Orya-Maqbool-Jan

زمین میں آفتاب دفن کردیا

ساری زندگی ان کے سامنے مؤدب کھڑے ہو کر گزار دو، رات دن ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت کی دعائیں کرتے رہو لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ ان کے احسانات کا قرض نہیں اتر سکے گا۔ ہدایت کے راستے پر انگلی پکڑ کر کھڑا کرنے کا احسان اتنا بڑا ہے کہ میں اس شخص کی تعریف میں عمر بھر بھی لکھتا رہوں تو یہ قرض ادا نہ ہو سکے۔ یقینا انسان ناشکرا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ’’لایشکراللہ من لا یشکرالناس، جو انسانوں کا شکرگزار نہیں ہوتا، وہ اللہ کا شکرگزار نہیں ہوسکتا (بخاری، ترمذی، ابودائود)۔ یہاں معاملہ یہ آن پڑا ہے کہ مجھے جس شخص کے اس دنیا سے گزر جانے کا نوحہ لکھنا ہے، وہ تو مجھے اللہ کے شکر گزار ہونے کے راستے پر ڈالنے والا تھا۔ یوں لگتا ہے زمین میں ایک آفتاب کو دفن کردیا۔ جلالپور جٹاں کی خاک کس قدر معتبر ہے کہ جب تک وہ شخص اس زمین پر چلتا رہا، ہدایت کے چراغ روشن کرتا رہا اور پھر اسی زمین کی تاریکیوں میں اپنے ایمان کی روشنی لے کر روز حشر ایمان کی روشنی سے مزین چہرے کے ساتھ اٹھنے کے لیے ابدی نیند سو گیا، ایسی نیند جو ہم سب کا مقدر ہے۔ مدینہ میں جنت البقیع میں پہلے مدفون صحابی سیدنا عثمان بن مظعون کو رسول اکرم ﷺ دفن کرنے لگے تو رونے لگ گئے، اتنا روئے کہ آپ کے آنسو سیدنا عثمان کی گال پر بہنے لگ گئے، آپ نے ان کی گال پر بوسہ دیا اور ارشاد فرمایا ’’ اے ابو سائب! تم اس دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ تم نے اس کی کسی چیز سے تعلق نہ رکھا۔‘‘ فرمایا، ’’تم ہم سے پہلے اللہ کے حضور جانے والوں میں ہو اور ہم سب بھی تمہارے بعد اسی راستے کے مسافر ہیں۔‘‘ سب اس زمین پہ خاک میں جانے کو آئے ہیں لیکن خوش نصیب وہ ہیں کہ زمین جنہیں آغوش میں سمیٹتے ہوئے فخر کرے، انبساط سے جھوم اٹھے۔ شیخ ظہور احمد… کتنے لوگ ہیں جو اس ملک میں اس شخص کو جانتے ہوں گے لیکن کتنے ایسے میری طرح کے بھٹکے ہوئے، گم گشتہ راہ نوجوان تھے جنہوں نے شیخ صاحب کے حلم، علم، فہم سے ہدایت کا راستہ پایا اور آج ان کی ہر نیکی شیخ صاحب کے اعمال کے ترازو میں مسلسل اضافہ کر رہی ہوگی۔ بہت کم لوگ اس کشمیری شیخ کی جادو بھری شخصیت کو جانتے ہیں۔ علامہ اقبال کو جب سر کا خطاب دیئے جانے لگا تو انہوں نے کہا سب سے پہلے میرے استاد مولوی میر حسن کو شمس العلماء کا خطاب دو، پھر میں سر کا خطاب لوں گا کیونکہ آج میں جو کچھ ہوں اس مسجد کے چٹائی نشین استاد مولوی میر حسن کی بدولت ہوں۔ اس سے پہلے کوئی میر حسن کو نہیں جانتا تھا لیکن سیالکوٹ کے محلے کی مسجد کا یہ استاد آج دنیا بھر میں اس حوالے سے جانا جاتا ہے کہ اگر اس کا علم اور تربیت نہ ہوتی تو آج اقبال ہمارے سامنے ایسے جلوہ گر نہ ہوتے۔ میری کیا نسبت اور کیا قیام کہ میں اقبال سے موازنہ بھی اپنا کر سکوں، لیکن اگر شیخ ظہور احمد کی ذات نہ ہوتی تو میں آج الحاد کی بھول بھلیوں میں گم ہوتا، کسی انقلابی تحریک کا ایندھن بن گیا ہوتا یا پھر سوویت یونین کی موت کے بعد کسی این جی او کے فرد کی حیثیت سے امریکہ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو کر تشکر کی موم بتیاں جلا رہا ہوتا۔ ایسا شخص تو میرے لیے مولوی میر حسن سے بھی زیادہ محسن اور معتبر ہے۔ کیا سفر تھا۔ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سوائے اللہ کے کرم اور مہربانی کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ میرے والد بہت پریشان تھے۔ مولوی خدا بخش کا پوتا، وہ مولوی خدا بخش جسے مرشد نے حکم دیا کہ مکیریاں میں اپنی کئی مربعے زمین اور جائیداد چھوڑو، مسجد و مدرسہ کسی اور کے سپرد کرو اور اپنے بھائی مولوی احمد بخش کے ساتھ جا کر امرتسر میں مسجد خیرالدین کی بنیاد رکھو۔ 1870ء میں جس مسجد کی بنیاد رکھی، آج اسی کے دروازے پر دفن ہیں۔ وہی مسجد جس میں عطاء اللہ شاہ بخاری اور انور شاہ کشمیری جیسے خطابت اور علم کا جوہر دکھاتے رہے۔ وہ دادا جس کے ہاتھ پر علامہ اقبال کے دوست اور اسلامیہ کالج کے پرنسپل مولوی حاکم علی نے اسلام قبول کیا۔ مکیریاں کے سردار پنجاب سنگھ کا بیٹا حاکم سنگھ مولوی حاکم علی بن گیا۔ جسے بیک وقت علامہ اقبال اور مولانا احمد رضا خان کی محبت اور صحبت حاصل رہی۔ اس دادا کا پوتا جس کا نام باپ نے ’’اوریا‘‘ رکھا کہ عبرانی میں اسی کا مطلب ’’اللہ کا نور‘‘ ہے، ملحد ہو گیا ہے جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا، اس ہستی کے وجود سے منکر ہوگیا ہے اور وہ بھی صرف بارہ سال کی عمر میں میٹرک کے امتحان کے بعد جو چند ماہ فرصت کے ملے اس میں اپنے زمانے کے مقبول فلسفے کمیونزم کا مطالعہ کیا،
اشتہار



ڈ ارون کی تھیوری اور کارل مارکس اور اینگلز کی کتابوں کا خمار ایسا تھا کہ دنیا بدلنے کی دھن سر پر سوار ہو گئی۔ کالج میں داخلہ، ایک دو استاد ایسے ملے جو فلسفہ اور نفسیات پڑھاتے تھے، انہوں نے دلیلوں کی بھول بھلیوں میں خدا کے وجود سے انکار کا بیج بو دیا۔ والد پریشان رہتے، متذبذب، میرے طرف دیکھتے اور پھر آسمان کی جانب منہ کر کے میری ہدایت کی دعا فرماتے، بس اتنا کہتے، تم بھٹک لو، جتنا بھٹکنا چاہتے ہو، واپس آئو گے، اس لیے کہ میں نے تمہیں درود پاک کی لوریاں دے کر پالا ہے۔ والد صاحب کے لہجے کا تیقن اور دعائوں پر اعتماد مجھے عجیب لگتا تھا۔ یہ زمانہ تھا جب تمام انقلابی، کمیونسٹ انقلاب لانے کے لیے پیپلزپارٹی میں جمع تھے۔ بھٹو کی شکل میں انہیں مائوزے تنگ نظر آتا تھا، میں بھی ان میں شامل تھا۔ الیکشن نزدیک آئے تو بھٹو کی ساری سیاست جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی چوکھٹ کے سامنے سجدہ ریز ہو گئی۔گجرات کے سرمایہ دار مشتاق پگانوالہ کو پارٹی کا صدر بنایا تو عثمان فتح کی قیادت میں ہم انقلابیوں کا سارا قافلہ بھٹو کو خیرآباد کہہ گیا۔ اسی دن گجرات کے زمیندارہ بینک کے ہال میں پرویز کا لیکچر تھا جیسے آج کا سیکولر غامدی صاحب کو پسند کرتا ہے، ویسے اس دور کے انقلابی پرویز کو پسند کرتے تھے۔ الیکشن ہوا، ملک دو لخت ہوگیا، وہ رات مجھ پر بڑی قیامت کی تھی۔ اس شکست نے لگتا تھا مجھ پر بہت اثر کیا، جس کی میں خود وجہ آج تک سمجھ نہ سکا۔ بھٹو نے بنگلہ دیش کو منظور کرنے کی مہم شروع کی تو اسی وقت صرف جماعت اسلامی بنگلہ دیش نامنظور مہم چلا رہی تھی۔ سرکلر روڈ پر جماعت اسلامی کے دفتر کی سیڑھیاں میں نے کیا چڑھیں، دنیا ہی بدل گئی۔ بنگلہ دیش نامنظور مہم کے جلسوں جلوسوں میں جاتا لیکن الحاد پر قائم تھا۔ میرے ایک اور محسن سید محمود ضیغم اسی دفتر میں ’’الحدید‘‘ اخبار نکالتے تھے۔ ان کے دفتر میں بیٹھ کرجماعت اسلامی اس کے نظریے اور مولانا مودودی پر بے نقط سناتا اور وہ مسکراتے ہوئے کہتے، تمہارے لیے چائے منگوائی ہے۔ اس مسکراہٹ میں اس خوبصورت کشمیری شیخ ظہور احمد کی مسکراہٹ ایک دن شامل ہو گئی۔ گفتگو سے میرا مرض بھانپ گئے، سمجھ گئے فلسفے نے بگاڑا ہے۔ مولانا مودودی کے دو مضامین پڑھنے کو دیئے، ایک ’’عقلیت کا فریب‘‘ اور دوسرا ’’سلامتی کاراستہ‘‘۔ پتہ نہیں مجھے کیا ہوا کہ میں مضمون پڑھتا جاتا تھا اور آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی تھی کہ بہے جا رہی تھی۔ اگلے دن میں اس کشمیری شیخ کے خوبصورت چہرے کی زیارت کو بے تاب تھا، میری دنیا بدل چکی تھی۔ میرے جیسے چراغوں کا اس سورج کے سامنے کیا جلنا۔ یوں تو سب کا مقدر یہ خاک ہے لیکن اس روشن چہرے والے شیخ ظہور کو زمین نے کسی سرخوشی سے قبول کیا ہوگا۔ عمر بھر جس شخص کے لیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے رکھوں تو احسان ادا نہ ہو سکے۔ چشم تصور میں سوچتا ہوں کہ جب والد گرامی کی روح شیخ صاحب کا استقبال کرنے کے لیے بڑھی ہو گی تو شاید پہلا فقرہ یہ ہوگا، آپ کا شکریہ قرض تھا، آپ نے میرے بیٹے کو گمراہی کے تاریک غار سے نکالا۔
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں