ٹیکسلا، ہڑپہ سے موہنجوداڑو سے مدد لیں!

میں سست انسان ہوں لہٰذا کھانے پینے کی دعوتوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں، البتہ چند دوستوں کی محفل ہو تو پھر کیا ہی بات ہے۔ جب تک رات گئے بیگم کا فون نہیں آئے گا، ارشد شریف، عدیل راجہ، علی، خاور گھمن، ضمیر حیدر، ہم نے نہیں اٹھنا۔ شاہد بھائی کے گھر بھی محفل ویک اینڈ پر جمتی ہے، لیکن بعض ایسے دوست بھی ہیں جہاں میں بہانے ڈھونڈنے کی بجائے حکم کی تعمیل کرتا ہوں، سینیٹر انور بیگ اور وسیم حقی اسی کیٹیگری میں آتے ہیں۔ بیگ صاحب نے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو الوداعی کھانے پر بلایا ہوا تھا۔ وہ چار سال پاکستان گزارنے کے بعد واپس جارہے تھے۔

ضمیر حیدر، خاور گھمن، وسیم حقی، انور بیگ، میں اور جے پی سنگھ ٹیبل پر بیٹھے تھے اور بات وہی پاکستان اور بھارت کی چھڑ گئی۔ پاکستانی اور بھارتی بیوروکریسی کا موازنہ ہو رہا تھا۔ وہ اپنے ملک کی بیوروکریسی کی کہانیاں سنا رہے تھے، وہی ڈھاک کے تین پات۔ پاک بھارت کے تعلقات کے حوالے سے کوئی بات ہوئی تو میں نے کہا: ہمیں سلیبس میں کوئی اور چیز پڑھائی گئی ہو یا نہیں، لیکن پانی پت کی جنگیں ضرور پڑھائی جاتی ہیں اور ہر امتحان میں ان پر پندرہ نمبر کا سوال بھی ضرور آتا ہے۔

جے پی سنگھ بولے: چلیں پھر سن لیں، اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان سفری سہولیات بہتر ہوں اور ویزے کے مسائل ختم ہوجائیں تو یقین کریں روزانہ بھارت کے ہر کونے سے کوئی نہ کوئی سکول بس بچوں کو لے کر موہنجوداڑو، ٹیکسلا اور ہڑپہ پہنچی ہوئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان تین پرانی تہذبیوں کے بارے میں ہندوستان کے ہر سکول اور کالج میں بہت پڑھایا جاتا ہے۔ اور تو اور بھارتی سول سروس کے امتحان میں بھی اس پر سوالات ضرور آتے ہیں۔ کون سا بھارتی طالب علم ہوگا جو ان تین قدیم تہذیبوں کو وزٹ نہ کرنا چاہے گا۔

میں نے ہنستے ہوئے کہا :جے پی سنگھ جی دراصل پانی پت کی جنگیں ہمیں اس لیے اچھی لگتی ہیں کہ ہمیں لگتا ہے یہ ہندوستان دراصل مسلمانوں کا ہے۔ وہ جنگیں ہمیں ہندوستان پر مسلمانوں کی ہزار سالہ حکمرانی کی یاد دلاتی ہیں۔ آپ کو موہنجو داڑو، ٹیکسلا اور ہڑپہ اس لیے پڑھائے جاتے ہیں تاکہ بھارتی بچوں کو لگے کہ آج کا پاکستان ان کا ہے کیونکہ انڈس تہذیب کا جنم یہیں ہوا اور یہیں اشوکا دی گریٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت کی بنیاد رکھی۔

اشتہار


بھارتی بچوں کو یہ نفسیاتی طور پر سمجھایا جاتا ہے کہ تمہاری تہذیب وہیں سے ابھری اور کبھی واپس لینی ہے جسے اکھنڈ بھارت کہا جاتا ہے۔ ہمیں پانی پت کی جنگوں سے بہت حوصلہ ملتا ہے، آپ ہم سے ہڑپہ، موہنجوداڑو، ٹیکسلا لینے کے چکر میں ہیں تو ہم دلی پر نظریں گاڑے بیٹھے ہیں۔ آپ کا کام بھی چل رہا ہے، ہمارا بھی چل رہا ہے۔ اس پر ایک قہقہہ لگا۔

جنرل مشرف دور میں کچھ اچھے کام ہوئے تھے، ان میں ایک بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا تھا۔ ایک دفعہ کسی جگہ میں نے کہا تھا کہ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات نارمل ہوتے ہیں تو یہ وہ وقت ہوتا ہے جب بھارت میں بی جے پی اور پاکستان میں فوجی حکومت ہو۔ اب یہی دیکھ لیں کہ جنرل ایوب خان اور نہرو صاحب کے درمیان تعلقات اچھے رہے۔ بعد میں بھٹو صاحب نے کشمیر پر ایسا منصوبہ پیش کر دیا جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات آج تک درست نہیں ہوسکے۔ جہاں پانچ ہزار پاکستانی کمانڈوز نے جانیں دیں، وہیں وہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے سرد خانے میں چلا گیا۔

مزے کی بات ہے کہ تاشقند میں بھارتی وزیراعظم شاستری چاہتے تھے کہ پاکستان ان کے ساتھ آئندہ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرے، جنرل ایوب بھی راضی تھے لیکن بھٹو صاحب اکڑ گئے۔ روسی میزبان حیران تھے کہ اگر آپ لوگوں نے آئندہ جنگیں ہی لڑنی ہیں تو پھر یہاں تاشقند کیا لینے آئے ہیں۔ بھٹو صاحب کی وہ بڑی غلطی تھی، انہوں نے ایوب خان کو جنگیں نہ کرنے کا وہ معاہدہ نہ کرنے دیا ورنہ انیس سو اکہتر میں بھارت مشرقی پاکستان میں اپنی فوجیں اس معاہدے کے تحت داخل نہ کرسکتا۔

جنرل ضیا اور راجیو گاندھی کے درمیان بھی اچھا تعلق رہا۔ بھارتی اداکار جنرل ضیا کے مہمان بنتے تھے۔ جنرل مشرف دور میں تو معاملات بہت اچھے تھے اور بہت سے معاہدے بھی ہوئے۔ پہلی دفعہ کسی بھارتی سفارت کار کے گھر دعوت پر جانے والے صحافیوں یاسیاسی لوگوں کو واپسی پر گھر کے باہر انتظار کرتے سیکرٹ ایجنسی کے اہلکاروں کے سوالات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ بھارت سے بھی کئی صحافی آئے اور پاکستان اور پاکستانیوں کے دوست بن کر گئے۔ انہیں جو پاکستان کے بارے ڈرایا جاتا ہے، جب انہوں نے یہاں حالات اس کے برعکس دیکھے تو بہت متاثر ہوئے۔

بھارت میں کانگریس، بی جے پی کے ڈر سے پاکستان سے تعلقات ٹھیک نہیں کرسکتی تو پاکستان میں سیاسی حکمران دباؤ میں رہتے ہیں۔ بینظیر بھٹو نے کوشش کی، راجیو گاندھی کو بلایا تو انہیں پنجاب کے میڈیا نے سکیورٹی رسک قرار دے دیا۔ انہی الزامات پر انہیں برطرف کردیا گیا۔ بھارتی وزیراعظم آئی کے گجرال کی آٹوبائیوگرافی پڑھ رہا تھا، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو کے پہلے دور میں وزیرخارجہ یعقوب خان ایک پیغام لے کر دلی آئے تھے کہ اگر ضرورت پڑی تو بھارت پر ایٹم بم استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک برس بعد جب راجیو گاندھی کے قتل پر بینظیر بھٹو دلی گئیں توآئی کے گجرال سے بھی ملیں۔ انہوں نے یہ بات بتائی تو بینظیر بھٹو ہکا بکا رہ گئیںکہ وہ کیسے اپنے وزیرخارجہ کو یہ پیغام دے کر بھارت بھیج سکتی تھیں۔ بعد میں پتہ چلا وہ میسج اس وقت کے آرمی چیف نے بغیر بینظیر بھٹو کی منظوری کے دلوایا تھا۔ اسی آرمی چیف نے ہی یعقوب خان کو وزیرخارجہ رکھوایا تھا۔

اسی بی جے پی نے جنرل مشرف کو بھارت بلایا اور بعد میں واجپائی صاحب اسلام آباد تشریف لائے اور معاملات بڑی حد تک سیٹ ہوگئے۔ بعد میں کانگریس کی حکومت میں بھی جنرل مشرف کے ساتھ معاملات درست رہے۔ زرداری اور نواز شریف کے آتے ہی دوبارہ لگا کہ کسی بھی وقت دونوں ملکوں میں جنگ ہوسکتی ہے۔ اب بھی جب عمران خان نے بھارت کو امن کا پیغام بھیجا تو بی جے پی نے انکار کر دیا۔ مجھے کوئی شک نہیں اگر پاکستان میں اِس وقت فوجی حکومت ہوتی تو نریندر مودی نے اس آفر کو خوش آمدید کہنا تھا اور فوری طور پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر ہو جاتے۔

جب عمران خان نے صحافیوں سے پہلی ملاقات کی تو میں نے ان سے یہ سوال کیا تھا کہ آپ جی ایچ کیو سے بریفنگ لے کر آئے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات نارمل ہوئے بغیر پاکستان کا سیاسی وزیراعظم ہمیشہ مشکلات میں گھرا رہتا ہے۔ ایک دن آپ کو بھی بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی طرح احساس ہوگا کہ اگر اپنا معاشی ایجنڈا پورا کرنا ہے تو بھارت سے تعلقات ٹھیک کرنا ہوں گے۔ عمران خان نے بتایا کہ بھارت پر جی ایچ کیو میں بات ہوئی تھی۔ انہیں جنرل باجوہ سمیت پوری فوجی قیادت نے یہ کہاکہ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات درست کرنے کے لیے اقدامات کریں، فوج انہیں پوری حمایت دے گی۔

اشتہار


بعد میں عمران خان نے بھارت کو پیشکش کی، جو بھارت نے ٹھکرا کر وہی غلطی کی جو ہم ماضی میں واجپائی کی لاہور بس کے بعد کرچکے تھے۔ جب بھارتی ٹی وی چینلز پر عمران خان کے خلاف شو ہورہے تھے تو میں نے اپنے ٹی وی شو میں اس وقت بھی کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات عمران خان اور آرمی چیف باجوہ کے دورمیں بہتر ہوسکتے ہیں کیونکہ ماضی کے آرمی چیفس کے برعکس جنرل باجوہ واقعی بھارت سے تعلقات میں سنجیدہ ہیں، بھارت میں عمران خان کی بھی گڈ ول ہے، لہٰذا دونوں تعلقات بہتر کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ایک آدھ بھارتی میڈیا پر ہمارے شو کے یہ کلپ چلے بھی تھے۔

ویسے ڈالرز کمانے ہیں تو پھر جیسے بھارت آگرہ میں تاج محل، دلی میں قطب مینار، ہمایوں کا مقبرہ اور دیگر تاریخی مقامات سے ہر سال اربوں ڈالرز ٹورازم سے کما رہا ہے، ہمیں بھی سوچنا چاہیے کہ اگر ہر روز بھارت سے سکھ، ہندو، بدھ مت کے پیروکار اور بھارتی طالب علموں کی سکول بسیں پاکستان اپنے مذہبی اور تاریخی مقامات کی زیارت اور سیر کے لیے آئیں تو ہمیں شاید قرضوں کے لیے، منت ترلے، کی ضرورت نہ پڑے۔ ساری عمر ہماری سیاسی اور بیوروکریٹک ایلیٹ نے اپنا بھلا سوچا ہے۔ کبھی تو ہم اس ریاست، ملک اور اس کے شہریوں کا بھلا سوچ لیں!

اپنا تبصرہ بھیجیں