Orya-Maqbool-Jan

خدا بنے تھے یگانہ‘ مگر بنا نہ گیا

کسی مطلق العنان بادشاہ‘ قبائلی سردار‘ آمریت پسند جمہوری لیڈر‘ مذہبی پیشوا یا مسند انصاف پر بیٹھے جج کو اگر اس بات کی قوت حاصل ہو جائے کہ وہ اپنی توہین کرنے والوں کو قانوناً یا غیر قانوناً سزا دے سکیں تو ان میں لاشعوری طور پر کچھ خدائی صفات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں جس کا اظہار ان کے لہجے سے ٹپکتا ہے۔ یہی حال ان سائنسدانوں ‘ فلسفیوں اور کائنات کے سربستہ رازوں کا کھوج لگانے والوں میں سے ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنے علم کے نشے میں یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم نے اس کائنات کو اتنا جان لیا ہے کہ ہم اسے بزعم خود چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر ہماری ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو یہ دنیا تباہ و برباد ہو جائے گی۔ ایسا جہالت میں ڈوبا ہوا علم جب کسی ایسے فرد کی زبان سے ادا ہونے لگے جو قوت و طاقت کے بل بوتے پر خدائی لہجے میں بول رہا ہو تو یہ خطرناک ترین مقام ہے لیکن میرے ملک میں ایسا ہونے جا رہا ہے۔13فروری 1766کو برطانیہ میں پیدا ہونے والے پادری اور سیاسی معاشیات کے ماہر تھامس رابرٹ مالتھس Thamas Robert Malthusکا دعویٰٔ پروردگاری بھی اس ذہنیت کا تسلسل ہے۔ مالتھس نے 1798ء میں ایک مضمون تحریر کیا جس کا عنوان تھا’’آبادی کے اصول‘‘ Principals of Population۔ اس نے کہا کہ دنیا کی آبادی جیومیٹری کے اصولوں کے مطابق بڑھتی ہے یعنی 2‘4‘8‘ 16‘ 32جبکہ وسائل حساب کے اصولوں کے مطابق بڑھتے ہیں جیسے 1‘2‘3‘4‘5۔ ایک دن ایسا آئے گا کہ آبادی اتنی بڑھ جائے گی کہ وسائل کو چٹ کر جائے گی اور لوگ ایک دوسرے کو کھانے پر مجبور ہوں گے۔1798ء سے 1826ء تک اس کی کتاب کے چھ ایڈیشن شائع ہوئے۔ علمی طور پر اس پر بحثیں ہوئیں لیکن اس زمانے کے غریب یورپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا میں وسائل کی فراوانی رکھی ہے اور اگر افرادی قوت نہ ہوئی تو ہم ان وسائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ کسی نے مالتھس کی ان خرافات پر کان نہ دھرا اور تمام یورپی ممالک اپنی افرادی قوت میں اضافہ میں مگن رہے اور اسی قوت سے پوری دنیا کے وسائل سے لطف اندوز ہوئے۔1846ء سے 1890ء تک یورپ سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 30لاکھ70ہزار تھی جوو 1910ء تک 90لاکھ 11ہزار ہوئی اور 1930ء تک یہ گوری نسل پانچ کروڑ کی تعداد میں دنیا کے ان خطوں میں جا کر آبادی ہوئی جو وسائل سے مالا مال تھے۔ عربوں کا تیل‘ افریقہ کی معدنیات‘ امریکہ کے وسائل‘ ہند چینی کاربڑ‘ برصغیر کی کپاس اور مصالحہ جات سے وہ تجارتی فائدہ اٹھا ہی نہیں سکتے تھے‘ اگر ان کے پاس اس قدر وافر افرادی قوت نہ ہوتی‘ جو ان کی معاشی ترقی میں حصہ لیتی۔ جب یہ ملک ترقی کی معراج پر پہنچ گئے تو پھر ان کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ باقی تمام ممالک کو کیسے ترقی سے روکا جائے۔ اس کا صرف ایک ہی راستہ تھا کہ انہیں آبادی کم کر کے ترقی کا گر سکھایا جائے۔ ڈیڑھ سو سال پرانی مالتھس کی تھیوری کی گرد جھاڑی گئی اور آبادی کی کمی کو عالمی معیشت کی نجات کے اصول کے طور پر اپنا لیا گیا۔ یہ اچانک نہیں ہو گیا۔ سب سے بڑا خوف یہ تھا کہ اگر مسلمانوں کی آبادی بڑھتی چلی گئی تو یہ ہمارے لیے بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ سی آئی اے‘ محکمہ دفاع اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی 1954ء کی قومی سلامتی کی یادداشت نمبر NSSM200میں شرح آبادی اور امریکی سلامتی پر پالیسی اختیار کی گئی کہ کیسے غریب ملکوں میں آبادی کو کم کرنے کے پروگرام شروع کرنے چاہئیں۔ اس کے تحت بڑے بڑے لیڈروں‘ دانشوروں اور ادیبوں کو خریدنے کا پروگرام بنایا گیا۔ کیا اصول تھے ۔ امداد اس کو دو جو آبادی کم کرے۔ خوراک اس کو دو جو آبادی کم کرے۔ دوائی اس کو دو جو آبادی کم کرے۔
اشتہار



رپورٹ کہتی ہے کہ اگر شمالی افریقہ کے مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہو گیا تو یہ ایک دن ہمارے لئے ایک دوسرے ’’مہدی سوڈانی‘‘ کا خطرہ کھڑا کر سکتے ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد اقوام متحدہ ہو یا ورلڈ بنک‘ آئی ایم ایف ‘ ایک ہی نعرہ بلند ہوا‘ بچے کم خوشحال گھرانہ ‘جان ہاپکنز یونیورسٹی میں 23ملین ڈالر سے تحقیق کا پروگرام شروع ہوا ‘امپیکٹ پروگرام‘ ایسڈ پروگرام‘ کولمبیا یونیورسٹی پروگرام‘ خرچہ بڑھتا گیا‘ مانع حمل ادویات کی اقسام میں اضافہ ہوتا گیا۔ حیرت کی بات یہ کہ دنیا کی آبادی کو کم کرنے کا ٹھیکہ اس امریکہ نے لیا جس کی ساری ترقی افرادی قوت میں اضافے کی وجہ سے ہے۔1777ء میں جب اس نے آزادی حاصل کی تو اس کی آبادی 40لاکھ تھی‘ پچاس سال بعد 1کروڑ 80لاکھ ہو گئی۔ اگلے تیس سال بعد 3کروڑ 85لاکھ‘ اگلے دس سالوں میں پانچ کروڑ اور 1900ء میں سات کروڑ ساٹھ لاکھ ہو گئی اگر امریکہ کی آبادی 44لاکھ پر روک لی جاتی تو آج وہ دنیا کے نقشے پر افریقہ سے بھی پسماندہ ملک تصور ہوتا۔ آبادی میں اضافے کے حوالے سے پریشان جناب چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب! ذرا ان ملکوں کا حال ملاحظہ کریں جنہوں نے آبادی کی کمی کے لیے اقدامات کئے اور آج سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ ہم تباہ و برباد ہو گئے۔ آج سے ٹھیک دس سال پہلے ’’اکانومسٹ‘‘ نے ایک پچاس صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی جس میں کہا کہ مالتھس کی تھیوری ناکام ہو گئی۔ دنیا میں آج بھی لاتعداد وسائل ہیں لیکن 18ملک آبادی کی کمی وجہ سے اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ اگر باہر سے لوگ نہ آئیں تو ان کی بجلی‘ پانی‘ سیوریج اور دیگر سہولیات کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو‘ کسی بھی معاشرے کے مضبوط اور مستحکم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایک بوڑھے پر پانچ نوجوان موجود ہوں یا پھر اس ملک کی آبادی بڑھنے کی شرح 2.1فیصد سے زیادہ ہو۔ اس وقت جاپان پولینڈ‘ آسٹریا ‘ سواکیہ ‘ اٹلی‘ یونان‘سلووینیا میں یہ شرح صفر ہے۔ جرمنی‘ کروشیا‘ رومانیہ ایسٹونیا میں 0.2فیصد ہے ۔روس‘بیلا روس میں 0.6فیصد جبکہ باقی یورپی ممالک میں بھی یہ شرح ایک فیصد سے ڈیڑھ فیصد کے درمیان ہے‘ یعنی سب سے زیادہ شرح والے ملک میں دو بوڑھوں پر تین نوجوان رہ گئے ہیں۔ آبادی کو کنٹرول اور مانع حمل ادویات کے استعمال کے تین نقصانات ہوئے۔ لوگوں نے یہ سوچنا چھوڑ دیا کہ ایسی اولاد کیوں حاصل کریں۔ جس نے کل کو انہیں چھوڑ جانا ہے۔ اپنی زندگی خوشی خوشی گزارو اور اس دنیا سے چلے جائو۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان ملکوں میں اکثریت بوڑھوں کی ہو چکی ہے جو اولڈ ایج ہومز میں پڑی ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہوا کہ اخلاقیات اور خاندانی زندگی کا جنازہ نکل گیا۔ آپ دس سال بھی بغیر شادی کے اکٹھے رہ کر زندگی گزارسکتے ہیں اور علیحدگی کے وقت آپ کی اولاد عورت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی۔ خاندان ‘ آئندہ نسل کا فروغ اور معاشرہ کی افزودگی سب تباہ ہو کررہ گئے۔ اس وقت خوف یہ سوار ہے کہ اگر یہی رفتار قائم رہی تو 2025ء سے 2050ء تک یورپ گوری نسل نام کی چڑیا سے بھی خالی ہو جائے گا۔ پورے یورپ میں اب بچے پیدا کرنے کے لیے عورتوں کو میٹرنٹی چھٹی کے ساتھ ساتھ مردوں کو پیٹنرنٹی یعنی باپ ہونے کی بھی چھٹی ملتی ہے تاکہ وہ اولاد پیدا کرے اور یورپ کی نسل میں اضافہ کرے۔ جس مغرب نے آبادی کو کنٹرول کر کے اپنے زوال اور موت پر دستخط کئے تھے اور آج ماتم کر رہا ہے‘ اسے مسلمانوں کی بڑھتی آبادی سے اس قدر نفرت ہے کہ ہنری کسنجر کی وہ پالیسی گائڈ لائن کہ ’’ہمیں مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنا ہے اگر ممکن ہو تو منصوبہ بندی سے اور اگر ناممکن ہو تو فوج کے استعمال سے‘‘ یہی وجہ ہے کہ اس نے افغانستان اور عراق میں فوج اتاری اور باقی عرب دنیا میں فسادات کروائے۔ لیکن شاید 1954ء میں جو پرچم امریکی سلامتی کی یادداشت نے بلند کیا‘ جان ہاپکنز سے ہوتا ہوا آبادی کے کنٹرول کے پروگراموں تک پہنچا۔اب اسے ہم نے اٹھا لیا ہے۔ مالتھس کی ناکام تھیوری کا پرچم۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ اتنا بھی مدبر و معاملہ ساز نہیں کہ زمین پر انسان کو بھیج دے اور اس کے رزق کا بندوبست نہ کرے۔ اس سے بڑھ کر شرک اور کیا ہو سکتا ہے۔ یگانہ یاد آتے ہیں: خودی کا نشہ چڑھا‘ آپ میں رہا نہ گیا خدا بنے تھے یگانہ‘ مگر بنا نہ گیا
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں