داعش نے شام کے مشرقی علاقے سے امریکا کی حمایت یافتہ فورسز کو پسپا کردیا

داعش نے شام کے مشرقی صوبے دیر الزور کے سرحدی علاقے سے امریکا کے حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل شامی جمہوری فورسز کو پسپا کردیا ہے۔

شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق ایس ڈی ایف کے ایک کمانڈر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عراق کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے حاجن سے پسپائی کی تصدیق کی ہے۔رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ’’ جمعہ سے اتوار کی صبح تک داعش نے ایس ڈی ایف کے خلاف جوابی حملے کیے ہیں اور اس کے زیر قبضہ تمام ٹھکانوں اور چوکیوں کو واپس لے لیا ہے‘‘۔

داعش نے علاقے میں آنے والے ریت کے طوفان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جوابی وار کیے ہیں اور اس کے خودکش بمباروں نے ایس ڈی ایف کو حملوں میں نشانہ بنایا ہے ۔گذشتہ دو روز میں داعش کے ساتھ لڑائی اور بم دھماکوں میں ایس ڈی ایف کے 72 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں ۔

ایس ڈی ایف کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ ان کی فورسز کو ریت کے شدید طوفان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انھیں علاقے کے محل وقوع کا علم نہیں تھا۔ طوفان کی وجہ سے انھیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا ،اس لیے ان کی نقل وحرکت مسدود ہو کررہ گئی تھی۔اب وہ داعش کے خلاف نئے حملے کے لیے کمک کے انتظار میں ہیں ۔

عرب اور کرد جنگجوؤں پر مشتمل ایس ڈی ایف نے 10 ستمبر کو امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد سے شام کے سرحدی علاقے سے داعش کو نکال باہر کرنے کے لیے کارروائی شروع کی تھی۔ اس محاذ پر لڑائی میں ایس ڈی ایف کے تین سو سے زیادہ اور داعش کے کم سے کم پانچ سو جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔امریکی اتحاد کے ایک تخمینے کے مطابق حاجن کے علاقے میں داعش کے کم وبیش دو ہزار ارکان موجود ہیں۔

داعش کا اس وقت شام میں عراق کی سرحد کے ساتھ واقع اس علاقے اور شمال مغربی صوبے ادلب کے بعض حصوں ہی پر کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔رصدگاہ نے گذشتہ ہفتے امریکا کی قیادت میں اتحاد کے سوسہ پر فضائی حملوں میں اکتالیس شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔18 اور 19 اکتوبر کو فضائی حملوں میں مرنے والوں میں دس بچے بھی شامل تھے لیکن امریکی اتحاد کا کہنا تھا کہ اس نے 18 اکتوبر کو فضائی حملے میں داعش کی ایک کمان پوسٹ کو نشانہ بنایا تھا اور اس نے اس کے ایک روز بعد علاقے میں کسی فضائی حملے کی تردید کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں