توہین رسالتؐ قانون کے تحت آج تک کسی کو پھانسی نہیں دی گئی

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جانب سے توہین رسالتؐ کے الزام میں سزائے موت کی مجرمہ آسیہ بی بی کی بریت کے ساتھ پاکستان نے توہین رسالتؐ کے حوالے سے قانون کے تحت آج تک کسی کو بھی سزائے موت نہیں دی۔

یہ قانون 1986ء میں متعارف کرایا گیا تھا، گو کہ پورے ملک میں توہین رسالتؐ کے حوالے سے قانون کے تحت 1500افراد پر الزاما ت لگے۔ کئی کو سزائے موت سنائی بھی گئی لیکن ایک پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ پاکستان کا توہین رسالتؐ سے متعلق قانون 1860ء میں برطانوی دور کے توہین مذہب سے متعلق قانون میں توسیع ہے، جو ضیاء دور میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 295۔ بی اور 295۔ سی کی شکل میں متعارف کرائی گئیں۔ 1927سے 1985تک 58سال میں توہین مذہب یا رسالتؐ کے حوالے سے عدالتوں میں 10مقدمات کی سماعت ہوئی۔ لیکن 1986ء میں شاتم رسولؐ کے خلاف توہین رسالتؐ کا قانون متعارف ہونے کے بعد چار ہزار مقدمات درج ہوئے۔ لاہور کی این جی او سنٹر فار سوشل جسٹس کے اعداد و شمار کے مطابق 1987سے2016ء کے درمیان 1472؍افراد پر مذکورہ قوانین کے تحت فرد جرم عائد ہوئی جن میں 730مسلمان، 501قادیانی، 205عیسائی اور 26ہندو ہیں۔ لیکن آج تک سزائے موت پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ آئی سی جے کے ایک جائزے کے مطابق ٹرائل کورٹس کی دی گئی 80فیصد سزائیں ختم کر دی گئیں۔ لیکن ردعمل میں مشتعل ہجوم ا ور افراد کی جانب سے 75افراد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ زیادہ تر واقعات پنجاب اور ضلع لاہور میں ہوئے 2006ء میں مال روڈ لاہور اور 2013ء میں جوزف کالونی میں مشتعل ہجوم نے اربوں روپے کی املاک کو آگ لگا دی ۔توہین رسالتؐ سے متعلق مقدمات میں چار افراد کو پولیس کی حراست یا جیل میں قتل کیا گیا۔ توہین رسالتؐ کے ملزمان پطرس اور اس کے عم زاد ساجد مسیح کو جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھئی آسیہ بی بی کے حق میں آواز بلند کرنے پر قتل کر دیئے گئے۔ جولائی 2012میں بہاولپور کے قریب قرآنی صفحات جلانے کے الزام میں ایک ذہنی معذور کو آگ لگا کر قتل کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں