Imran-Khan-PTI

وزیراعظم عمران خان سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے

وزیراعظم عمران خان عوامی جمہوریہ چین کے سرکاری دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے۔

وزیراعظم کے بیجنگ پہنچنے پر چین کے وزیر ٹرانسپورٹ ’لی زیاؤپنگ‘، پاکستان کے لیے چینی سفیر ’یاؤ جنگ‘ اور چین میں پاکستانی سفیر مسعود خالد نے ان کا استقبال کیا۔

وزیر اعظم کے ہمراہ جانے والے وفد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیرمنصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد، مشیر برائے تجارتی امور عبدالرزاق داؤد اور وزیرا علیٰ بلوچستان جام کمال خان بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان کا اگست 2018 میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد چین کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔

وزیر اعظم عمران خان دورے میں چین کے صدر ’شی جن پنگ‘ اور چینی ہم منصب ’لی کی چیانگ‘ سے ملاقاتیں کرینگے۔

وزیر اعظم کی ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات اور اہم باہمی امور پرتبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی ہوں گے۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم شنگھائی میں چائنہ انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے دوران کلیدی خطاب کریں گے۔

پہلی بار منعقد ہونے والے چائنہ انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں مختلف پاکستانی مصنوعات بھی پیش کی جائیں گی۔

اس عالمی سطح کی نمائش میں وزیراعظم عمران خان مختلف عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے اس کے ساتھ ان کی چین کی بڑی کمپنیوں کے سربراہوں سےبھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔

پاکستان اور چین کے مابین تاریخی دوستانہ اور قریبی تعلقات قائم ہیں جودونوں دوست ممالک کے مختلف شعبوں میں مشترکہ اصولوں اور باہمی مفادات پر تعاون پر مبنی ہیں۔

علاقائی امن و استحکام اور معاشی تعاون کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزید اضافہ ہوا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور صنعتی تعاون کوپاک چین اقتصادی راہداری CPEC کے منصوبے کے آغاز کے بعد نمایاں وسعت ملی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چینی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے امید ظاہر کی کہ چین کے ساتھ پارٹنر شپ پاکستان کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے نکلنے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں مددگار ثابت ہوگی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اقتصادی بحران کے سبب آئی ایم ایف سے رابطوں کے ساتھ ساتھ دوست ممالک سے تعاون کی خواہاں ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے ملنے والے معاشی تعاون کو سراہتے ہوئے انہوں نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ اسی قسم کی درخواست متحدہ عرب امارات سے بھی کیے جانے پر کچھ دنوں میں خوشخبری سننے کو ملے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ چین دونوں ممالک کے موجودہ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید بہتر بنانے اور باہمی شراکت داری کے فروغ میں معاون ثابت ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں