وزیراعظم کے زبانی حکم پر آئی جی اسلام آباد کو ہٹایا گیا، اٹارنی جنرل

، اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا ہے کہ آئی جی اسلام آباد کو وزیراعظم عمران خان کے زبانی حکم پر ہٹایا گیا ہے، چیف جسٹس نے آئی جی کے تبادلے کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے انہیں کام جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔

اٹارنی جنرل نے آئی جی اسلام آباد جان محمد کے تبادلے کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس متعلق زبانی احکامات وزیر اعظم عمران خان نے جاری کیے۔

اس سے پہلے عدالتی حکم پر سیکریٹری داخلہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ان کے علم میں لائے بغیر آئی جی کا تبادلہ کیا گیا، یہ احکامات براہ راست سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے آئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ہم ملک کو اس طرح نہیںچلنے دیں گے،انہوں نے اٹارنی جنرل کو کل پھر طلب کرلیا اور کہا کہ بتایا جائے کون سے وزیر کاآئی جی سے معاملہ تھا۔

سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ کس کے کہنے پر وزيراعظم نے زبانی احکامات پر آئی جی کا تبادلہ کیا،سپریم کورٹ نے سیکریٹری داخلہ کو لاعلمی کا بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا۔

اس موقع پر سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آبادکے تبادلے کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے انہیں کام جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں