اسرائیلی فضائی حملہ، خاندان کا آخری زخمی بچہ بھی جاں بحق

غزہ: فلسطین میں اسرائیلی فضائی حملے سے 4 برس قبل زخمی ہونے والا نوعمر بچہ جاں بر نہ ہو سکا۔

پریس ٹی وی میں شائع رپورٹ کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے تصدیق کی کہ 14 سالہ محمد الرافی ہفتے کی صبح انتقال کرگیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے جنگی جہازوں نے محمد الرافی کے گھر کو نشانہ بنایا تھا جس میں محمد الرافی کو انتہائی تشویش ناک حالت میں اسپتال پہنچایا گیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق محمد الرافی کی ریڑھ کی ہڈی میں گہرا زخم ہوا تھا جس کے نتیجے میں اس کا پورا جسم ناکارہ ہو گیا تھا اور وہ گزشتہ 4 برس سے مصنوعی نظام تنفس (وینٹیلیٹر) پر تھا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حملے میں محمد الرافی کے والد، بھائی اور اس کے 4 کزن جاں بحق ہو گئے تھے۔

اسرائیل نے جولائی 2014 کو غزہ پٹی پر جنگ شروع کردی تھی جو 50 دن تک جاری ہی اور اس میں 577 بچوں سمیت تقریباً 2 ہزار 200 فلسطینی جاں بحق ہو گئے تھے۔

اسرائیلی جنگی جنوں کے نتیجے میں تقریباً 3 ہزار 374 بچے، 2 ہزار 88 خواتین اور 410 عمررسیدہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

خیال رہے کہ غزہ پٹی جون 2007 سے اسرائیل کے قبضے میں ہے جہاں معیار زندگی بری طرح متاثر ہے۔

اسرائیل نے سرحد کو بند کرکے غزہ کو دنیا سے منقطع کر رکھا ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ حماس کو تنہا کرنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے جبکہ 2008 سے اب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان 3 جنگیں بھی لڑی جاچکی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے علاقے میں رہائش پذیر 20 لاکھ افراد کو مشترکہ سزا دی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے ایک ہفتے پرتشدد احتجاج اور جھڑپوں کے بعد گزشتہ روز صرف عام شہریوں کو غزہ جانے کے لیے سرحد مکمل طور پر کھول دی تھی۔

اسرائیلی وزیر دفاع ایویگدور لیبرمین کا کہنا تھا کہ پرامن رہنے کی شرط پر سرحد کو کھولا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں