پنیراور دہی کھانے کی عادت امراض قلب اور ہارٹ اٹیک سے بچانے میں مددگار

دودھ کے خمیر سے بننے والی اشیاءجیسے پنیر اور دہی وغیرہ کھانے کی عادت امراض قلب اور ہارٹ اٹیک سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بات فن لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ایسٹرن فن لینڈ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دودھ کے خمیر سے بننے والی اشیاءدنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کا باعث بننے والے امراض کا خطرہ مردوں میں نمایاں حد تک کرتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران سیکڑوں رضاکاروں کی غذائی عادات کا جائزہ 25 سال تک لیا گیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دودھ کے خمیر سے بننے والی مصنوعات کولیسٹرول کی سطح پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں جس کے نتیجے میں دل کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔

دوسری جانب آئسکریم اور مکھن کا زیادہ استعمال الٹا اثر کرتا ہے یعنی امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 2 ہزار افراد کو مختلف گروپس میں دودھ کی بنی مصنوعات استعمال کرنے کی مقدار کی بنیاد پر تقسیم کرکے طرز زندگی کے مختلف عناصر کا بھی جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے دورانیے کے دوران 472 مردوں کو امراض قلب یا ہارٹ اٹیک کا سامنا ہوا تاہم محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ پنیر یا دہی وغیرہ زیادہ کھانے کے عادی تھے، ان میں ہارٹ اٹیک یا دیگر دل کی بیماریوں کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوا۔

محققین نے یہ واضح نہیں کیا کہ دہی یا پنیر سے زیادہ فائدہ کیوں ہوتا ہے تاہم ان کے خیال میں خمیر کے دوران بننے والے کمپاﺅنڈ ممکنہ طور پر یہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں