ترمیم ہے، ٹنڈوالٰہ یار میں صنعت سازی کے لیے دوست سے رابطہ کیا تو انہیں بھی اٹھالیا گیا۔

لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ میرے دوستوں کو جعلی اکاؤنٹس کے الزام پر اٹھا لیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ 18ویں ترمیم کا جھگڑا ہے لیکن آبادی کے اعتبار سے 18ویں ترمیم کا سب سے زیادہ فائدہ پنجاب کو ہوا، اس لیے مسلم لیگ (ن) کے رہنما شہباز شریف نے لاہور میں ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا۔

شریک چیئرمین نے واضح کیا کہ ’یہ لوگ ہمیشہ میرے دوستوں کو پکڑتے ہیں، ان کو اصل مسئلہ میرے دوستوں سے ہے‘۔

آصف علی زرداری نے نام لیے بغیر کہا کہ ’ہم بھی اتنے ہی محب وطن ہیں جتنے آپ، شاید آپ سے زیادہ محب وطن ہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم حکومت گرانے میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ہر فیصلے کے پس منظر میں سوچ اور نظریہ تھا، آپ تسلیم نہ کریں لیکن بلوچستان میں سورش موجود ہے‘۔

آصف علی زرداری نے عندیہ دیا کہ ’قانون سازی ہمارا کام ہے اس لیے تمام امور ہمیں نمٹانے دیں اور ہم یہ پارلیمنٹ میں لڑ جھگڑ کر کرلیں گے‘۔

این آر او سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’میں نے سابق صدر پرویز مشروف سے این آر او نہیں مانگا اور عمران خان سے پارلیمنٹ کے علاوہ کہیں ملاقات نہیں ہوئی‘۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ اگر ہم نے خیبرپختونخوا میں پشتون کو شناخت دی ہے تو اس کی ضرورت تھی۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ ہماری مددکی ہے اور بدلے میں پاکستان نے بھی ہر ممکن تعاون کیا تاہم حکومت کو بیل آؤٹ پیکیج ملنے پرخوش ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو باہر سے نہیں، اندر سے زیادہ خطرہ ہے، 5 سال صدر رہا لیکن کرپشن کا کوئی داغ نہیں لگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں