orya-maqbool-jan-column

دو عورتوں کی لڑائی

پاکستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جس کی زندگی کا مشن یہ ہے کہ مسلمان‘ پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کا چھوٹا سا موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دینایہ وہ بدترین متعصب لوگ ہیں جن کے اندر موجود تعصب کی بو اور تعفن سے میرا ملک بدبودار ہے۔ کوئی دودھ میں پانی ملائے‘ ٹریفک کا اشارہ کاٹے‘ برادے کو رنگ کر کے مرچیں یا چائے بنائے‘ یہ طبقہ خواہ کالم نگار ہو‘ اینکر پرسن یا عام شہری‘ اس کے منہ سے پہلے الفاظ یہ نکلتے ہیں ’’یہ مسلمان ہیں ہی ایسے‘ اسی لیے پاکستان بدنام ہے۔ یہ ہے ان کا اسلام‘‘ یہ لوگ بڑی محنت سے اعداد و شمار ڈھونڈتے ہیں کہ پاکستان میں نمازی کتنے ہیں‘ حج اور عمرہ میں کتنے لوگ جاتے ہیں اور پھر کس قدر بددیانتی اور تعصب سے اس کا جوڑ بددیانتی اور کرپشن سے جوڑتے ہیں کہ دیکھو ہم عمرے پر جانے والے بھی زیادہ ہیں اور بددیانت بھی زیادہ۔ اس سے یہ مکار لکھاری یہ تاثر پیدا کرنا چاہتے جیسے ہر عمرے اور حج پر جانے والا بددیانتی کرتا ہے۔ ان کی گفتگو اور تحریر میں یہ موازانہ کیوں نہیں ہوتا کہ پاکستان میں بھارت کو چھوڑ کر باقی تمام علاقائی ممالک‘ ایران‘ افغانستان‘ سری لنکا‘ نیپال ‘ بنگلہ دیش ‘ تاجکستان‘ چین‘ ترکمانستان سے زیادہ صحافت پھل پھول رہی ہے۔ سب سے زیادہ چینل یہاں ہیں‘ سب سے زیادہ کالم نگار‘ اینکر پرسن‘ صحافی یہاں ہیں اور دیکھو سب سے زیادہ بددیانت بھی ہم ہیں۔ یہ ایک دم جواب دیں گے ان دونوں کا کوئی آپس میں جوڑ ہے۔ لیکن کسی بددیانتی سے یہ متعصب لکھاری اس مقدس حج اور عمرے کے سفر کو بددیانتی‘ چور بازاری سے جوڑ دیتے ہیں۔ یہ اس معاملے میں اس قدر چالاک ہیں کہ کسی مسلک ‘ فرقے سے بالاتر بات کریں گے تاکہ کوئی ان کا گریبان نہ تھام لے۔ مثلاً لاکھوں لوگ ہر سال کربلا‘ اور مشہد جاتے ہیں۔ لاکھوں لعل شہباز قلندر کے مزار اور داتا گنج بخش کے عرس پرجاتے ہیں۔لیکن چونکہ گالی مجموعی طور پر اسلام کو دینا مقصود ہے اس لئے حج اور عمرہ کا ذکر کیا جاتا ہے ۔اب ذرا ملاوٹ ‘ مسلمان اور اسلام کے تعلق کی بات کر لیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے جو 125ممالک کی خوراک کی کوالٹی ‘ مقدار اور استطاعت کے حساب سے لسٹ نکالی ہے ان میں 27ملک پاکستان سے نیچے ہیں جن میں بھارت بھی شامل ہے کیا کسی سیکولر‘ لبرل اور اسلام دشمن دانشور اور صحافی نے کہا کہ یہ لوگ ہر سال کروڑوں کی تعداد میں ہر دوار ‘ بنارس اور کنبھ جاتے ہیں‘ یہ کیسے ہندو ہیں کیا ان کا بھگوان انہیں یہ سکھاتا ہے ؟جو 27ملک پاکستان سے نیچے ہیں ان میں سے صرف ایک ملک بنگلہ دیش مسلمان ہے‘ باقی سب عیسائی اکثریت رکھتے ہیں کوئی سیکولر‘ لبرل بولاکہ یہ جو کروڑوں لوگ ہر سال ویٹی کن سٹی میں پوپ کی زیارت کو جاتے ہیں یہ سب ملاوٹ کی بنیادی وجہ ہیں‘ یہی نہیں خوراک کی کوالٹی‘ مقدار اور استطاعت کے اعتبار سے جو ملک اعلیٰ مقام رکھتے ہیں ان میں لاتعداد مسلم ممالک کویت‘ ملائشیا‘ سعودی عرب‘ ایران‘ تیونس اور مراکش شامل ہیں۔لیکن ان دانشوروں کے منہ سے ایک لفظ تعریف کا برآمد ہوا البتہ اگر یہ کوئی برائی دیکھیں گے تو فوراً ان کے قلم حرکت میں آ جائیں گے اور ان کی زبانیں قینچی کی طرح چلنا شروع ہو جائیں گی۔ آسیہ مسیح کے فیصلے کے بعد جب اس ملک میں احتجاج شروع ہوا تو یہی لوگ ہیں جو مشرف کے زمانے سے اس لت کا شکار ہو چکے ہیں کہ ریاست کو بھڑکا کر لال مسجد گروا دو۔ ہر مذہبی آدمی کو مشکوک کر کے لاپتہ کروا دو اور ریاست کے ڈنڈے سے اپنی مکروہ عصبیت اور بغض کو نافذ کروائو۔ یہی ہتھیار انہوں نے عمران خان کے ساتھ استعمال کیا اور محترم وزیر اعظم نے وہ تقریر کر دی جیسی تقریر دنیا بھر میں سربراہان مملکت اس وقت کرتے ہیں جب ملک میں انارکی اس درجہ پر پہنچ جائے کہ حالات کسی اور صورت کنٹرول نہ ہو سکیں۔ جیسے ہی عمران خان کی یہ تقریر نشر ہوئی۔ وہ دانشور‘کالم نگار ‘ اینکر پرسن جو گزشتہ دس سالوں سے عمران خان کو گالیاں دے رہے تھے ایک دم اس کے مداح ہو گئے۔ جنہوں نے گزشتہ کئی سالوں سے عدلیہ اور ججوں کو بدنام کرنے‘ انہیں جانبدار ثابت کرنے کا ٹھیکہ لیا ہوا تھا‘ سب کی نظروں میں سپریم کورٹ ہیرو ہو گئی۔ اس دوران ایک فقرہ بہت زیادہ پھیلایا گیا کہ ’’یہ دو عورتوں کی لڑائی تھی جس نے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ہم کیسی قوم ہیں‘‘ یہ فقرہ جو مجھے سنایا جاتا ہے وہ یورپی یونین کے 29ممالک کو کوئی کیوں نہیں سناتا کہ جنہوں نے اس سال جنوری میں یہ اعلان کیا تھا کہ ہم پاکستانی مصنوعات خریدنے کے لیے جو GSP(Generalized system of prefrences)نہیں دیں گے اگر دو عورتوں کی لڑائی میں آسیہ بی بی کے کیس میں کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی۔
اشتہار



یورپی کمیشن کے صدر نے 6مئی 2014کو جان فجل(Jan Figel)کو ’’بیرون از یورپی یونین مذہبی آزادی کی ترویج‘‘ (Promotion of Freadom for Religian out side EU)کا خصوصی نمائندہ مقرر کیا۔ وہ جنوری 2018ء میں پاکستان آیا اور اس نے کہا کہ وہ یورپی یونین کی طرف سے صرف ایک نکاتی ایجنڈا لے کر آیا ہے کہ تمہاری تجارت آسیہ کی رہائی سے مشروط ہے۔ ان دو عورتوں کی لڑائی نے جمہوریت کی ماں برطانوی پارلیمنٹ کو کیسے یرغمال بنا لیا کہ برطانیہ کی وزیر اعظم نے دنیا بھر کے ان افراد کا شکریہ ادا کیا جو آسیہ کی رہائی کے لیے تحریک چلا رہے تھے ۔فرانس کے شہر پیرس میں ایفل ٹاور سے تھوڑے فاصلے پر ان کے میئر کا دفتر ہے۔ وہاں گزشتہ سات سالوں سے ایک قد آدم پوسٹر آویزاں ہے جو رات کی روشنی میں بھی چمکتا ہے جس پر آسیہ بی بی کی رہائی کا مطالبہ ہے۔ ان دو عورتوں کی لڑائی نے کیسے کیسے سیکولر ‘ لبرل ‘ مہذب اور ترقی یافتہ ممالک کا بھی دماغ خراب کیاہے کہ وہ جو سب کچھ چھوڑ کر اس لڑائی میں شریک ہیں۔ میرے ملک کے یہ دانشور ان کو جا کر کیوں نہیں سمجھاتے کہ پاگل ہو گئے ہو ‘دو عورتوں کی لڑائی ہے اور خوامخواہ بین الاقوامی تعلقات بھی خراب کر دیے اور اپنا وقت بھی ضائع کر رہے ہو لیکن مسئلہ یہ ہے کہ گالی صرف مسلمان‘ اسلام اور پاکستان کو دینی ہوتی ہے اور اسی سے بہت ساروں کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑتی ہے اور دل کو سکون ملتا ہے۔ اسلام‘ مسلمان اور پاکستان کو بدنام کرنے کا ٹھیکہ لئے ہوئے ان دانشوروں کے سامنے اس فیصلے سے تین دن قبل مذہبی تعصب کی بنیاد پر دہشت گردی کا ایک واقعہ آیا۔27اکتوبر کو ایک متعصب عیسائی رابرٹ گریگوری بورزRobert Grogary Bowersنے یہودیوں کی عبادت گاہ پٹس برگ Pits Bergامریکہ میں گھس کر فائرنگ کی اور گیارہ یہودیوں کو ہلاک اور باقیوں کو زخمی کر دیا۔ وہ اس دن یوم سبت کی عبادت کر رہے تھے۔ نہ یورپ کے کسی ملک میں پرچم سرنگوں ہوا اور نہ بگ بین اور ایفل ٹاور پر یکجہتی کے لیے خاص روشنیاں جلائی گئیں اور نہ ہی کوئی دانش ور چیخا کہ امریکی ریاست کی رٹ کہاں ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سب قتل و غارت میڈیا کی لگائی گئی آگ کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ جس آگ میں ڈونلڈ ٹرمپ نہیں کودا میرے ملک کا یہ طبقہ اس میں عمران خان کو کودنے کا مشورہ دے رہا ہے کیا یہ معاملہ اتنا سادہ ہے کیا یہ صرف دو عورتوں کی لڑائی ہے۔ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ جس پاکستان کو عمران خان اپنی پوری خواہش‘ میڈیا سپورٹ اور پراثر شخصیت کے باوجود جام کرنے کا خواب پورا نہ کر سکے صرف ایک فیصلے کے اعلان کے چند گھنٹوں کے اندر بغیر کسی اعلان بغیر کسی میڈیا سپورٹ پورا ملک جام ہو گیا تھا‘ کیا صرف دو عورتوں کی لڑائی اس کی وجہ تھی۔ خان صاحب معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے سنبھل کے‘ جو لوگ آج آپ کو اکسا رہے ہیں کل یہی آپ پر انگلیاں اٹھائیں گے۔
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں