شہباز شریف سے واپس پرویز الہٰی تک!

پارلیمنٹ میں جا کر اسمبلی اور سینیٹ کی کارروائی دیکھتے سولہ برس ہوگئے ہیں۔جب 2002 ء میں الیکشن کے بعد قومی اسمبلی جانا شروع کیا تو وہاں ایک نیا جہاں منتظر تھا۔ شروع میں سنسنی سی محسوس ہوتی تھی‘ جب وہاں بیٹھ کر اپنے سیاسی لیڈروں کی تقریریں سنتے۔ لگتا وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سب سچ ہے۔ ان کے دل میں قوم کا درد ہے۔ میرا اپنا مزاج اپوزیشن کا سا رہا ہے‘ لہٰذا سیاست میں اپوزیشن کے سیاستدان اچھے لگتے تھے۔ ہاؤس میں تقریریں سُن کر یوں لگتا تھا‘ ان سے زیادہ ملک کا خیرخواہ کوئی نہیں۔ اپوزیشن ‘جس میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ شامل تھے‘ کی باتوں سے سنجیدگی اور خلوص کی خوشبو آتی۔ ہم نئے نئے تھے لہٰذا ان پرانے کھلاڑیوں کی بات کو سنجیدگی سے لیتے تھے۔ ان کے نزدیک ہم صحافی بھی ایسی مخلوق تھے جو جنرل مشرف دور میں اسی (پرویز مشرف) حکومت کے خلاف ایک پاور فل اپوزیشن کا کردار کررہے تھے۔ 2002 ء سے 2007 ء تک کی پارلیمنٹ سے بہت کچھ سیکھا۔ جنرل مشرف رخصت ہوئے تو چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

پھر اچانک پتہ چلا یہ سب پاور میں جانے کے بہانے تھے۔ جو کچھ پانچ سال پیپلز پارٹی دور میں دیکھا اس کے بعد ہم سب نے ہاتھ باندھ لیے۔ سوچا بھی نہ تھا کہ سیاسی حکمران بھی عوام کے نام پر عوام کے ساتھ زیادتی کریں گے۔ پیپلز پارٹی کی کرپشن کے خلاف نعرہ مار کر نواز لیگ پاور میں آئی اور پھر پانچ سال تک جو ہاتھ دکھائے گئے ان سے سب کی چیخیں نکل گئیں۔ لاہور شہر کا حال دیکھ لیں‘ 26 کلو میٹر اورنج ٹرین کے لیے ڈھائی سو ارب روپے کا قرضہ لیا گیا۔ پورا لاہور کھود ڈالا اور آج سموگ کی وجہ سے لاہور میں انسان سانس نہیں لے پا رہا۔ یہ ہیں شہباز شریف کے دس سال۔

شریف خاندان اور زرداری خاندان اور ان کے حواریوں نے وہ ہاتھ دکھائے کہ ملک دلوالیہ ہونے کے قریب آگیا ہے۔ اب سمجھ نہیں آرہی‘ ہم کہاں جائیں۔ ایک حکومت آتی ہے۔ وہ ایسے مسائل چھوڑ جاتی ہے کہ بندہ کہیں کا نہیں رہتا۔ ہم پرانے سیاسی کھلاڑیوں کو چھوڑ کر نئے پر اعتبارکر کے اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں تو پتہ چلتا ہے‘ اس کا راستہ تو کچھ اور تھا۔ اب عمران خان بھی اسی صورتحال میں پھنس چکے ہیں جس میں ایک سال پہلے نواز شریف تھے۔ لیکن ایک بڑا فرق یہ ہے کہ عمران خان نے کم از کم خاموش رہنے کی بجائے سامنے آکر بات کی ہے‘ جس کی بڑی تعداد میں ان کے ناقدین تک نے تعریف کی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست کا زور دن بدن کم ہوتا جارہا ہے۔ لبیک تحریک کے فیض آباد دھرنے کے وقت عمران خان دھرنے والوں کے ساتھ کھڑے تھے تو آج نوازلیگ کے کچھ سابق وزرا کی ہمدردیاں احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر ہم کہاں جائیں۔ عوام کی اس بڑی تعداد کا کیا قصور ہے جو ان سب کے ساتھ کھڑے نہیں تھے۔ دوسرا دن ہے اور ملک بھر میں ہر طرف لوگ ذلیل ہو رہے ہیں ‘ لیکن کہیں پنجاب پولیس نظر نہیں آرہی۔ دو دن سے جلائو گھیرائو چل رہا ہے۔

پنجاب میں جو کچھ پولیس افسران کے ساتھ ہورہا ہے اس پر حیرانی ہوتی ہے۔ پہلے یہ کام ایس ایچ او صاحبان کے ساتھ ہوتا تھا ‘اب سینئر افسران کے ساتھ ہورہا ہے۔ پنجاب میں پولیس کو تباہ کرنے میں جو کسر رہ گئی تھی وہ اب بزدار حکومت پورا کررہی ہے۔ پہلے سنتے تھے صبح اگر ڈی پی او نے علاقے کے ایس ایچ او کو ٹرانسفر پوسٹ کیا تو اگلی صبح تک وہ ٹرانسفر آرڈر واپس ہوچکے ہوتے تھے۔ اب یہی سینئر افسران کے ساتھ ہورہا ہے۔ جب پرویز الٰہی نے سپیکر کا عہدہ سنبھالا تو کچھ لوگوں کو محسوس ہوا کہ اب دوبارہ سیاسی بنیاد پر بیوروکریسی کی ٹرانسفر پوسٹنگ شروع ہوجائے گی۔

ایک کے بعد دوسرا آئی جی تبدیل ہوا۔ آخر مرضی کے امجد سلیمی مل گئے‘ جو صبح کچھ پوسٹنگ کرتے ہیں اور شام تک سیاسی دبائو پر بدل دیتے ہیں۔ خیال تھا پرویز الٰہی، شہباز شریف کے زوال سے سیکھیں گے‘ لیکن ہم ایک دفعہ پھر غلط نکلے۔ پرویز الٰہی صاحب کو دس برس بعد موقع ملا ہے لہٰذا وہ بیوروکریسی میں اپنے وفاداروں کو دوبارہ بڑی پوسٹوں پر لانے کی کوشش کریں گے۔

اشتہار


پولیس کے ایک بہادر اور نیک نام افسر سہیل حبیب تاجک کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ‘ وہ افسوسناک ہے۔ حیبب تاجک کو ایک دن بہاولپور کا ریجنل پولیس افسر لگایا گیا اور دوسرے ہی دن انہیں ہٹا دیا گیا۔ پتہ چلا پرویز الٰہی صاحب نے خود بڑے صاحب کے پاس جا کر تاجک کو ہٹوایا۔ سہیل تاجک کے ساتھ جو کچھ ہوا ‘اس پر مجھے احسان صادق یاد آگئے ‘جن کے ساتھ شہباز شریف نے وہی کیا تھا‘ جو اب عثمان بزدار کے دور میں تاجک صاحب ساتھ کیا گیا ہے۔ کیا انقلاب صرف اپوزیشن کے دنوں تک محدود ہوتا ہے؟

شہباز شریف صاحب نے بیوروکریسی کو برباد کرنے کا کام شروع کیا۔ جب وہ لندن میں تھے تو فرماتے تھے : مجھے آنے دیں‘ پنجاب میں ایسا انقلاب لائیں گے کہ لوگ یاد رکھیں گے۔ جب وہ وزیراعلیٰ بنے تو ان کے بیانات کا پروپیگنڈا کرنے کا ٹھیکہ ایک ڈیم ایم جی افسر کو سونپا گیا۔اس افسر نے سب صحافیوں کو شہباز شریف کا منجن بیچنا شروع کر دیا کہ اب میرٹ پر اچھے افسران تعینات ہوں گے۔ احسان صادق جیسے اچھے افسر بھی ورلڈ بینک، اقوام متحدہ میں ڈالروں میں ملنے والی تنخواہیں چھوڑ کر پنجاب میں انقلاب لانے چل پڑے۔ احسان صادق کو اوکاڑہ کا ڈی پی او لگایا گیا اور تین ماہ میں اس افسر نے کرائم سترفیصد کم کر دیا۔ پھر پی ایم ایل ق کا ایک ایم پی اے اور دو آزاد ایم پی اے شہباز شریف سے ملے اور کہا کہ ہم آپ کی حکومت کو سپورٹ کریں گے‘ آپ احسان صادق کو ہٹا دیں۔ شہباز شریف نے ایک منٹ ضائع نہیں کیا اور ان کا انقلاب وہیں ٹھُس ہوگیا۔

اب بھی وہی کچھ ہورہا ہے۔ شہباز شریف گئے تو عثمان بزدار آگئے۔ بزدار صاحب بے چارے مفت میں بدنامی لے کر گھر جائیں گے‘ کیونکہ سب فیصلے پرویز الٰہی اور گورنر سرور کررہے ہیں۔ ایک صبح افسران کی پوسٹنگ ہوتی ہے‘دوسرا افسر بھاگ کر پرویز الٰہی صاحب کے پاس جاتا ہے اور اگلے دن اسے پہلے افسر کی جگہ لگا دیا جاتا ہے۔ ان پرانے گھاگ سیاستدانوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ پچھلے دس برسوں میں جو بیوروکریسی ان کے ہاتھ سے نکل کر شہباز شریف کے ہاتھ لگ گئی تھی‘ اب دوبارہ اسی ماڈل پر کیسے اپنی ایک علیحدہ فورس تیار کی جائے ‘جو ان کے اشارے پر کام کرے۔

کیا شہباز شریف صاحب نے اپنی مرضی کے بابوز پیدا کر کے اپنے لیے سہولتیں پیدا کر لیں؟ کیا شہباز شریف ماڈل ٹائون سے بچ گئے؟کیا سیاسی حکومت کا حق ہے کہ وہ جس کو چاہے تعینات کرے یا ہٹا دے ؟ احد چیمہ اور فواد حسن فواد کا کیا بنا؟ اگر فواد اور چیمہ بھی اپنے ضمیر پر قائم رہتے اور شہبازشریف بھی ایماندار افسران اپنے اردگرد رکھتے تو آج وہ شہباز شریف قومی اسمبلی میں یہ دہائیاں دیتے نہ پائے جاتے کہ انہیں دس فٹ کے کمرے میں قید رکھا گیا ہے۔ مجھے شہباز شریف کی دہائیاں سن کر ہندوستان کا آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر یاد آتا ہے‘ جسے کوئے یار میں دفن ہونے کو بھی زمین نہ ملی۔

یہ معاشرہ کیسے تباہ ہوا ؟ سیاستدانوں کے پسندیدہ بابوز اور پولیس افسران کی وجہ سے ہی یہ دن ہمیں دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ نواز شریف دور میں محمد علی نیکوکار اور آفتاب چیمہ کی جگہ نہیں بنتی تو اب تحریک انصاف کے دور میں سہیل تاجک جیسے افسران کی گنجائش نہیں رہ گئی۔ اگر شہباز شریف بھی دس سال اپنے بابوز اور پولیس افسران کو استعمال کر کے آج دس فٹ کمرے میں قید ہیں تو تسلی رکھیں ‘جو اس وقت دن رات بیوروکریسی کے ساتھ وہی کھیل کھیل رہے ہیں‘ جو پہلے کھیلا جاتا رہا ‘ تو نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو شہباز شریف، احد چیمہ اور فواد حسن فواد کے معاملے میں نکلا ہے۔ نہ شہباز شریف نے سیکھا تھا اور نہ ہی پنجاب کے موجودہ حکمران سیکھیں گے۔

مجھے ترس اپنے سرائیکی بھائی عثمان بزدار پر آرہا ہے۔ کسی گھر میں ایک بندر اور گھوڑا تھا۔ بندر رات کو کچن میں جا کر آٹا کھا جاتا اور واپسی پر کچھ آٹا لا کر گھوڑے کے منہ پر مل دیتا۔ صبح مالک اٹھ کر چابک کے ساتھ گھوڑے کو مارتا کہ بدبخت تو آٹا کھا گیا۔ بندر دور بیٹھ کر دانتوں میں خلال کررہا ہوتا تھا۔ وہی کچھ میرے پیارے بزدار کے ساتھ ہورہا ہے۔ پنجاب کی پگ اور سٹائل شہباز شریف سے پرویز الٰہی کے سر پر منتقل ہوگئی ہے‘ جبکہ چابک بے چارے بزدار کو پڑ رہے ہیں۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں