عمان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کردیا

مناما: عمان نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ انہیں اسرائیل بطور ایک مشرق وسطیٰ کی ریاست قابل قبول ہے، عمان کی جانب سے یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دورہ عمان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے علاقائی امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو فائدہ ہوگا۔ عمان کے وزیرخارجہ بن علوی نے بحرین میں عرب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمان، اسرائیل اور فلسطین کو قریب لانے کیلئے تجاویز دے رہا ہے حالاں کہ وہ اس معاملے پر ثالث نہیں ہے۔ عمانی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ خطے میں ایک اور ریاست بھی موجود ہے اور ہم سب اس بات کو بخوبی جانتے ہیں۔ پوری دنیا اس حقیقت سے باخبر ہے۔ بن علوی کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ یہ کام فی الوقت بہت آسان ہے اور یہ کوئی پھولوں کی سیج ہے لیکن ہماری اولین ترجیح تنازع کو ختم کرنا اور ایک نئی دنیا کی طرف جانا ہے۔ کانفرنس کے موقع پر بحرین کے وزیرخارجہ خالد بن احمد الخلیفہ نے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لئے عمان کی کوششوں کی حمایت کی جبکہ سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ امن عمل ہی اسرائیل کیساتھ تعلقات بحال کرنے کی کنجی ہے۔ واضح رہے کہ مناما میں ہونے والی تین روزہ عرب کانفرنس میں سعودی عرب اور بحرین نے بھی شرکت کی جبکہ ان کیساتھ ساتھ امریکی وزیردفاع جم میٹس کے علاوہ ان کے اطالوی اور جرمن ہم منصب بھی شریک تھے جبکہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے بحیرہ مردار میں سیلاب کے باعث 21 افراد کی ہلاکت کے بعد کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ آخری مرحلے میں منسوخ کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں