کھجور کے تنوں کی شکل میں بارودی سرنگیں

یمن میں باغی حوثی ملیشیا کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے کے عمل میں نت نئی فن کاریاں سامنے آ رہی ہیں۔ ان بارودی سرنگوں کے سبب روزانہ متعدد افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

اس حوالے سے حوثیوں نے اپنی تازہ ترین جدّت طرازی میں “کھجور کے درخت کے تنوں” کی شکل میں دھماکا خیز آلات اور بارودی سرنگیں نصب کرنا شروع کر دی ہیں۔

یمنی فوج میں العمالقہ بریگیڈز کے میڈیا سینٹر کے مطابق حوثی ملیشیا نے الحدیدہ صوبے میں “کیلو 16” کے علاقے کے نزدیک شہریوں کے کھیتوں میں کھجور کے تنوں کی شکل میں دھماکا خیز مواد اور آلات نصب کیے۔ تاہم یمنی فوج کی انجینئرنگ ٹیم نے ان کا پتہ چلا کر تمام مواد کو ناکارہ بنا دیا۔

اس سلسلے میں جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ دھماکا خیز آلات کو ایرانی تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے کھجور کے تنوں کی شکل میں تیار کیا گیا۔ یاد رہے کہ حوثی ملیشیا نے مغربی ساحل کے علاقے میں ہزاروں بارودی سرنگیں اور دھماکا خیز آلات نصب کیے تھے جن کے سبب سیکڑوں یمنی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

دوسری جانب العمالقہ بریگیڈز کی انجینئرنگ ٹیم نے اُن لاکھوں بارودی سرنگوں اور دھماکا خیز آلات کو ناکارہ بنایا جن کو حوثی ملیشیا نے عام راستوں، شہریوں کے کھیتوں، اسکلوں مساجد اور لوگوں کے گھروں میں بچھایا اور نصب کیا تھا۔

یمن کے صوبے الجوف میں اتوار کے روز انسانی حقوق کے بیورو کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ حوثیوں کی جانب سے صوبے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے نتیجے میں 713 شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق بارودی سرنگوں کا شکار افراد کی تعداد کے لحاظ سے الجوف کا یمن میں چوتھا نمبر رہا۔ یہاں 183 کے قریب افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 300 سے زیادہ کا حُلیہ بگڑ گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں