ملک کے بیشتر حصوں میں نظام زندگی جزوی طور پر مفلوج

گزشتہ روز آسیہ بی بی کی رہائی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہونے والے احتجاج کے باعث ملک کے بیشتر حصوں میں نظام زندگی جزوی طور پر مفلوج ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور جب کہ سندھ حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کررکھی ہے لیکن اس کے باوجود اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر دھرنوں کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

لاہور میں احتجاج کے پیش نظر میٹرو بس سروس بند ہے جب کہ مال روڈ کی طرف جانے والے راستے بھی بند ہیں۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سروس بھی معطل ہے۔ کراچی میں بھی کئی اہم سڑکوں پر دھرنے جاری ہیں جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث عوام دہری مشکلات کا شکار ہیں۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تمام جب کہ سندھ میں نجی تعلیمی ادارے بند ہیں۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے کے تمام ثانوی تعلیمی بورڈز کے تحت آج بارہویں جماعت، راولپنڈی تعلیمی بورڈ نے انٹرمیڈیٹ کے ضمنی امتحانات، ملتان میں وفاقی تعلیمی بورڈ کے تحت پانچویں اور آٹھویں جماعت کے آج کے امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں، جن کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

سندھ حکومت کی جانب سے تدریسی سرگرمیوں کی معطلی کا باضابطہ اعلان تو نہیں کیا گیا تاہم سرکاری تعلیمی اداروں میں حاضریاں نا ہونے کے برابر ہیں جب کہ صوبے بھر کے نجی تعلیمی ادارے آج بند ہیں۔

خیبر پختونخوا میں بھی تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ہیں تاہم بلوچستان میں تمام نجی و سرکاری تدریسی مراکز آج کھلے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں