کراچی سے 10 سال کی عمر میں اغوا ہونے والی ام حبیبہ کے والدین مل گئے

سکھر: کراچی سے 2014 میں 10 سال کی عمر میں اغوا ہونے والی لڑکی ام حبیبہ کے والدین آخرکار مل ہی گئے۔

واضح رہے کہ ام حبیبہ گزشتہ 4 سال سے سکھر کے دارالامان میں اپنے پیاروں کی منتظر تھی۔ اس کے اغوا کار چار سال قبل ہی باعزت طور پر بری ہوگئے لیکن عدلیہ، پولیس اور انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ اداروں کی مجموعی ناکامی کی قیمت امہ حبیبہ کے بچپن نے ادا کی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے رواں سال جولائی میں دارالامان کے دورے کے دوران بچی کے والدین کو نہ ڈھونڈنے پر متعلقہ اداروں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ امہ حبیبہ کے والدین کی تلاش کے لیے فوری طور پر اخبارات میں اشتہارات دیئے جائیں اور بچی کو ہر حال میں اس کے والدین تک پہنچا کر رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

جس کے بعد حال ہی میں سکھر پولیس نے کراچی کے علاقے قصبہ موڑ، کٹی پہاڑی کی رہائشی امہ حبیبہ کی والدہ کو تلاش کرکے انہیں سکھر کے دارالامان میں موجود ان کی بیٹی سے ملوایا۔

ماں کو دیکھتے ہی ام حبیبہ نے اسے گلے لگالیا اور دونوں فرط جذبات سے رو پڑیں۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ام حبیبہ کا کہنا تھا کہ مجھے ماں باپ مل گئے میں ان کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔

دوسری جانب ام حبیبہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کی ایک نہیں، ایک ساتھ تین بیٹیاں گم ہوئیں تھیں، باقی 2 بیٹیاں نہ جانے کس حال میں ہوں گی، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ حبیبہ تو مل گئی۔

اس حوالے سے ایس ایس پی سکھر اسد رضا نے بتایا کہ ام حبیبہ کیس پولیس، عدلیہ اور محکمہ داخلہ کے لیے ایک چلینج بنا ہوا تھا اور اس سلسلے میں عدالت عالیہ نے6 ماہ قبل از خود نوٹس بھی کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں