ملکی قرضے اور موجودہ حکومت

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے خوش خبری دی ہے کہ سعودی عرب سے زبردست پیکیج مل گیا ہے اور اس کی وجہ سے قرضوں کا بوجھ بھی کم ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اقتدار سنبھالتے ہی قرضوں کے بوجھ کا سامنا کرنا پڑگیا۔ ہم نے قرضوں کی قسطیں واپس کرنی ہیں۔ یہ قرضے ہم سے پہلے کی حکومتوں نے لیے تھے۔

اگر قرضے واپس نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ کرجاتا۔ یعنی دیوالیہ ہوجاتا۔ دیوالیہ ہونا کسی فرد، قوم یا ملک کی معاشی تباہی کی آخری حد ہوتی ہے۔ پچھلے چالیس سال میں لیے ہوئے قرض اور اس پر ادا کردہ سود نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اندازہ کریں 1971ء میں پاکستان کا کل قرض صرف 30 ارب روپے تھا جو 2018ء میں 30 ہزار ارب پر پہنچ گیا۔ یعنی یہ اضافہ 1000 گنا بنتا ہے۔ اتنے بڑے قرضے کے باوجود ناقص پانی اور ناقص غذا ہمارے بچوں اور نوجوانوں کا مستقبل تاریک کررہی ہے۔ پچھلے تیس سال میں پاکستانی عوام کی اکثریت کتے اور گدھے کا گوشت بکرے گائے کے گوشت کے نام پر کھاچکی ہے۔ شادی ہالوں اور اعلیٰ ہوٹلوں میں یہ سوغات پیش کی جاتی رہی۔ حتیٰ کہ پوش علاقے بھی اس سے نہیں بچے۔ مردہ اور بیمار مرغیاں آج بھی پورے ملک کے عوام کھارہے ہیں۔ ملک کے دیگر شہروں کا تو پتہ نہیں البتہ لاہور میں بار بار چھاپوں کے باوجود یہ مکروہ دھندہ رک نہیں پارہا۔ یہ لاہور جیسے شہر کا حال ہے تو باقی شہروں کا کیا حال ہوگا۔ خود ہی اندازہ کرلیں۔

لاہور میں چند دن پیشتر مرغیوں کی آنتوں اور غلاظت سے تیل بنانے کی بھٹی پکڑی گئی۔ اس تیل کو معیاری تیل میں مکس کرکے فروخت کیا جارہا تھا۔ غذائی ماہرین کے مطابق اس ناقص تیل کا استعمال کینسر، امراض قلب اور معدے کی خطرناک بیماریوں کا باعث ہے۔کرپشن اور منی لانڈرنگ پاکستان میں کس طرح پر ہے اس کا اندازہ اس سے کرلیں کہ فالودے والے کے اکاؤنٹ میں اربوں نکلے اور وہ اس سے بے خبر۔ اس طرح کی ایک نہیں کئی مثالیں ہیں۔

کراچی میں ایک نائب قاصد کے نام پر کمپنی نکل آئی تو ٹنڈو محمد خان سندھ میں ایک دھوبی کے نام پر کروڑوں کی کمپنی نکل آئی۔ وہ کہے میرا اس سے کیا واسطہ، میں تو چند سو روپے روزانہ کمانے والا مزدور۔ ماضی کی کرپشن، منی لانڈرنگ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بیرونی قرضوں کی قسط ادا کرنے کے لیے بھی نئے قرضے لینے پڑرہے ہیں جس کے نتیجے میں آج مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ بقول عمران خان جب قوم مقروض ہوجاتی ہے تو مہنگائی کے ذریعے قرضوں کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب ہم کرپٹ قیادت کو برداشت کرتے ہیں تو قوم بالخصوص غریب عوام کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ یعنی ماضی کی حکومتوں نے جو بویا وہ عمران خان اور عوام کو کاٹنا پڑے گا۔

اشتہار



وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ پاکستان سعودی عرب، یمن جنگ میں ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ اگر ایسا ہوگیا تو پاکستان کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہوگا کیونکہ چند دن پیشتر یو این او نے کہا ہے کہ جنگ سے تباہ حال یمن میں عنقریب ایسا قحط پڑنے والا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ہوگی۔ اس وقت جاری جنگ کی وجہ سے یمن کی دو تہائی آبادی خوراک اور ادویات کی نایابی سے بدترین بھوک اور بیماریوں کا شکار ہے جس میں زیادہ تر بچے اور عورتیں اور عمر رسیدہ افراد شامل ہیں۔ پاکستان اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ وہ اس لیے کہ پچھلے کچھ عرصے میں پاکستانی اور ایرانی آرمی چیف نے مدتوں بعد ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کیا جو کئی دنوں پر محیط تھا۔ یمن کے حوثیوں کے حوالے سے ایران کا کیا موقف ہے، یہ سب کو پتہ ہے۔ ان دوروں سے شکوک و شبہات کم اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ ایک ایسی جنگ ہے جس نے بہرحال ختم ہونا ہے کیونکہ پوری دنیا سے یمن کی بدترین انسانی صورتحال پر مسلسل احتجاج ہورہا ہے۔ سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کی وجہ سے سعودی عرب ٹرمپ امریکا، ترکی، برطانیہ اقوام متحدہ جرمنی یورپی یونین اور پوری دنیا کے شدید دباؤ اور بدترین بدنامی کا سامنا کررہا ہے۔ اس لیے یمن میں حالات میں بہتری سعودی صحافی کے قتل سے پیدا ہونے والے ناقابل تلافی نقصانات میں کمی لائے گی۔ یاد رہے کہ یمن ثالثی کے معاملے میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی ہر طرح کی مدد، رہنمائی شامل ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان نے این آر او کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کان کھول کر سن لیں کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ دونوں طرف سے تمام تر تردید کے باوجود ڈیل کی چہ میگوئیاں زوروں پر ہیں۔ وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین کچھ عرصہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ ہمارا نواز شریف سے کوئی لینا دینا نہیں۔ پیسے واپس کریں جہاں مرضی جائیں۔ ہمیں ان کو رکھ کر کیا کرنا ہے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ جب سے نواز شریف جیل سے عارضی طور پر رہا ہوئے ہیں، ان کی بیٹی مریم نواز اور انھوں نے ایک چپ سادھ لی ہے۔ ماضی کو یاد کریں ایسے یہ حالات تھے جب مشرف آمریت کے خلاف تحریک چلانے کی تیاریاں زوروں پر تھیں کہ بیگم کلثوم نواز اچانک راتوں رات نواز شریف سمیت اپنی فیملی کو لے کر جدہ پہنچ گئیں اور نوابزادہ نصراللہ خان منہ دیکھتے رہ گئے۔

سعودی عرب چین اور دیگر ممالک سے امداد ملنے پر عمران خان کے مخالفین خاموش ہیں۔ ان کا تو گمان بلکہ یقین تھا کہ حکومت کا معاشی سونامی کے ہاتھوں خاتمہ ہوجائے گا لیکن یہ تو عجیب ماجرا ہوگیا۔ غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔ جب چیف آف آرمی اسٹاف نے کوئٹہ ایئرپورٹ پر وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا۔ ابھی چند دن پہلے یورپی یونین کے مبصرین نے ہمارے حالیہ انتخابات کو شفاف قرار دے دیا۔ گلوبل مفادات جڑے ہوئے ہیں چاہے افغانستان ہو یا مشرق وسطیٰ کا خطہ۔ دھاندلی کا رونا رونے، واویلا کرنے والے ماضی کو بھی یاد رکھیں۔ جب پیپلزپارٹی کو ہرانے کے لیے مسلسل کئی الیکشنوں میں دھاندلی کی گئی۔ اس کا فائدہ کسے پہنچا یہ بتانے کی ضرورت نہیں، سب کو پتہ ہے۔ جس سیاست کا آغاز دھاندلی سے ہو اس کا انجام بقول ان کے دھاندلی ہو تو کچھ عجب نہیں۔ اسے ہی مکافات عمل کہتے ہیں۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ عوام کو پورا سچ بتائیں آدھا نہیں۔ سادہ لوح بقراط اس حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ آخر کار تیس سال بعد نواز شریف چیپٹر کلوز ہوگیا جس کا ذکر میں دو سال پہلے کرچکا ہوں۔

٭… گزشتہ ستمبر میں نے پیش گوئی کی تھی کہ نواز شریف صاحب جن حالات سے گزر رہے ہیں اس حوالے سے نومبر دسمبر اہم مہینے ہیں۔ اب مزید یہ ہے کہ اس وقت کا آغاز نومبر کے دوسرے ہفتے خاص طور پر نومبر کا آخر اور دسمبر کا شروع اہم وقت ہے۔

تحریر: زمرد نقوی

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں